چون صبا بار قبول از دوش گیر
چون صبا بار قبول از دوش گیر
گلشن اندر حلقه ی آغوش گیر
ترجمہ
صبح کی ہوا کی طرح لوگوں کی قبولیت کا بوجھ اپنے کندھے سے اتار دے، اور پورے باغ کو اپنے آغوش کے حلقے میں لے لے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں انسان کو ایک نہایت اہم باطنی آزادی کی طرف بلاتے ہیں: دوسروں کی منظوری اور پسندیدگی کے بوجھ سے نکل آنا۔ پچھلے شعر میں وہ ایک گل پر رک جانے کی کمزوری دکھا چکے تھے۔ اب وہ اس محدودیت کی جڑ پر ضرب لگاتے ہیں۔ آدمی کیوں ایک ہی حلقے میں قید رہتا ہے؟ اکثر اس لیے کہ وہ قبول کیے جانے، پسند کیے جانے اور منظور ٹھہرنے کی فکر میں اپنی وسعت قربان کر دیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صبا بنو، اور پھر پوری گلشن کو گلے لگا لو۔ شعر کے مطابق:
چون صبا:
صبا لطافت، حرکت، تازگی اور آزادی کی علامت ہے۔ وہ کسی ایک پھول کی ملکیت نہیں ہوتی، نہ کسی ایک گوشے میں بند رہتی ہے۔ اس کا کام چلنا، چھونا، بیدار کرنا اور پیغام لے جانا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ خودی بھی صبا کی طرح آزاد، متحرک اور ہمہ گیر ہو۔ جو وجود صبا جیسا ہو، وہ رکتا نہیں، سڑتا نہیں، اور ایک محدود حلقے کا اسیر نہیں بنتا۔
زندہ مزاجی کی علامت یہ ہے کہ آدمی اپنی تاثیر کو بند کمرے میں قید نہ رہنے دے۔
بار قبول:
“قبولیت” اپنی جگہ نعمت ہو سکتی ہے، مگر جب وہ انسان کے لیے بوجھ بن جائے تو اس کی خودی دبنے لگتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی راہ اس بنیاد پر چنتے ہیں کہ کون انہیں پسند کرے گا، کس حلقے میں ان کی تعریف ہوگی، کس جماعت سے انہیں داد ملے گی، اور کس ماحول میں ان کی جگہ بنے گی۔ اقبال اس نفسیاتی غلامی کو بار کہتے ہیں۔ یہ بوجھ اٹھا کر چلنے والا انسان بڑی وسعت اختیار نہیں کر سکتا۔
جو ہر قدم پر منظوری مانگے، وہ آزاد قدم نہیں اٹھا پاتا۔
از دوش گیر:
کندھے سے بوجھ اتارنے کا مطلب ہے اپنے باطن کو اس خوف سے آزاد کرنا کہ اگر میں بڑی بات کروں گا، وسیع دائرے میں جاؤں گا، نئے میدان اختیار کروں گا یا حق کے ساتھ کھڑا ہوں گا تو شاید لوگ قبول نہ کریں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر تمہاری خودی زندہ ہے تو تم حق، خیر اور مقصد کی خاطر یہ خطرہ مول لے سکو گے۔ حقیقی وسعت ان لوگوں کو ملتی ہے جو منظوری کے بازار سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
قبولیت کی بھوک اکثر انسان کو اپنی اصل قامت سے کم پر راضی کر دیتی ہے۔
گلشن اندر حلقه ی آغوش گیر:
جب منظوری کا بوجھ اتر جاتا ہے تو دل بڑا ہو جاتا ہے۔ پھر انسان کسی ایک شخص، ایک حلقے، ایک جماعت یا ایک گوشے کے لیے نہیں رہتا؛ وہ پورے گلشن کو اپنے آغوش میں لینے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا علم، اس کی محبت، اس کی خدمت، اس کی دعوت اور اس کا خیر وسیع ہو جاتا ہے۔ اقبال کی نظر میں یہی صبا کی سیرت ہے: محدود پسندیدگی نہیں، ہمہ گیر تاثیر۔
جس دل کو اپنے لیے داد نہ چاہیے ہو، وہ دوسروں کے لیے بڑی پناہ بن سکتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں قبولیت کی طلب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ لوگ شہرت، پسندیدگی، حلقہ بندی، سماجی توثیق اور مسلسل تعریف کے انتظار میں جیتے ہیں۔ اقبال کا شعر ایسی نفسیاتی غلامی سے نجات دیتا ہے۔ اگر تم خدمت، علم، حق اور تعمیر کے آدمی ہو تو ہر وقت داد مت مانگو۔ اپنا کام اتنے بڑے دل سے کرو کہ ایک محدود حلقے کی قبولیت کے بجائے پوری گلشن کی خیر تمہاری ترجیح بن جائے۔
اسلامی خودی اپنی وسعت کو لوگوں کی داد کے عوض فروخت نہیں کرتی۔
مثال
ایک لکھنے والا یا معلم اگر صرف اپنے گروہ کی پسند کے مطابق بولے تو اس کا اثر محدود رہتا ہے، مگر اگر وہ حق، خیر اور وسیع انسانی فائدے کی خاطر لکھے اور پڑھائے تو آہستہ آہستہ اس کی تاثیر اپنے ابتدائی حلقے سے بہت آگے تک پھیل سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق زندہ خودی کو دوسروں کی منظوری کے بوجھ سے آزاد ہونا چاہیے۔ جب انسان صبا کی طرح آزاد ہوتا ہے تو وہ ایک محدود حلقے کے بجائے پورے گلشن کے لیے اثر، محبت اور خیر کا وسیلہ بن سکتا ہے۔