رموز بے خودی

تا وطن را شمع محفل ساختند

تا وطن را شمع محفل ساختند

نوع انسان را قبائل ساختند

ترجمہ

جب لوگوں نے وطن کو اپنی محفل کی شمع بنا لیا تو پوری نوعِ انسانی کو قبائل میں بانٹ دیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں وطن پرستی کے ایک اور خطرناک نتیجے کو واضح کرتے ہیں۔ جب کسی اجتماعی زندگی کا مرکزِ توجہ وطن بن جائے، یعنی سب سوچ، سب جذبہ، سب وفاداری اور سب حرارت ایک مخصوص سرزمین کے گرد سمٹ جائے، تو انسانیت کی وسیع وحدت بکھر جاتی ہے۔ پھر لوگ پہلے انسان نہیں رہتے، پہلے قبیلے، قومیں، بلاک اور سرحدی گروہ بن جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

شمعِ محفل کا استعارہ:

محفل میں شمع وہ چیز ہوتی ہے جس کے گرد نگاہیں جمع ہوتی ہیں، جس سے روشنی لی جاتی ہے، اور جو مجلس کا مرکز بن جاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جدید انسان نے وطن کو یہی حیثیت دے دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر و شر، دوست و دشمن، عزت و ذلت، قرب و بعد، سب کچھ وطن کی روشنی سے طے ہونے لگا۔ جب یہ ترتیب قائم ہوتی ہے تو حق اور انسانیت ثانوی ہو جاتے ہیں۔

مرکز بدل جائے تو پوری محفل کا مزاج بھی بدل جاتا ہے۔

نوعِ انسان:

اقبال کی نظر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں؛ وہ اس شعر میں پوری نوعِ انسانی کو دیکھ رہے ہیں۔ انسانیت کی اصل عظمت یہ ہے کہ اس میں آدمی دوسرے آدمی کو بنیادی سطح پر اپنا ہم جنس، اپنا شریکِ درد اور اپنا ہم سفر سمجھے۔ لیکن جب وطن محفل کی شمع بن جاتا ہے تو یہ مشترک انسانی شعور کمزور ہو جاتا ہے اور ہر گروہ اپنے محدود دائرے میں سمٹنے لگتا ہے۔

انسانیت کی وسعت اسی وقت قائم رہتی ہے جب آدمی اپنی نسبت کو صرف خاک سے نہ ناپے۔

قبائل ساختند:

قبائل سے مراد صرف قدیم قبیلہ بندیاں نہیں بلکہ ہر وہ جدید تقسیم ہے جو انسان کو الگ خانوں میں بانٹ دے۔ قومی ریاستیں، تہذیبی محاذ، نسلی گروہ، سیاسی بلاک، سب اسی قبیلہ ذہنیت کی نئی شکلیں بن سکتے ہیں۔ اقبال کو خطرہ یہ ہے کہ جدیدیت نے پرانے قبیلے مٹائے نہیں، بلکہ انہیں نئے نام، نئی تنظیم اور زیادہ مہلک شعور دے دیا ہے۔

نام بدل جانے سے تنگی ختم نہیں ہوتی، کبھی وہ اور زیادہ منظم ہو جاتی ہے۔

وحدت سے تفرقہ:

یہ شعر بتاتا ہے کہ جب مرکزِ اجتماع تنگ ہو تو نتیجہ تفرقہ ہی نکلتا ہے۔ وطن ایک مقام ہے، مگر انسانیت ایک وسیع حقیقت ہے۔ اگر مقام حقیقت پر غالب آ جائے تو ہر مقام دوسرے مقام سے الگ ہو کر اپنی محفل جلانا چاہے گا۔ پھر روشنی کم اور رقابت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اقبال اسی تقسیم کے خلاف ایک ایسی آفاقی خودی اور ایسی روحانی اجتماعیت پیش کرتے ہیں جو انسان کو قبائل میں تحلیل ہونے سے بچائے۔

سچی وحدت وہ ہے جو مختلف انسانوں کو قریب لائے، نہ کہ انہیں نازک دیواروں میں تقسیم کرے۔

آج کے لیے سبق:

آج دنیا بظاہر بہت جڑی ہوئی لگتی ہے، مگر اندر سے شدید قبیلہ بندی کا شکار ہے۔ ہر طرف اپنی قوم، اپنا بلاک، اپنی سرحد، اپنا مفاد، اپنی شناخت کے نعرے ہیں۔ اقبال خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہم نے انسان کو پہلے انسان نہ سمجھا تو ٹیکنالوجی کے باوجود روحانی فاصلہ بڑھتا جائے گا۔ ہمیں اپنی مقامی نسبتیں برقرار رکھتے ہوئے ایک بڑے انسانی اور اخلاقی دائرے کو بھی زندہ رکھنا ہوگا۔

اسلامی خودی وطن کی روشنی کو مانتی ہے، مگر اسے انسانیت کی شمع بجھانے نہیں دیتی۔

مثال

جب بین الاقوامی مسائل میں لوگ صرف اپنے ملک کے فائدے کو دیکھتے ہیں اور انسانی دکھ کو محض بیرونی مسئلہ سمجھتے ہیں تو دراصل نوعِ انسان دوبارہ قبائل میں تقسیم ہو چکی ہوتی ہے، چاہے زبان کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق وطن کو مرکز بنا دینے سے پوری انسانیت بکھر کر الگ الگ قبائل میں بدل جاتی ہے۔ اس طرح وسیع انسانی اخوت کمزور ہو جاتی ہے اور محدود اجتماعی شناختیں اصل بن جاتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button