گیرد آسان روزگار خویش را
گیرد آسان روزگار خویش را
بشکند حصن و حصار خویش را
ترجمہ
وہ اپنے حالات کو آسان سمجھ کر اپنی ہی قلعہ بندی اور حصار کو توڑ ڈالے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کی صورتِ حال کو مزید کھولتا ہے۔ علامہ اقبال بتاتے ہیں کہ جب صلح کے گمان میں دشمن اپنے دن آسان سمجھ لیتا ہے تو وہ اپنی حفاظت کے اسباب، اپنے حصن و حصار اور اپنی چوکسی کو خود کمزور کر دیتا ہے۔ اس تمثیل کے ذریعے اقبال یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ظاہری آسانی انسان یا قوم کو دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔ لیکن مسلمان کی تربیت اس پر قائم نہیں ہونی چاہیے کہ وہ صرف دوسرے کی غفلت سے فائدہ اٹھائے؛ اسے اپنی قوت کی تعمیر زیادہ اونچے درجے پر کرنی ہے۔ شعر کے مطابق:
آسانی کا فریب:
“گیرد آسان روزگار خویش را” اس نفسیات کی طرف اشارہ ہے جس میں آدمی خطرے کو ختم شدہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جب انسان یا قوم یہ گمان کرے کہ اب کوئی مقابلہ باقی نہیں، کوئی امتحان نہیں، اور کوئی سختی سامنے نہیں، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بیداری کھونے لگتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی آسانی کبھی کبھی خطرے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ یہ اندر کی تیاری کو سلا دیتی ہے۔
آسانی اگر بے احتیاطی میں بدل جائے تو وہ خود اپنی کمزوری کو دعوت دیتی ہے۔
حصن و حصار کی علامت:
حصن اور حصار صرف قلعہ اور دیوار نہیں، بلکہ ہر وہ حفاظتی نظم ہیں جو کسی قوم کو قائم رکھتے ہیں: اس کی چوکسی، اس کی تربیت، اس کی باہمی ہم آہنگی، اس کے اصول، اور اس کا دفاعی شعور۔ جب کوئی قوم آسانی کے دھوکے میں یہ سب کمزور کرنے لگے تو گویا وہ اپنی ہی دیواریں خود گرا رہی ہوتی ہے۔
اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ قوت ہمیشہ بیرونی ہتھیاروں سے نہیں، اندرونی نظم سے بھی پیدا ہوتی ہے۔
شریعت اور حفاظتی شعور:
شریعت انسان کے اندر ایسا شعور پیدا کرتی ہے جو آرام کے زمانے میں بھی ذمہ داری نہیں چھوڑتا۔ وہ نفس کو غفلت کی عادت نہیں ڈالتی، بلکہ بندگی، نظم اور بیداری کے ذریعے مسلسل تیار رکھتی ہے۔ اسی لیے اقبال بعد کے اشعار میں خطرے کے اندر جینے کو زندگی کہتے ہیں۔ ایسی زندگی حصن و حصار کو توڑتی نہیں بلکہ مضبوط رکھتی ہے۔
گویا شریعت کی تربیت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان آسانی کے دھوکے سے محفوظ رہے۔
نظم کا باطنی معنی:
اس شعر کو صرف دشمن پر منطبق کرنا کافی نہیں؛ یہ امت کے اپنے حال پر بھی صادق آتا ہے۔ جب مسلمان اپنی زندگی کو بہت آسان سمجھ کر تزکیہ، ذکر، علمی جدوجہد، اجتماعی نظم اور اخلاقی نگہبانی کمزور کر دیتے ہیں تو وہ اپنے حصن و حصار خود توڑ رہے ہوتے ہیں۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ آسانی کے موسم میں بھی باطنی دیواریں سلامت رہنی چاہییں۔
اسی دیوار کا نام کبھی تقویٰ ہے، کبھی نظم ہے، کبھی غیرت، اور کبھی قرآنی مرکزیت۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے معاشرے بیرونی سہولت، وقتی امن یا سطحی استحکام کو دائمی اطمینان سمجھ لیتے ہیں، پھر تربیت، علم، اخلاق اور بیداری کی دیواریں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ جو قومیں اپنے حصن و حصار خود توڑتی ہیں وہ بعد میں بڑی قیمت چکاتی ہیں۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ آسانی کے وقت بھی نظم اور چوکسی کو قائم رکھنا زندگی کی شرط ہے۔
مثال
جیسے کوئی گھر والا گرمی کے چند دنوں میں دروازے اور باڑ ہٹا دے تو وقتی سہولت ملتی ہے مگر حفاظت ختم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بے احتیاط آسانی قوم کا حصار توڑ دیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ آسانی کا گمان اگر چوکسی کم کر دے تو قوم اپنا ہی حصار توڑ بیٹھتی ہے۔ شریعت کی تربیت ایسی غفلت کے مقابل اندرونی نظم اور بیداری کو قائم رکھتی ہے۔