زاهدان و عاشقان دل فگار
زاهدان و عاشقان دل فگار
عالمان و عاصیان شرمسار
ترجمہ
زاہد بھی وہاں ہوں گے، دل شکستہ عاشق بھی، عالم بھی، اور شرمندہ گناہگار بھی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال اس آخرتی اجتماع کی وسعت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں صرف شہید اور غازی ہی نہ ہوں گے، بلکہ زاہد، عاشق، عالم اور شرمسار عاصی بھی ہوں گے۔ اس فہرست میں امت کے مختلف مزاج، مختلف مقامات اور مختلف روحانی حالتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ صرف ایک ہی قالب میں ڈھلے ہوئے انسانوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں زہد کی خاموشی بھی ہے، عشق کی شکستگی بھی، علم کی روشنی بھی، اور توبہ کی ندامت بھی۔ رسول اکرم کی رحمت کی وسعت یہی ہے کہ اس کے دربار میں مختلف مزاج اور مختلف حال والے سب جمع ہوتے ہیں۔
اس شعر کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں اعلی اور پست، کمال اور شکستگی، علم اور خطا، سب ایک ہی منظر میں جمع ہیں۔ اقبال گویا یہ بتاتے ہیں کہ نبوی امت کا حقیقی حسن اسی جامعیت میں ہے۔ لیکن اس جامعیت کا مطلب یہ نہیں کہ اخلاق بے معنی ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے حال کے ساتھ وہاں حاضر ہوگا، اور ہر حال کی اپنی شرم، اپنی امید اور اپنا حساب ہوگا۔ نوجوان کے لیے یہ ایک اور تنبیہ ہے: تمہاری نسبت ایک ایسی امت سے ہے جس کے بہترین لوگ بھی ہیں اور نادم لوگ بھی، مگر سب اپنے باطن کے سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
زاہد اور عاشق:
زاہد ضبط، ترک، عبادت اور پاکیزگی کی علامت ہے، جبکہ عاشق دل کی گرمی، ٹوٹن، سوز اور محبت کی علامت ہے۔ اقبال دونوں کو اکٹھا لاتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کریں کہ نبوی تربیت میں خشوع اور حرارت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک طرف نظم ہے، دوسری طرف شوق۔ ایک طرف قاعدہ ہے، دوسری طرف دل کی ٹوٹن۔ یہ توازن ہی امت کی روحانی جمالیات بناتا ہے۔
باپ اپنے بیٹے کو اس وسیع جماعت کا تصور دے کر یہ سکھا رہا ہے کہ تمہارا مزاج محض سختی یا صرف خود اعتمادی سے کامل نہیں ہو سکتا۔ اس میں زہد کی تہذیب اور عشق کی رقت دونوں کا رنگ آنا چاہیے۔
عالم اور عاصی:
عالم علمِ حق کا امین ہے، جبکہ “عاصیان شرمسار” وہ لوگ ہیں جن سے لغزش ہوئی مگر وہ شرمندہ ہیں۔ یہ ترکیب بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں اقبال نے گناہگار کے لیے دروازہ بند نہیں کیا۔ اصل فرق عاصی اور سرکش میں ہے۔ عاصی اگر شرمسار ہے تو اس کے اندر ابھی خیر کی رمق باقی ہے۔ وہ اپنے نفس کے اندھیرے کو حق کے نور میں دیکھ رہا ہے۔
یہ نوجوان کی حالت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اقبال اپنے واقعے میں صرف خطا نہیں بتا رہے، بلکہ اس خطا کے بعد پیدا ہونے والی ندامت کو بھی اہم بنا رہے ہیں۔ اس شعر میں گویا یہ بتایا جا رہا ہے کہ امت میں صرف کمال والوں کی جگہ نہیں، بلکہ نادم دل والوں کی بھی جگہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ شرم باقی ہو۔
شرمساری کی نعمت:
شرمساری بظاہر تکلیف دہ کیفیت ہے، مگر اخلاقی حیات میں یہ بڑی نعمت ہے۔ جو آدمی غلطی کے بعد شرمندہ ہو سکتا ہے وہ ابھی مردہ نہیں ہوا۔ اقبال کے نزدیک امت کی فضا میں ایسے عاصی بھی جگہ پاتے ہیں جن کے اندر ندامت کی آگ ہے۔ یہی آگ انہیں توبہ، اصلاح اور نئے مزاج کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اس شعر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حسنِ سیرت صرف بے لغزش ہونے کا نام نہیں، بلکہ لغزش کے بعد صحیح شعور اختیار کرنے کا بھی نام ہے۔ اسی لیے نادم عاصی بھی اس اجتماع میں دکھائی دیتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر لوگوں کو خانوں میں بانٹ دیتے ہیں: یا تو بہت اچھا یا بہت برا، یا صرف عالم یا صرف گناہگار۔ اقبال اس تقسیم کو توڑتے ہیں اور ایک وسیع نبوی منظر دکھاتے ہیں جہاں مختلف حال والے لوگ ایک بڑے اخلاقی مرکز کے گرد جمع ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ تربیت میں توازن، رحمت اور حقیقت پسندی ضروری ہے۔
یہ شعر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اگر ہم لغزش کے بعد شرم باقی رکھیں، اگر علم کے ساتھ تواضع رکھیں، اگر زہد کے ساتھ محبت رکھیں، تو ہم اس امت کی اصل فضا سے قریب رہیں گے۔ مسئلہ خطا سے زیادہ اس کے بعد کے باطن کا ہے۔
مثال
جیسے ایک بڑے باغ میں مختلف رنگوں کے پھول اپنی اپنی خوشبو کے ساتھ ایک ہی موسم کی شان بن جاتے ہیں، ویسے ہی امت میں مختلف حال والے لوگ نبوی رحمت کے تحت ایک بڑے حسن کا حصہ بنتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ نبوی امت کی وسعت میں زاہد، عاشق، عالم اور نادم عاصی سب شامل ہیں۔ اصل قدر اس سچائی اور شرم کی ہے جو انسان کو اپنے حال کے ساتھ حق کے سامنے حاضر ہونے کے قابل بناتی ہے۔
