رموز بے خودی

آتش از شعر عراقی در دلش

آتش از شعر عراقی در دلش

در نمی سازد بقرآن محفلش

ترجمہ

اس کے دل میں عراقی کے شعر سے آگ تو پیدا ہوتی ہے، مگر وہ اپنی محفل کو قرآن سے روشن نہیں کرتا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی تنقید کو مزید واضح اور زیادہ تیز بناتا ہے۔ علامہ اقبال اس شخص کا ذکر کرتے ہیں جس کے دل میں شعری ذوق، وجدانی کیفیت اور ادبی لطافت تو موجود ہے، یہاں تک کہ عراقی جیسے شاعر کے کلام سے اس کے اندر آگ پیدا ہو جاتی ہے، مگر اس کی محفل قرآن سے نہیں بنتی۔ یعنی اس کے ذوق کا مرکز وحی نہیں، بلکہ ایک ثانوی ادبی و وجدانی سرچشمہ ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ ترتیب الٹی ہے۔ شعر کے مطابق:

شعرِ عراقی:

عراقی یہاں ایک مخصوص شاعر سے زیادہ اس پورے صوفیانہ و ادبی ذوق کی علامت ہے جو شعر، وجد اور لطیف احساس کے ذریعے روحانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اقبال شعر کے دشمن نہیں؛ خود ان کی پوری دنیا شعر میں بولتی ہے۔ مگر وہ اس بات پر معترض ہیں کہ اگر شعر اصل مرکز بن جائے اور قرآن حاشیے پر چلا جائے تو توازن ٹوٹ جاتا ہے۔

شعر دل میں آگ تو پیدا کر سکتا ہے، مگر اسے سچا رخ کون دے گا؟ اقبال کے نزدیک وہ رخ قرآن دے گا، شعر نہیں۔

آتش کا مفہوم:

دل میں آگ پیدا ہونا بظاہر ایک اچھی علامت لگتی ہے: سوز، کیف، تپش، وجد، بے قراری۔ مگر اقبال پوچھتے ہیں کہ یہ آگ کہاں سے آئی، اور کس طرف لے جا رہی ہے؟ اگر دل کی آگ وحی سے جڑی نہ ہو تو وہ روشنی سے زیادہ دھواں پیدا کر سکتی ہے۔

اس لیے اقبال جذباتی حرارت کو کافی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک حرارت کے ساتھ معیار بھی چاہیے، اور یہ معیار قرآن فراہم کرتا ہے۔

محفل کا نہ بننا:

“در نمی سازد بقرآن محفلش” میں پوری تنقید سمٹ آتی ہے۔ محفل سے مراد صرف مجلسِ سماع نہیں، بلکہ اس کے باطن کی دنیا، اس کی فکری نشست، اس کی روحانی ترتیب، اور اس کے گرد بننے والا تہذیبی ماحول بھی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر یہ سب قرآن سے نہ بنے تو پھر یہ محفل سچی ہدایت کی محفل نہیں۔

گویا دل کا گرم ہو جانا کافی نہیں، سوال یہ ہے کہ محفل کا مرکز کیا ہے۔ اگر مرکز قرآن نہ ہو تو حرارت بکھر سکتی ہے، اور ذوق اپنی اصل سمت کھو سکتا ہے۔

ذوق اور وحی کا رشتہ:

اقبال ذوق کو مٹانا نہیں چاہتے، بلکہ اسے وحی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک شعر، موسیقی، وجد اور لطیف احساس سب اپنی جگہ مفید ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ قرآن کے نور میں ہوں۔ اگر یہ اصل بن جائیں اور قرآن ان کے تابع ہو جائے تو روحانیت، ادب اور مذہب سب بگڑنے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کی تنقید تہذیبی ہے: محفل کا مرکز بدل گیا ہے، اس لیے امت کا ذوق بھی اپنی اصل روح سے دور ہو گیا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی مذہبی اور ثقافتی دنیا میں بھی بہت سی ایسی کیفیتیں ہیں جہاں اصل مرکز قرآن کے بجائے شخصیت، آواز، ماحول، ادب، نغمہ یا جذبات بن جاتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں معیار دیتا ہے: محفل کو قرآن سے بننا چاہیے۔ اگر وہ قرآن سے نہ بنے تو چاہے جذبات کتنے ہی بلند ہوں، بنیاد کمزور رہے گی۔

امت کی تجدید کے لیے صرف سوز نہیں، قرآنی سوز چاہیے؛ صرف محفل نہیں، قرآنی محفل چاہیے؛ صرف آگ نہیں، ایسی آگ چاہیے جو نور بنے۔

مثال

جیسے ایک چراغ خوبصورت شیشے میں ہو مگر تیل اصل نہ ہو تو دیرپا روشنی نہیں دیتا، ویسے ہی ادبی یا وجدانی کیف اگر قرآن سے نہ جڑا ہو تو پائیدار ہدایت نہیں دے سکتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر دل کی حرارت شعر سے تو پیدا ہو مگر محفل قرآن سے نہ بنے تو روحانی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اصل مرکز وحی ہونا چاہیے، باقی ذوق اسی کے تابع ہوں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button