شرع می خواهد که چون آئی بجنگ
شرع می خواهد که چون آئی بجنگ
شعله گردی واشکافی کام سنگ
ترجمہ
شریعت چاہتی ہے کہ جب تو جنگ میں آئے تو شعلہ بن جائے اور پتھر کے دہانے کو بھی چیر دے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے سارے استدلال کو ایک نہایت بلند اور پرجوش تصویر میں بدل دیتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ شریعت چاہتی ہے کہ جب تم میدانِ مقابلہ میں اترو تو شعلہ بن جاؤ، اور ایسی تاثیر اختیار کرو کہ پتھر کا دہانہ بھی چاک ہو جائے۔ اس سے مراد محض عسکری تندی نہیں، بلکہ وہ شدتِ حیات، وہ جرات، وہ پختگی اور وہ قوتِ عمل ہے جو شریعت اپنی سچی تربیت سے پیدا کرنا چاہتی ہے۔ گویا شریعت کا مقصود بے جان اطاعت نہیں بلکہ بھڑکتی ہوئی باوقار قوت ہے۔ شعر کے مطابق:
جنگ کا وسیع مفہوم:
یہاں جنگ کو صرف میدانِ شمشیر تک محدود کرنا درست نہیں۔ اقبال کی زبان میں جنگ ہر اس موقعے کی علامت ہو سکتی ہے جہاں حق و باطل، ہمت و کمزوری، بیداری و غفلت، اور ذمہ داری و فرار آمنے سامنے ہوں۔ جب انسان ایسے میدان میں اترے تو شریعت چاہتی ہے کہ وہ نیم دل، بے رنگ یا مصلحت زدہ نہ ہو، بلکہ پوری بیداری اور قوت کے ساتھ حاضر ہو۔
اس لیے یہ شعر حیاتِ دینی کے ہر سنجیدہ معرکے پر صادق آتا ہے۔
شعلہ بننا:
شعلہ روشنی بھی دیتا ہے اور جلاتا بھی ہے۔ اس میں حرکت، حرارت، وسعت پذیری اور اثر پذیری سب جمع ہوتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک شریعت کی تربیت یافتہ شخصیت ایسی ہونی چاہیے جس میں نور بھی ہو اور حرارت بھی، شعور بھی ہو اور اقدام بھی۔ صرف سرد قانون یا خشک اخلاق امت کو شعلہ نہیں بناتے؛ شریعت کا مقصود ایسی زندہ شخصیت ہے جس کے اندر ارادہ بھڑکتا ہو۔
یہی شعلہ باطل کے اندھیرے کو بھی چاک کرتا ہے اور خود اپنے راستے کو بھی روشن رکھتا ہے۔
کامِ سنگ کو چاک کرنا:
“کام سنگ” یعنی پتھر کا دہانہ یا سخت منہ۔ یہ سخت ترین رکاوٹ، ناممکن دکھائی دینے والی دیوار، یا زمانے کی جمی ہوئی مزاحمت کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ شریعت تمہیں ایسا بنانا چاہتی ہے کہ تم صرف نرم راستوں کے مسافر نہ رہو، بلکہ سخت ترین رکاوٹوں کے سامنے بھی شعلہ وار اثر دکھاؤ۔ اس میں قوتِ بازو بھی شامل ہے، قوتِ ارادہ بھی، اور قوتِ روح بھی۔
یہی وہ حیات ہے جو پچھلے شعر میں “خطرات کے اندر زندگی” کے طور پر سامنے آئی تھی۔
شریعت کی مردانہ تربیت:
اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال کے نزدیک شریعت انسان کو گھٹاتی نہیں، بناتی ہے؛ کمزور نہیں کرتی، جرات مند کرتی ہے؛ بے رنگ نہیں بناتی، شعلہ بناتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں شریعت کا نام لے کر بے عملی، بزدلی، تنگ نظری یا جمود پیدا ہو رہا ہو تو اقبال کے نزدیک یہ شریعت کی اصل روح نہیں بلکہ اس کی ناقص تعبیر ہے۔
اصل شرعی تربیت کا نتیجہ پختہ، روشن، اور رکاوٹیں چاک کرنے والی شخصیت ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہمیں اکثر ایسا دیندار مزاج دکھائی دیتا ہے جو دفاعی، خوف زدہ یا حد سے زیادہ مصلحت پسند ہوتا ہے۔ اقبال اس کے بجائے ایسی دینی حیات چاہتے ہیں جس میں اصول پر ثابت قدمی، مشکل میں پیش قدمی، اور رکاوٹ کے سامنے حرارت موجود ہو۔ شریعت اگر صحیح طرح سمجھی جائے تو وہ بزدل معاشرہ نہیں، بلکہ روشن ارادوں والی امت پیدا کرتی ہے۔
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دینی زندگی کا کامل نمونہ سکڑی ہوئی جان نہیں، شعلہ وار شخصیت ہے۔
مثال
جیسے بھٹی کی آگ سخت دھات کو بھی نرم کر دیتی ہے، ویسے ہی شریعت کی تربیت یافتہ قوت سخت ترین رکاوٹوں میں بھی راستہ پیدا کر سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ شریعت کا مقصد بے جان پابندی نہیں بلکہ شعلہ صفت زندگی ہے۔ ایسی شخصیت جو خطرات میں اتر کر سخت ترین رکاوٹوں کو بھی چاک کرنے کی طاقت رکھتی ہو، وہی سچی شرعی تربیت کی پیداوار ہے۔