عشق از سوز دل ما زنده است
عشق از سوز دل ما زنده است
از شرار لااله تابنده است
ترجمہ
عشق ہمارے دل کے سوز سے زندہ ہے، اور “لا الہ” کی چنگاری سے روشن اور تابندہ ہے۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں عشق کے سرچشمے کو واضح کرتے ہیں۔ وہ عشق کو محض ایک فطری جذبہ یا عمومی انسانی احساس قرار نہیں دیتے، بلکہ بتاتے ہیں کہ اسلامی عشق دل کے سوز اور کلمۂ توحید کی شرار سے پیدا ہوتا ہے۔ “سوزِ دل” سے مراد وہ باطنی تپش، درد، طلب اور بے قراری ہے جو انسان کو جمود سے نکالتی ہے۔ اور “شرار لااله” اس توحیدی انکار کی آگ ہے جو ہر جھوٹے معبود، ہر باطل مرکز اور ہر فریب کو جلا کر دل کو خالص کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:
سوزِ دل کیا ہے؟
سوزِ دل صرف غم نہیں بلکہ ایک زندہ اندرونی حرارت ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان حق کو محض جانتا نہیں بلکہ اس کے لیے تڑپتا بھی ہے۔ اس کے اندر خیر کے لیے درد، امت کے لیے فکر، خدا کے قرب کی طلب، اور باطل سے بے زاری پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی سوز دل کو زندہ رکھتا ہے اور انسان کو محض عقل کے خشک دائرے سے نکال کر عملی جہد میں داخل کرتا ہے۔
اس کے بغیر عشق ایک لفظ رہ جاتا ہے۔ حقیقی عشق وہی ہے جس کے پیچھے دل کی آگ اور روح کی بیداری ہو۔
شرارِ لا الہ:
“لا الہ” کلمۂ توحید کا وہ پہلا حصہ ہے جو انکار سے شروع ہوتا ہے۔ اقبال اسے شرار کہتے ہیں، یعنی چنگاری، کیونکہ یہ انسان کے اندر ایک انقلابی تطہیر پیدا کرتی ہے۔ یہ شرار انسان کو بتاتی ہے کہ کوئی جھوٹا اقتدار، کوئی نفس، کوئی دنیا، کوئی بت، کوئی قوم پرستی یا کوئی مادی مرکز اس کے دل کا معبود نہیں بن سکتا۔
جب یہ شرار دل میں گرتی ہے تو وہ محبت کو پاکیزہ اور بلند کر دیتی ہے۔ پھر عشق خواہش نہیں رہتا، عبادت بن جاتا ہے؛ وابستگی نہیں رہتا، وفاداری بن جاتا ہے۔
عشق کی اسلامی تطہیر:
اقبال کی فکر میں عشق ہمیشہ توحید سے جڑا ہوا ہے۔ ایسا عشق جو خدا سے نہ جڑے، حق کی خدمت میں نہ ڈھلے، اور انسان کو خودی کی بلندی تک نہ لے جائے، وہ اقبال کے ہاں کامل عشق نہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ عشق کی روشنی “لا الہ” کی چنگاری سے آتی ہے۔ توحید ہی اسے سمت دیتی ہے، پاک کرتی ہے، اور اس کے شعلے کو بے راہ نہیں ہونے دیتی۔
یہ نکتہ بہت اہم ہے، کیونکہ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے عشق میں نظم، مقصد، عبادت اور انقلاب ایک ساتھ جمع ہیں۔
دل، کلمہ اور عمل:
شعر بتاتا ہے کہ زندہ عشق کے لیے تین چیزیں لازم ہیں: سوزِ دل، کلمۂ توحید کی آگ، اور اس کے نتیجے میں عملی روشنی۔ جب دل جلتا ہے، “لا الہ” باطل کو توڑتا ہے، اور انسان کا باطن روشن ہوتا ہے، تب ایک ایسا عشق پیدا ہوتا ہے جو فرد کو بھی بدلتا ہے اور امت کو بھی۔ یہی عشق اقبال کے مردِ مومن کی اصل قوت ہے۔
پس عشق بے تاب بھی ہے اور منظم بھی، نرم بھی ہے اور انقلابی بھی، ذاتی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج اگر مسلمان عشق کی زبان تو بولے مگر اس کے اندر سوز نہ ہو، اور توحید کی چنگاری سے تطہیر نہ ہو، تو وہ عشق جلد ہی نعرہ، جذباتی شور یا سطحی وابستگی میں بدل جاتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے دل کو پھر سے درد مند بنائے، اپنے کلمے کو محض رسم نہ رکھے، اور “لا الہ” کو ایک زندہ انقلابی حقیقت کے طور پر سمجھے۔
جب یہ ہوگا تو عشق پھر سے تابندہ ہوگا، اور اسی سے فرد کی خودی، ملت کی قوت اور دعوت کی تاثیر دوبارہ روشن ہوگی۔
مثال
جیسے چراغ کو صرف روشنی کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ اندر جلتی ہوئی لو بھی چاہیے، ویسے ہی عشق کو صرف لفظ نہیں بلکہ سوزِ دل اور “لا الہ” کی شرار درکار ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ حقیقی عشق دل کے سوز اور کلمۂ توحید کے انقلابی انکار سے زندہ ہوتا ہے۔ “لا الہ” کی چنگاری عشق کو پاک، بلند، منظم اور مؤثر بناتی ہے، اسی لیے یہ عشق فرد اور امت دونوں کی تجدید کا سرچشمہ بنتا ہے۔