رموز بے خودی

آنکه مهتاب از سر انگشتش دونیم

آنکه مهتاب از سر انگشتش دونیم

رحمت او عام و اخلاقش عظیم

ترجمہ

وہ ہستی جس نے اپنی انگلی کے اشارے سے چاند کو دو حصے کر دیا، اس کی رحمت عام ہے اور اس کے اخلاق نہایت عظیم ہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ایک بہت گہری نسبت قائم کرتے ہیں۔ وہ اس ہستی کا ذکر کرتے ہیں جس کے اشارے سے مہتاب شق ہو گیا، مگر اسی کے ساتھ فوراً یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی رحمت عام ہے اور اس کے اخلاق عظیم ہیں۔ گویا اصل کمال صرف معجزہ دکھانا نہیں، بلکہ قوت کے ساتھ رحمت اور رفعت کے ساتھ اخلاق کا جمع ہونا ہے۔ اقبال کے نزدیک نبوی عظمت اسی جامعیت میں ہے۔ اگر کوئی صرف قدرت کو دیکھے اور رحمت کو نہ سمجھے تو اس نے آدھی حقیقت دیکھی۔ اور اگر کوئی صرف نرمی کو دیکھے مگر اس کے پیچھے موجود الہامی اقتدار کو نہ پہچانے تو وہ بھی مقامِ محمدی کی پوری شان تک نہیں پہنچتا۔

یہاں “مہتاب” اور “انگشت” کی تمثیل ایک طرف معجزے کی شان پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی برتری شور، جبر اور نمود سے ثابت نہیں ہوتی۔ جو ہستی انگلی کے اشارے سے چاند کو دو نیم کر سکتی ہے، وہی ہستی خلق کے ساتھ سب سے زیادہ نرم، حلیم اور مہربان بھی ہے۔ یہی وہ توازن ہے جسے اقبال امت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ قوت اگر نبوی ہو تو وہ مغرور نہیں ہوتی، اور رحمت اگر نبوی ہو تو وہ کمزور نہیں ہوتی۔

معجزہ اور اخلاق کا جوڑ:

اکثر انسان قوت سے متاثر ہوتا ہے، مگر اقبال ہمیں قوت کے بعد اخلاق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ بس شق القمر یاد رکھو، بلکہ کہتے ہیں کہ اس ہستی کی اخلاقی عظمت بھی دیکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوی کمال میں معجزہ ثانوی علامت ہے اور خلقِ عظیم اصل پہچان ہے۔ قرآن نے بھی اسی لیے “خلق عظیم” کو نمایاں کیا۔ اقبال اسی قرآنی ترجیح کو شعری صورت میں سامنے لاتے ہیں۔

یہ امت کے لیے بھی بڑی رہنمائی ہے۔ اگر وہ صرف غلبہ، تاریخ، فتوحات یا غیر معمولی کارناموں پر فخر کرے مگر خلقِ محمدی سے حصہ نہ لے تو اس کی نسبت ادھوری رہ جائے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے مزاج میں کتنا حلم، کتنی شفقت، کتنا عدل اور کتنی دل داری آئی۔ یہی نبوی نسبت کا حقیقی امتحان ہے۔

رحمت کی ہمہ گیری:

“رحمت او عام” میں ایک نہایت وسیع تصور پوشیدہ ہے۔ اس رحمت کی حد صرف اپنے ماننے والوں تک نہیں، بلکہ انسان، حیوان، دشمن، کمزور، جاہل، اور گناہ گار سب تک پھیلتی ہے۔ نبوی رحمت بند حلقے کی مہربانی نہیں، بلکہ کھلی فضا کی طرح سب پر سایہ کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلم شخصیت کا نمونہ بھی یہی ہے کہ اس کی خیر رسانی محض گروہی مفاد تک محدود نہ رہے۔

یہاں “عام” کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ بہت سے لوگ اپنے خاندان، جماعت یا نظری ہم خیالوں کے لیے تو نرم ہوتے ہیں، مگر دوسروں کے لیے سخت۔ نبوی مزاج ایسا نہیں۔ اس میں اصول بھی ہیں اور غیرت بھی، مگر اس کی بنیاد عام رحمت ہے۔ اسی لیے اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کی زبان، اس کا ہاتھ، اس کا علم، اور اس کی قوت سب کے لیے باعثِ خیر بنیں۔

قوت کا نبوی ادب:

اس شعر کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ قوت کی اصل تہذیب کیا ہے۔ دنیا میں دو طرح کی طاقت ملتی ہے: ایک وہ جو اپنے زور سے دوسروں کو دباتی ہے، اور ایک وہ جو اپنی قدرت کے باوجود رحم، وقار اور ضبط کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے۔ اقبال جس قوت کو سراہتے ہیں وہ دوسری ہے۔ شق القمر کی شان رکھنے والی ہستی اگر اخلاقِ عظیم کی امین ہے تو پھر امت کی قوت بھی اسی سانچے میں ڈھلنی چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان بے اثر یا بے جرات ہو جائے، بلکہ یہ کہ اس کی جرات اخلاق سے خالی نہ ہو۔ وہ فیصلہ کرے تو عدل سے، اختلاف کرے تو وقار سے، اور اقتدار پائے تو خدمت کے ساتھ۔ یہی نبوی ادب ہے، اور اسی کے بغیر قوت بربریت میں بدل سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا میں اثر، کامیابی اور طاقت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کس کے پاس زیادہ وسائل ہیں، کس کی آواز بلند ہے، کس کا اثر وسیع ہے۔ اقبال اس شعر میں پیمانہ بدل دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل عظمت یہ ہے کہ غیر معمولی قوت کے باوجود رحمت عام ہو اور اخلاق عظیم ہوں۔ اگر طاقت نے انسان کو سخت، خود پسند یا ظالم بنا دیا تو وہ نبوی نسبت سے دور جا رہا ہے۔

یہ شعر ہر صاحبِ اختیار کے لیے آئینہ ہے: استاد ہو، والد ہو، عالم ہو، منتظم ہو، یا کسی بھی درجے پر اثر رکھنے والا انسان۔ اگر اس کے اندر رحمت کی وسعت اور اخلاق کی بلندی نہیں تو اس کا اختیار ابھی سنورا ہوا نہیں۔ اقبال کی نگاہ میں یہی وہ تربیت ہے جس سے امت پھر سے معجزہ نہیں، مگر معنی خیز کردار پیدا کر سکتی ہے۔

مثال

جیسے سورج صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ حرارت سے زندگی بھی پیدا کرتا ہے، ویسے ہی نبوی عظمت صرف قدرت کا اظہار نہیں بلکہ عام رحمت اور اخلاقی زندگی کا سرچشمہ بھی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ نبوی کمال کا راز یہ ہے کہ غیر معمولی قدرت کے ساتھ عام رحمت اور عظیم اخلاق جمع ہیں۔ امت کو بھی اپنی قوت کو اسی اخلاقی سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button