رموز بے خودی

از یک آئینی مسلمان زنده است

از یک آئینی مسلمان زنده است

پیکر ملت ز قرآن زنده است

ترجمہ

مسلمان ایک ہی آئین کے ساتھ جڑنے سے زندہ رہتا ہے، اور ملت کا پیکر قرآن ہی سے زندگی پاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال پورے باب کا مرکزی نکتہ نہایت صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی اجتماعی زندگی کسی منتشر ذوق، کسی بے ربط خود رائی یا کسی عارضی نعرے سے قائم نہیں رہتی، بلکہ “یک آئینی” سے قائم رہتی ہے۔ پھر دوسری سطر میں وہ اس یک آئینی کے اصل مرکز کو متعین کر دیتے ہیں: ملت کا پیکر قرآن سے زندہ ہے۔ گویا اتحاد کی محض صورت کافی نہیں، اس کا زندہ مرکز بھی چاہیے، اور وہ مرکز قرآن مجید ہے۔ شعر کے مطابق:

یک آئینی کی حقیقت:

“یک آئینی” سے مراد ایسا نظم ہے جس میں عقیدہ، شریعت، اخلاق، عبادت، تہذیب اور اجتماعی شعور ایک ہی الٰہی محور کے ساتھ مربوط ہوں۔ یہ یکسانیتِ جامد نہیں، بلکہ وحدتِ مرکز ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کے اندر کثرتِ حالات ہو سکتی ہے، زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، خطے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر اس کا آئین ایک ہو، یعنی اس کا مرکز، میزان اور اصل مرجع ایک ہو۔

یہی یک آئینی مسلمان کو محض آبادی نہیں بلکہ امت بناتی ہے۔

مسلمان کی زندگی کا راز:

اقبال کے نزدیک مسلمان کی زندگی کا راز صرف انفرادی پارسائی میں نہیں، بلکہ اس اجتماعی ربط میں بھی ہے جو اسے ایک وسیع تر ملت کا حصہ بناتا ہے۔ اگر وہ اپنے آئین سے کٹ جائے تو اس کی دینداری بھی رفتہ رفتہ شخصی ذوق، ثقافتی عادت یا کمزور شناخت بن سکتی ہے۔ لیکن جب وہ ایک آئین سے جڑا رہتا ہے تو اس کی انفرادی عبادت بھی امت کے بڑے جسم میں معنی حاصل کرتی ہے۔

یعنی مسلمان کی بقا ذاتی اخلاص کے ساتھ ساتھ اجتماعی نظم سے بھی وابستہ ہے۔

پیکر ملت اور قرآن:

دوسری سطر شعر کا عین مرکز ہے۔ “پیکر ملت” سے مراد امت کی پوری اجتماعی ہیئت ہے، اس کا بدن، اس کی صورت، اس کی حرکت، اس کا شعور۔ اقبال فرماتے ہیں کہ یہ پیکر قرآن سے زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن امت کے لیے صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ حیات کا منبع، فکر کا معیار، اخلاق کا سرچشمہ، قانون کی بنیاد اور وحدت کا مرکز ہے۔

اگر قرآن سے ربط کمزور ہو تو ملت ظاہراً باقی رہ کر بھی باطناً اپنی زندگی کھونے لگتی ہے۔

باب کے پورے استدلال سے ربط:

اس باب میں اقبال نے تقلید، ضبط ملت، راه رفتگان، یک آئین اور اختلاف کے خطرے پر بار بار زور دیا۔ اس شعر میں ان سب کی اصل وجہ کھل جاتی ہے: کیونکہ امت کی زندگی قرآن کے گرد قائم ہے، اس لیے وہ ہر وہ چیز پسند کرتے ہیں جو اس ربط کو مضبوط کرے، اور ہر اس چیز سے خبردار کرتے ہیں جو اس پیکر کو ٹکڑوں میں بانٹے۔

گویا تقلید بھی آخرکار قرآن سے جڑے اجتماعی نظم کی حفاظت کی ایک صورت بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے اندر بہت سے نعرے، شناختیں اور ترجیحات ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر قرآن مرکز سے ہٹ گیا تو کوئی اور بندھن دیر پا زندگی نہیں دے سکتا۔ مسلمانوں کی عزت، حیات، تہذیب اور باہمی ربط سب اسی وقت سلامت رہ سکتے ہیں جب قرآن محض شعار نہیں بلکہ اصل آئین بنے۔

یہ شعر ہمیں واپس اسی مرکز کی طرف بلاتا ہے جہاں سے ملت نے پہلی بار زندگی پائی تھی۔

مثال

جیسے جسم کو زندگی خون کے بہاؤ سے ملتی ہے، ویسے ہی ملت کے پیکر کو زندگی قرآن کے جاری اثر سے ملتی ہے؛ بہاؤ رک جائے تو بدن کمزور پڑ جاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں پوری وضاحت سے کہتے ہیں کہ مسلمان کی بقا ایک آئین سے وابستگی میں ہے، اور امت کی اصل زندگی قرآن سے وابستہ ہے۔ اسی لیے اجتماعی وحدت کی حفاظت دراصل قرآنی مرکزیت کی حفاظت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button