رموز بے خودی

آتش تاتاریان گلزار کیست؟

آتش تاتاریان گلزار کیست؟

شعلہ های او گل دستار کیست؟

ترجمہ

تاتاریوں کی یہ آگ آخر کس کے گلزار کی پیداوار ہے؟ اور اس کے شعلے کس کے دستار کے پھول ہیں؟

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت چونکا دینے والا سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں پوچھتے کہ تاتاری آگ کہاں سے آئی، بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ آگ کس کے گلزار کی آگ ہے، اور اس کے شعلے کس کے دستار کے پھول ہیں۔ اس سوال میں پوشیدہ اشارہ یہ ہے کہ بیرونی فتنے اکثر کسی داخلی خرابی، کسی تہذیبی کمزوری یا کسی پوشیدہ باطنی انحراف سے بھی غذا پاتے ہیں۔ گویا دشمن کی آگ محض باہر سے نہیں آتی؛ کبھی وہ ہماری ہی خرابیوں کے باغ میں پلتی ہے اور ہمارے ہی ہاتھوں بنے ہوئے ماحول سے بھڑکتی ہے۔ شعر کے مطابق:

آتشِ تاتاریان:

یہ آگ صرف لشکری تباہی کی آگ نہیں بلکہ تہذیبی، علمی، سیاسی اور نفسیاتی تباہی کی آگ بھی ہے۔ تاتاری حملہ شہر جلاتا ہے، مگر ساتھ ہی شعور بھی جلاتا ہے، مرکزیت بھی، اور اعتماد بھی۔ اقبال جب اسے “آتش” کہتے ہیں تو وہ اس کی سوزندگی، اس کی گرفت اور اس کے پھیلاؤ کو سامنے لاتے ہیں۔

مگر وہ یہیں نہیں رکتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ آگ بے سبب کیوں بھڑکی؟ اور اسے ایندھن کس نے دیا؟ یہیں سے شعر کا گہرا اخلاقی پہلو سامنے آتا ہے۔

گلزار کی تعبیر:

گلزار حسن، پرورش، نرمی اور زندگی کی جگہ ہے۔ اقبال کا سوال یہ ہے کہ اگر یہ آگ ہے تو کس گلزار سے نسبت رکھتی ہے؟ یعنی کیا بسا اوقات تہذیب کے بظاہر خوبصورت باغوں کے اندر ہی تباہی کے بیج چھپے ہوتے ہیں؟ کیا آرام طلبی، عیش، غفلت، داخلی نزاع یا روحانی کمزوری ایسے گلزار نہیں بن جاتے جہاں سے آخرکار فتنہ جنم لیتا ہے؟

اس طرح گلزار ایک الٹی علامت بن جاتا ہے: جو چیز بظاہر زینت تھی، وہ باطن میں خرابی کی پرورش گاہ بھی ہو سکتی ہے۔

دستار کے پھول:

“گل دستار” عزت، وقار، قیادت، شرف اور ظاہری امتیاز کی علامت ہے۔ اقبال پوچھتے ہیں کہ اس آگ کے شعلے آخر کس کی دستار کے پھول ہیں؟ یعنی کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ جس چیز کو ہم عزت، قیادت یا روایت کا تاج سمجھے بیٹھے تھے، اسی کے اندر فساد کے عناصر چھپے ہوئے تھے؟

یہ سوال بہت سخت ہے، کیونکہ اس میں امت کو اپنے ہی طبقاتی غرور، اپنی قیادت، اپنے تہذیبی دکھاوے اور اپنی خود فریبی کا محاسبہ کرنا پڑتا ہے۔ فتنہ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا؛ کبھی ہم خود اپنے سر پر اس کے شعلوں کا پھول سجا لیتے ہیں۔

دشمن سے بڑھ کر خود احتسابی:

اقبال کا امتیاز یہی ہے کہ وہ دشمن کی مذمت کرتے ہوئے بھی امت کو بری الذمہ نہیں ٹھہراتے۔ وہ یہ پوچھنے کی جرأت رکھتے ہیں کہ ہماری کمزوری، ہماری غفلت، ہماری جھوٹی شان اور ہمارے اندر کا فساد اس بیرونی آگ کے لیے کس حد تک زمین ہموار کرتا رہا۔

یہی سوال قوموں کو بالغ بناتا ہے۔ جو قوم صرف دشمن کو دیکھتی ہے اور اپنے باطن کو نہیں دیکھتی، وہ اپنے زخم کا علاج نہیں کر سکتی۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے سامنے آنے والی بہت سی آگیں بھی اسی طرح سمجھی جا سکتی ہیں۔ فکری انتشار، تعلیمی کمزوری، اخلاقی زوال، قیادت کی بے وزنی اور روحانی و تہذیبی خلا اگر جمع ہوتے رہیں تو بیرونی یلغار کے لیے دروازہ کھل جاتا ہے۔ اقبال ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم صرف یہ نہ پوچھیں کہ دشمن کون ہے، بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ اس کی آگ کو ایندھن کہاں سے ملا۔

اگر ہم اپنے گلزار کو درست کریں اور اپنی دستار کے پھولوں کو سچا بنائیں تو بہت سے فتنے جڑ پکڑنے سے پہلے ہی کمزور ہو سکتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک گھر میں چنگاری باہر سے آئے مگر اگر اندر خشک ایندھن پہلے سے جمع ہو تو آگ فوراً پھیل جاتی ہے، ویسے ہی بیرونی فتنہ بھی اندرونی کمزوریوں کے بغیر اتنا ہمہ گیر نہیں ہوتا۔ اقبال کا سوال اسی اندرونی ایندھن کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تاتاری آگ کے ذریعے امت کو خود احتسابی کی طرف لاتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ آگ کس گلزار سے اٹھی اور اس کے شعلے کس دستار کے پھول ہیں، یعنی بیرونی تباہی کے پیچھے داخلی خرابیوں، تہذیبی کمزوریوں اور جھوٹی شان کے کردار کو بھی دیکھنا لازم ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button