رموز بے خودی

ملتی را رفت چون آئین ز دست

ملتی را رفت چون آئین ز دست

مثل خاک اجزای او از هم شکست

ترجمہ

جب کسی ملت کے ہاتھ سے اس کا آئین نکل جاتا ہے تو اس کے اجزا مٹی کے ذروں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملت کی اجتماعی زندگی کا ایک بنیادی قانون بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی قوم محض اس لیے قوم نہیں رہتی کہ اس کے افراد ایک علاقے میں رہتے ہیں، ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، یا کسی تاریخی نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ملت کو ملت بنانے والی اصل چیز اس کا “آئین” ہے، یعنی وہ زندہ اصول، وہ نظم، وہ مشترک مرکز اور وہ باطنی و ظاہری ضابطہ جس کے تحت اس کے افراد ایک وحدت کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جب یہ آئین ہاتھ سے چلا جاتا ہے تو ملت کی ظاہری کثرت باقی رہتی ہے مگر اس کی وحدت ٹوٹ جاتی ہے، اور وہ مٹی کے ذروں کی مانند بکھرنے لگتی ہے۔ شعر کے مطابق:

آئین کا مفہوم:

یہاں آئین سے مراد صرف قانونی دستاویز یا سیاسی دستور نہیں، بلکہ زندگی کا وہ جامع اصول ہے جو ایک قوم کو معنی، سمت، ربط اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں ملتِ محمدیہ کے لیے یہ آئین وحی پر مبنی ہے، یعنی ایسا ضابطہ جو محض انسانی خواہش یا وقتی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ حق کے تابع ہو۔

جب قوم کے افراد ایک ہی آئین کے پابند ہوتے ہیں تو ان کی کثرت ایک زندہ مجموعے میں ڈھل جاتی ہے۔ لیکن جب ہر شخص اپنی خواہش، اپنا فائدہ، اپنا تعصب اور اپنا الگ معیار لے کر چلنے لگے تو اتحاد کا دھاگا ٹوٹ جاتا ہے۔

مٹی کی مثال:

اقبال نے “مثل خاک” کی تشبیہ دے کر یہ دکھایا ہے کہ بکھراؤ کی آخری صورت کیا ہوتی ہے۔ مٹی کے ذرات بے شمار ہوتے ہیں، مگر ان میں اپنی جگہ کوئی وحدت نہیں ہوتی۔ ہوا آئے تو ادھر اڑتے ہیں، پانی آئے تو بہہ جاتے ہیں، قدم پڑے تو روندے جاتے ہیں۔ یہی حال اس ملت کا ہوتا ہے جو اپنے آئین سے محروم ہو جائے۔

یعنی تعداد باقی رہنے کے باوجود قوت باقی نہیں رہتی، کیونکہ قوت کا تعلق محض افراد کی کثرت سے نہیں بلکہ ان کی منظم وحدت سے ہوتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان صرف اپنے شمار پر فخر نہ کریں بلکہ اس ربط کو سمجھیں جو انہیں بامعنی بناتا ہے۔

اجزا کا ٹوٹنا:

“اجزای او از هم شکست” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بگاڑ صرف اوپر سے نہیں آتا بلکہ اندر سے پھیلتا ہے۔ پہلے دل الگ ہوتے ہیں، پھر مقاصد جدا ہوتے ہیں، پھر اخلاقی پیمانے مختلف ہو جاتے ہیں، پھر ادارے کمزور ہوتے ہیں، اور آخرکار پوری ملت ایک نام رہ جاتی ہے مگر حقیقت میں ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ ٹوٹ پھوٹ کبھی سیاسی تقسیم کی شکل میں ہوتی ہے، کبھی فکری انتشار میں، کبھی فرقہ وارانہ نزاع میں، کبھی طبقاتی خود غرضی میں، اور کبھی ایسی فرد پرستی میں جس میں اجتماع کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔

ملت اور مرکز:

ہر زندہ مجموعہ ایک مرکز چاہتا ہے۔ ستاروں کا نظام ہو یا جسم کے اعضا، سب اپنے ربط کے لیے ایک اصول کے پابند ہوتے ہیں۔ ملت بھی بغیر مرکز کے نہیں رہ سکتی۔ اگر اس کا مرکز خدا کا دیا ہوا آئین نہ ہو تو پھر اس کی جگہ کوئی اور چیز لے لیتی ہے: نسل، زبان، زمین، طاقت، دولت یا نفس۔ مگر یہ سب محدود مراکز آخرکار ملت کو مزید بانٹ دیتے ہیں۔

اقبال اسی خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آئین ہاتھ سے جانا محض ایک فکری کمی نہیں بلکہ اجتماعی حیات کی بنیاد ہل جانا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی اگر مسلمان اپنی کمزوری کا سبب صرف بیرونی طاقتوں میں تلاش کریں اور اپنے باطنی آئین سے دوری کو نہ دیکھیں تو تشخیص ادھوری رہے گی۔ جہاں اصول کی جگہ مفاد لے لے، دیانت کی جگہ چالاکی لے لے، اور وحی کی جگہ خواہش لے لے، وہاں بکھراؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم امت کے اتحاد کو محض جذباتی نعرہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک اصولی اور عملی ذمہ داری کے طور پر دیکھیں۔

اگر آئین واپس آ جائے تو منتشر اجزا دوبارہ جمع ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر آئین ہی گم ہو جائے تو ظاہری نعروں سے کوئی پائیدار وحدت پیدا نہیں ہوتی۔

مثال

جیسے ایک عمارت کی اینٹیں اپنی جگہ بہت ہوں لیکن انہیں باندھنے والا مسالا اور نقشہ نہ ہو تو وہ ڈھیر بن جاتی ہیں، ویسے ہی ملت کے افراد بھی آئین کے بغیر ایک زندہ تعمیر نہیں بن سکتے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ملت کی اصل وحدت اس کے آئین سے قائم رہتی ہے۔ جب آئین ہاتھ سے نکل جائے تو افراد مٹی کے ذروں کی طرح بکھر جاتے ہیں، اس لیے اجتماعی بقا کے لیے اصل چیز مشترک اور زندہ اصول کی پابندی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button