رموز بے خودی

می گشایم عقده از کار حیات

می گشایم عقده از کار حیات

سازمت آگاه اسرار حیات

ترجمہ

میں زندگی کے معاملے کی گرہ کھولتا ہوں اور تجھے زندگی کے رازوں سے آگاہ کرتا ہوں۔

تشریح

اس شعر سے اقبال ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہیں اور آغاز ہی میں بتا دیتے ہیں کہ اب گفتگو سطحی نہیں رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیات کے کام کی گرہ کھولتا ہوں اور تجھے اسرارِ حیات سے آگاہ کرتا ہوں۔ گویا شاعر خود کو ایک ایسے رہنما کی جگہ پر رکھتا ہے جو محض وعظ نہیں کر رہا بلکہ پیچیدہ حقیقت کی گرہ کشائی کر رہا ہے۔ “عقدہ” کا لفظ یہ واضح کرتا ہے کہ زندگی کوئی سادہ، یک رخا اور سیدھی لکیر والا معاملہ نہیں۔ اس میں پیچیدگی بھی ہے، باطنی نظم بھی، حرکت بھی، اور ایسے راز بھی ہیں جو ظاہر کو دیکھنے سے فوراً نہیں کھلتے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ قاری محض واقعات، رسوم یا ظاہری ڈھانچوں کو نہ دیکھے بلکہ اس زندگی بخش باطن تک پہنچے جہاں سے فرد اور ملت دونوں کی حرکت پیدا ہوتی ہے۔

یہ شعر پوری آنے والی بحث کے لیے تمہید بھی ہے۔ اس حصے کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ ملی حیات کو ایک محسوس مرکز چاہیے اور ملتِ اسلامیہ کا مرکز بیت الحرام ہے۔ مگر اقبال اس بڑے نتیجے پر فوراً نہیں پہنچتے۔ وہ پہلے خود “حیات” کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جب تک زندگی کی اصل نوعیت واضح نہ ہو، تب تک یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے مرکز کیوں چاہیے، سمت کیوں چاہیے، اور اس کی وحدت کس طرح قائم رہتی ہے۔ اس لیے یہ شعر فکری دروازہ کھولتا ہے: پہلے حیات کی گرہ سمجھو، پھر اس کے نظام کو پہچانو۔

عقدہ کھولنے کا انداز:

اقبال کے ہاں گرہ کشائی کا مطلب محض فلسفیانہ تعریف دینا نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے راز کو ایسی مثالوں، ایسی حرکتوں، اور ایسی تمثیلوں سے کھولتے ہیں جو دل اور عقل دونوں پر اثر ڈالیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ میں عقدہ کھولتا ہوں تو اس میں اعتماد بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اعتماد اس لیے کہ شاعر خود اس حقیقت تک پہنچا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ذمہ داری اس لیے کہ وہ قاری کو بھی محض سامع نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے شعوری سفر میں شریک کر لیتا ہے۔

یہاں ایک تربیتی سبق بھی ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کو یا تو اتنا آسان سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں سنجیدہ سوچتے ہی نہیں، یا اتنا الجھا ہوا سمجھتے ہیں کہ اس سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ اقبال دونوں راستے بند کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں گرہ ہے، مگر کھل سکتی ہے۔ اس میں راز ہیں، مگر سمجھ میں آ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آدمی بیدار ذہن کے ساتھ اس کی طرف آئے۔

اسرارِ حیات کیا ہیں:

“اسرارِ حیات” سے مراد وہ اصول ہیں جن سے زندگی کی حرکت، بقا، نمو، وحدت اور سمت سمجھ میں آتی ہے۔ اقبال کے نزدیک حیات محض سانس لینے یا جسمانی حرکت کا نام نہیں۔ فرد کی خودی، قوم کی اجتماعیت، تاریخ کی روانی، تہذیب کی تعمیر، اور ایمان کی حرارت یہ سب حیات کے دائرے میں داخل ہیں۔ اس لیے اس کے اسرار بھی وسیع ہیں۔ اگر انسان ان اصولوں سے ناواقف رہے تو وہ صرف واقعات کے دھارے میں بہتا رہتا ہے، مگر اگر وہ ان رازوں کو سمجھ لے تو وہ اپنی ذات اور اپنی ملت دونوں کو نئے شعور کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے۔

اس مقام پر اقبال گویا قاری سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی نگاہ کو بلند کرے۔ روزمرہ کی تھکن، وقتی سیاست، ذاتی رنجشیں، اور چھوٹے چھوٹے مفادات زندگی کی پوری حقیقت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ زندگی چلتی کیسے ہے، سنورتی کیسے ہے، بکھرتی کیسے ہے، اور جمع کیسے رہتی ہے۔ یہی اسرار ہیں جن کی طرف اب توجہ دلائی جا رہی ہے۔

فرد سے ملت تک:

اس شعر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اقبال فردی حیات اور ملی حیات کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھتے۔ جو اصول ایک زندہ فرد میں کارفرما ہوتے ہیں، انہی کی بلند اور اجتماعی صورت ایک زندہ ملت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے زندگی کے راز کو سمجھنا صرف ذاتی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بیداری کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر قوم کے افراد زندگی کو جمود سمجھ بیٹھیں تو ملت کمزور ہو جاتی ہے، اور اگر وہ زندگی کو محض بکھری ہوئی حرکت سمجھیں تو اس کی وحدت ٹوٹ جاتی ہے۔

اقبال اس پوری بحث کے ذریعے یہ زمین ہموار کرتے ہیں کہ بعد میں جب وہ مرکز، بیت الحرام، اور ملی وحدت کی بات کریں تو وہ کوئی جداگانہ سیاسی نکتہ نہ لگے بلکہ حیات کے فطری قانون کی تکمیل محسوس ہو۔ گویا مرکز کی ضرورت کسی بیرونی حکم سے نہیں، خود زندگی کی ساخت سے نکلتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر حیات کا شعور کم ہے۔ ہم خبر سنتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں، کامیابی اور ناکامی کے چھوٹے پیمانوں میں الجھتے ہیں، مگر زندگی کے بڑے اصول کم سوچتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر دعوت دیتا ہے کہ ہم زندگی کو دوبارہ سنجیدگی سے سمجھیں۔ اپنی ذات میں بھی دیکھیں کہ ہماری حرکت کا اصل منبع کیا ہے، اور اپنی اجتماعی زندگی میں بھی پوچھیں کہ ہمیں بکھرنے سے کون بچاتا ہے۔

یہ شعر ایک فکری وقار پیدا کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مسلمان کے لیے زندگی کا مطالعہ محض دنیاوی تدبیر نہیں، ایک روحانی اور تہذیبی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم حیات کے راز سمجھ لیں تو بہت سی الجھنیں خودبخود اپنی جگہ پر آ سکتی ہیں۔ اسی لیے اقبال نے آغاز ہی عقدہ کشائی سے کیا ہے، تاکہ ہم سطح سے باطن کی طرف سفر شروع کریں۔

مثال

جیسے کسی پیچیدہ مشین کا بٹن دبا دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندرونی نظام کو سمجھنا پڑتا ہے، ویسے ہی زندگی کو صحیح طرح برتنے کے لیے اس کے باطنی اصولوں کو جاننا ضروری ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کا دروازہ کھولتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حیات ایک پیچیدہ مگر قابلِ فہم حقیقت ہے، اور فرد و ملت دونوں کی تعمیر اسی وقت درست ہوگی جب ہم اس کے اسرار کو سمجھیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button