رموز بے خودی

مصر هم در امتحان ناکام ماند

مصر هم در امتحان ناکام ماند

استخوان او ته اهرام ماند

ترجمہ

مصر بھی اس آزمائش میں کامیاب نہ ہو سکا، اور اس کی ہڈیاں اہرام کے نیچے ہی دفن رہ گئیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں مصر کو ایک عظیم مگر مردہ تہذیبی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مصر اپنے اہرام، اپنے قدیم جلال، اپنے علمی اسرار اور اپنی تاریخی کشش کے باعث دنیا میں بہت بڑا نام رکھتا ہے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ وہ بھی امتحان میں ناکام رہا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محض قدامت، عظمت، فنِ تعمیر یا تاریخی شہرت کسی قوم کو حقیقی بقا نہیں دے سکتی۔ اگر اس کے اندر زندہ روح، اخلاقی حرارت اور خدا سے وابستہ معنویت نہ ہو تو اس کی باقیات صرف ہڈیوں اور پتھروں کی صورت میں رہ جاتی ہیں۔ شعر کے مطابق:

امتحانِ تاریخ:

اقبال کے نزدیک قوموں کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی بلند عمارتیں بنا سکتی ہیں یا کتنا عظیم ماضی چھوڑ سکتی ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ انسان کے اندر زندہ روحانی شعور، عادلانہ نظم اور تخلیقی حیات پیدا کر سکتی ہیں یا نہیں۔ مصر کا ناکام رہ جانا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی تہذیب اپنے ظاہری کمال کے باوجود وہ زندہ پیغام نہ دے سکی جو زمانوں کو نیا انسان عطا کرتا ہے۔

یعنی تاریخ میں صرف بڑا ہونا کافی نہیں، زندہ ہونا ضروری ہے۔ جو تہذیب زندگی کی اصل روح سے خالی ہو جائے، وہ اپنے بعد پتھر تو چھوڑ جاتی ہے مگر حیات نہیں چھوڑتی۔

اہرام کے نیچے ہڈیاں:

“استخوان او ته اهرام ماند” نہایت گہرا استعارہ ہے۔ اہرام عظمت، دوام کے دعوے اور مادی شکوہ کی علامت ہیں۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ ان کے نیچے آخرکار ہڈیاں ہی رہ گئیں۔ یعنی وہ عظمت جس نے اپنے آپ کو ابدی سمجھا تھا، اس کا حاصل ایک مردہ جسم کی باقیات بن کر رہ گیا۔

اس میں ایک تنبیہ ہے کہ مادی یادگاریں زندگی کا بدل نہیں ہو سکتیں۔ پتھر کا دوام اگر روح کے دوام سے خالی ہو تو وہ صرف خاموشی کا عجائب گھر بن جاتا ہے۔

ظاہر اور باطن کا فرق:

مصر کی مثال دے کر اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ کسی تہذیب کا ظاہری رعب اس کے باطنی معیار کی ضمانت نہیں۔ ممکن ہے ایک قوم کے پاس قدیم علم، زبردست فن، اور حیرت انگیز آثار ہوں، مگر اس کے باوجود وہ انسانی امتحان میں ناکام ہو جائے۔ وجہ یہ کہ باطن کی صداقت، اخلاقی زندگی اور روحانی مرکزیت کے بغیر تمدن کی عمارت اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

یہی نکتہ امت کے لیے بھی اہم ہے: ہمیں کسی قوم کے پتھر، خزانے یا شہرت سے مرعوب ہو کر اس کی روحانی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

بقا کا اسلامی معیار:

اسلامی نگاہ میں بقا کا تعلق صرف یادگار چھوڑ جانے سے نہیں بلکہ ایک زندہ نسبت، ایک مسلسل اخلاقی قوت اور ایک ایسی روحانی روشنی سے ہے جو نسلوں کو جگاتی رہے۔ اقبال مصر کی مثال دے کر بتاتے ہیں کہ جو تہذیب صرف قبروں کے نیچے رہ جائے، وہ خواہ کتنی ہی مشہور ہو، انسانی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اترتی۔

اس لیے مومن کا مقصد سنگی اہرام بنانا نہیں بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو وقت کے بعد بھی حق کی گواہی دیتے رہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سی قومیں اپنی عمارتوں، عجائب گھروں، ٹیکنالوجی، یا تاریخی برانڈ پر فخر کرتی ہیں، مگر سوال اب بھی وہی ہے: کیا ان کے پاس زندہ اخلاقی پیغام ہے؟ کیا وہ انسان کے باطن کو اٹھا سکتی ہیں؟ اقبال کا یہ شعر ہمیں یہ بصیرت دیتا ہے کہ ترقی کی اصل کسوٹی صرف آثار نہیں بلکہ اثر ہے، صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ روح ہے۔

اگر امت اپنی بقا کو محض علامتی عظمت میں تلاش کرے گی تو وہ بھی ایک دن اپنی ہڈیوں کو اپنے ہی اہرام کے نیچے چھوڑ سکتی ہے۔ اصل کامیابی زندہ پیغام اور زندہ انسان میں ہے۔

مثال

جیسے ایک شاندار محل نسلوں تک کھڑا رہ سکتا ہے مگر اگر اس میں رہنے والوں کی کہانی مردہ ہو جائے تو وہ صرف سیاحوں کی جگہ رہ جاتا ہے، ویسے ہی مصر کی عظمت بھی اقبال کے نزدیک زندہ حیات کے بغیر بے معنی ہو جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مصر کی مثال سے بتاتے ہیں کہ صرف تاریخی عظمت، فنِ تعمیر اور مادی دوام حقیقی کامیابی نہیں۔ اگر تہذیب زندہ روح اور اخلاقی پیغام سے خالی ہو تو اس کا انجام اہرام کے نیچے پڑی ہڈیوں جیسا رہ جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button