رموز بے خودی

از عمل آهن عصب می سازدت

از عمل آهن عصب می سازدت

جای خوبی در جهان اندازدت

ترجمہ

عمل تیری لوہے جیسی سخت ہستی کو اعصاب و قوت میں بدل دیتا ہے اور تجھے دنیا میں ایک اچھا مقام عطا کرتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال عمل کی تخلیقی قوت کو نہایت گہرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمل انسان کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرتا ہے کہ محض سخت مادہ بھی زندہ قوت میں بدل جاتا ہے۔ “آہن” جمود، سختی، خامی اور بے جان مادے کی علامت ہے، جبکہ “عصب” زندگی، حرکت، احساس، آمادگی اور قوتِ عمل کی علامت ہے۔ گویا اقبال کے نزدیک انسان کی اصل تبدیلی صرف خیال، خواہش یا دعوے سے نہیں آتی، بلکہ مسلسل عمل سے آتی ہے۔ یہی عمل باطن کو زندہ کرتا ہے، ارادے کو اعصاب بخشتا ہے، اور شخصیت کو اس درجہ پر لے جاتا ہے کہ وہ دنیا میں موثر مقام حاصل کر سکے۔

یہاں “عمل” سے مراد محض ظاہری مصروفیت نہیں۔ اقبال کے ہاں عمل ایک بیدار، با مقصد، اصول پر قائم اور ذمہ دار حرکت کا نام ہے۔ شریعت اسی عمل کی تربیت دیتی ہے۔ وہ انسان کو خواہش اور سستی کے سپرد نہیں کرتی بلکہ اسے ذمہ داری، مجاہدہ، نظم، خدمت، قربانی اور استقامت کے ذریعے اس قابل بناتی ہے کہ اس کی زندگی میں ٹھوس اثر پیدا ہو۔ اس لیے شریعت کا مقصود صرف علم دینا نہیں، بلکہ علم کو حرکت میں بدلنا ہے۔

آہن سے عصب تک:

یہ استعارہ نہایت معنی خیز ہے۔ لوہا اپنی جگہ مضبوط تو ہوتا ہے، مگر اس میں زندگی نہیں ہوتی۔ عصب یعنی رگ یا اعصاب زندہ جسم میں احساس اور حرکت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اقبال گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اگر انسان کے اندر صرف سختی، صرف طاقت، یا صرف ظاہری ساخت ہو مگر عمل نہ ہو، تو وہ ابھی آہن ہی ہے۔ جب وہ عمل کے میدان میں اترتا ہے، جب ذمہ داری اٹھاتا ہے، جب خطرے، خدمت اور محنت سے گزرتا ہے، تب اس کے اندر جان آتی ہے۔ تب وہ محض سخت نہیں رہتا، بلکہ زندہ قوت بن جاتا ہے۔

یہ فرد پر بھی صادق آتا ہے اور ملت پر بھی۔ ایک قوم کے پاس وسائل ہوں، تاریخ ہو، نعرے ہوں، یا نظریات ہوں، مگر اگر ان سب کو حرکت دینے والا عمل نہ ہو تو وہ ابھی آہن کی حالت میں ہے۔ زندہ امت وہ ہے جو اپنے اصولوں کو عمل میں ڈھالے، اپنے علم کو تہذیب میں بدلے، اور اپنے ارادے کو تاریخ میں ظاہر کرے۔

دنیا میں مقام کیسے بنتا ہے:

“جای خوبی در جهان اندازدت” کا مطلب صرف شہرت یا اقتدار نہیں۔ اقبال کے نزدیک دنیا میں اچھی جگہ پانا اس وقت ممکن ہے جب انسان یا قوم اپنے کردار، خدمت، استقامت اور تخلیقی عمل سے اپنے وجود کا حق ادا کرے۔ محض نسب، ماضی، دعوے یا طاقت کسی کو دیرپا مقام نہیں دیتے۔ مقام اسے ملتا ہے جو اپنے باطن کو عمل سے سنوارتا ہے۔

اس میں یہ نکتہ بھی ہے کہ شریعت انسان کو دنیا سے کاٹتی نہیں بلکہ اسے دنیا میں باوقار، با اثر اور مفید بنانا چاہتی ہے۔ اگر دین کی تعبیر انسان کو بے عملی، گوشہ نشینی، یا محض وعظ تک محدود کر دے تو وہ اس شعر کے مزاج کے خلاف ہے۔ اقبال کے نزدیک دین اور عمل کا تعلق ایسا ہے کہ دین انسان کو اس دنیا میں اپنا مقام لینے کے قابل بناتا ہے، مگر وہ مقام اخلاقی، ذمہ دار اور بامقصد ہوتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہماری بڑی کمزوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نیت، جذبے اور گفتگو کو کافی سمجھ لیتے ہیں، جبکہ عمل کو بعد کی چیز جانتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ انسان کا اصل جوہر عمل سے نکلتا ہے۔ جو شخص مسلسل محنت، نظم، ذمہ داری اور خدمت کے راستے پر چلتا ہے وہ آہستہ آہستہ اندر سے بدل جاتا ہے۔ اسی طرح جو قومیں صرف ماضی پر فخر کرتی ہیں مگر حال میں کوئی بڑی عملی کوشش نہیں کرتیں، وہ مقام کھو دیتی ہیں۔

یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی عزت، پختگی اور اثر کسی شارٹ کٹ سے نہیں آتے۔ عمل سے آتے ہیں۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو باطن کی سختی کو زندہ اعصاب میں، اور غیر موثر وجود کو بامقصد مقام میں بدل دیتا ہے۔

مثال

جیسے خام لوہا بھٹی، ضرب اور کاریگری سے گزر کر ایک مفید آلہ بنتا ہے، ویسے ہی انسان بھی عمل سے گزر کر موثر اور باوقار بنتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق عمل بے جان سختی کو زندہ قوت میں بدل دیتا ہے۔ یہی عمل انسان اور ملت دونوں کو دنیا میں اچھا مقام دلاتا ہے، کیونکہ اصل قدر دعوے کی نہیں بلکہ بامقصد حرکت کی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button