رموز بے خودی

صوفی پشمینه پوش حال مست

صوفی پشمینه پوش حال مست

از شراب نغمه ی قوال مست

ترجمہ

وہ پشمینہ پوش صوفی، جو کیفیت میں مست ہے، دراصل قوال کی نغمہ انگیز مے سے سرشار ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال تصوف کی اصل روح پر نہیں، بلکہ اس کی ایک بگڑی ہوئی، سطحی اور نمائشی صورت پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ اس صوفی کا ذکر کرتے ہیں جو پشمینہ اوڑھے ہوئے ہے، حال میں مست ہے، مگر اس کی مستی خدا کی معرفت، قرآنی سوز اور روحانی مجاہدے سے نہیں، بلکہ قوال کے نغمے کی “شراب” سے پیدا ہوئی ہے۔ یعنی اس کی کیفیت کی بنیاد حق کی معرفت نہیں بلکہ ایک جذباتی، سمعی اور عارضی کیف ہے۔ شعر کے مطابق:

پشمینه پوشی کی علامت:

پشمینہ صوفیانہ ظاہری نسبت کی علامت ہے۔ اقبال یہاں لباس پر اعتراض نہیں کرتے، بلکہ اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کہیں ظاہری نسبت نے باطنی حقیقت کی جگہ تو نہیں لے لی۔ پشمینہ اوڑھ لینا آسان ہے، مگر نفس کو توڑنا، حق کی اطاعت میں جینا، اور قرآن کے تحت قلب کو بدلنا کہیں زیادہ کٹھن ہے۔

اس لیے “پشمینه پوش” یہاں ایسے مذہبی ظاہر کا استعارہ بن جاتا ہے جو باطن کے بغیر تقدس کا دعویٰ کرتا ہے۔

حال مست:

حال اور مستی تصوف کی زبان میں بلند معانی رکھتے ہیں، مگر اقبال پوچھتے ہیں کہ یہ حال کس سرچشمے سے آیا؟ اگر یہ حال قرآن کی تلاوت، سحر کی دعا، مجاہدۂ نفس، اور عشقِ الٰہی سے پیدا ہوا ہے تو اس کی قدر ہے۔ لیکن اگر یہ محض سماعی کیف، وقتی جذبات یا نغمے کے سرور سے پیدا ہوا ہے تو یہ سچا روحانی مقام نہیں۔

یعنی اقبال مستی کے مخالف نہیں، مگر بے اصل مستی کے ناقد ہیں۔ وہ ایسی کیفیت چاہتے ہیں جو انسان کو بدل دے، نہ کہ چند لمحوں کے لیے سرشار کر کے پھر وہی پرانا نفس واپس لا کھڑا کرے۔

شرابِ نغمهٔ قوال:

یہ ترکیب پوری تنقید کا مرکز ہے۔ قوال کا نغمہ جذبات کو چھیڑ سکتا ہے، دل کو نرم کر سکتا ہے، مگر اگر وہ قرآنی سوز اور ربانی ذکر کا بدل بن جائے تو انسان اصل منبع سے دور ہو جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ صوفی نغمے کی شراب سے مست ہے، یعنی اس کی روحانی کیفیت کا سرچشمہ ثانوی اور سطحی ہو چکا ہے۔

اس میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ مذہبی ذوق جب اصل وحی سے کٹ جائے تو وہ آسانی سے تفریحی اور نمائشی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

روحانیت اور قرآن:

اقبال کی نگاہ میں حقیقی روحانیت ہمیشہ قرآن سے وابستہ ہے۔ وہ حال جو قرآن نہ دے، وہ سوز جو اطاعت نہ لائے، وہ کیف جو کردار نہ بدلے، اور وہ ذکر جو امت کی ذمہ داری نہ جگائے، اقبال کے نزدیک مشکوک ہے۔ اس لیے ان کی تنقید دراصل روحانیت کو اس کے اصل مرکز کی طرف واپس لانے کی کوشش ہے۔

وہ چاہتے ہیں کہ تصوف، اگر ہے، تو قرآنی تصوف ہو: بیدار، ذمہ دار، مجاہد، اور حقیقت پسند۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی مذہبی دنیا میں جذباتی ماحول، وجدانی محفل، اور روحانیت کے نام پر بہت سی کیفیتیں ملتی ہیں، مگر سوال اب بھی وہی ہے: کیا یہ کیفیت قرآن سے جڑی ہے؟ کیا یہ انسان کو اللہ کے قریب، نفس سے دور، اور امت کے لیے ذمہ دار بناتی ہے؟ اگر نہیں، تو اقبال کی تنقید آج بھی زندہ ہے۔

امت کو ایسی روحانیت درکار ہے جو عارضی سرور نہ دے، بلکہ مستقل نور دے۔ اور وہ نور قرآن کے سوا کہیں سے نہیں آتا۔

مثال

جیسے خوشبو کا چھڑکاؤ چند ساعت کے لیے تازگی دے سکتا ہے مگر بیماری کا علاج نہیں کرتا، ویسے ہی سطحی کیف اصل روحانی بیماریوں کا علاج نہیں کر سکتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اس سطحی صوفیانہ کیفیت پر تنقید کرتے ہیں جو قرآنی سوز کے بجائے قوالی کے سرور سے پیدا ہو۔ ان کے نزدیک حقیقی روحانیت وہ ہے جو وحی سے جڑی ہو اور انسان کے باطن و کردار دونوں کو بدل دے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button