رموز بے خودی

زانکه ما از سینه جان گم کرده ایم

زانکه ما از سینه جان گم کرده ایم

خویش را در خاکدان گم کرده ایم

ترجمہ

اس لیے کہ ہم نے سینے سے جان کو گم کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو اس خاکی دنیا میں کھو بیٹھے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اچانک نبوی مقام کے بیان سے ہماری اپنی بیماری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ رسول اکرم دنیا میں رہ کر دنیا کے نہ تھے، مگر ہم دنیا میں آ کر خود کو اسی خاکی سطح میں گم کر بیٹھے ہیں۔ “سینه” اور “جان” کا تعلق باطن، روح، حرارت، شوق اور خودی سے ہے؛ “خاکدان” اس مادی، فانی اور محدود دنیا کی علامت ہے جہاں انسان اگر غافل ہو جائے تو اپنی اصل بھول جاتا ہے۔ اقبال گویا کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ دنیا کے وجود میں نہیں، ہماری گم شدگی میں ہے۔ شعر کے مطابق:

سینه اور جان:

سینہ اقبال کے ہاں محض جسمانی عضو نہیں بلکہ باطنی مرکز ہے جہاں درد، شوق، یقین، غیرت اور خدا کی یاد زندہ رہتی ہے۔ “جان” سے مراد انسان کی اصل روحانی حقیقت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ ہم نے جان کو سینے سے گم کر دیا، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا اندرونی مرکز خالی ہو گیا ہے۔ ہم باقی ہیں مگر اپنے اصل معنی کے بغیر۔

جس دل سے جان نکل جائے وہ حرکت تو رکھتا ہے، مگر حیاتِ معنی کمزور پڑ جاتی ہے۔

گم شدگی کا مفہوم:

یہ گم شدگی صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک وجودی بھٹکاؤ ہے۔ انسان اپنی شناخت مال، جسم، قوم، پیشہ، نام، خوف یا خواہش میں ڈھونڈنے لگتا ہے اور اپنی اصل نسبت کو کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے، مگر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا، کس کے لیے جینا ہے، اور اس کی اصل قدر کس چیز سے بنتی ہے۔

یہی وہ بحران ہے جس میں تمدن ترقی کرتا ہے مگر روح سکڑ جاتی ہے۔

خاکدان:

خاکدان سے مراد دنیا کی وہ سطح ہے جو صرف مادہ، خواہش، بدن، لذت اور فنا تک محدود ہو جائے۔ دنیا بطور میدانِ عمل بری نہیں، مگر جب انسان اپنی کل شناخت اسی خاکی سطح سے لے تو وہ خاکدان میں گم ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی اسیری پر ضرب لگاتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان خاک سے بنا ضرور ہے، مگر وہ صرف خاک نہیں۔

اگر جان غائب ہو جائے تو مٹی کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور پرواز رک جاتی ہے۔

نبوی معیار کے مقابلے میں ہماری حالت:

پچھلے اشعار میں حضور کو دنیا کا مہمان بتایا گیا تھا؛ یہاں ہم خود کو خاکدان میں گم پاتے ہیں۔ یہی تقابل شعر کی اصل تیزی ہے۔ رسول کا نمونہ ہمیں آزادی دکھاتا ہے، اور ہماری موجودہ حالت اس آزادی سے دوری کو بے نقاب کرتی ہے۔ اقبال کی شاعری صرف تعظیم نہیں، علاج بھی ہے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ مرض کہاں ہے: ہم نے جان کو سینے سے الگ کر دیا ہے، یعنی خودی کا روحانی مرکز کھو دیا ہے۔

بیماری کی درست تشخیص ہی علاج کی پہلی سیڑھی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کا زمانہ انسان کو مسلسل باہر کی طرف کھینچتا ہے: اسکرین، بازار، شناختی مقابلہ، خواہش، خوف، سیاسی غصہ اور بے شمار بکھراؤ۔ اس ہجوم میں آدمی اپنے سینے کی خبر کھو دیتا ہے۔ اقبال اس شعر میں ہمیں واپس اندر بلاتے ہیں۔ اگر جان کو دوبارہ سینے میں زندہ کرنا ہے تو ذکر، فکر، عبادت، خدمت، سچائی اور نبوی نسبت کے ذریعے خود کو بازیافت کرنا ہوگا۔

اسلامی خودی کی بحالی باہر سے زیادہ اندر کی بازیافت کا نام ہے۔

مثال

ایک شخص ظاہری طور پر کامیاب ہو، مگر دل میں نہ سکون ہو، نہ مقصد، نہ عبادت کی لذت، نہ اخلاقی ثبات، تو وہ دراصل اپنے آپ کو باہر کی دنیا میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنے اصل وجود سے دور ہو چکا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ہماری اصل بیماری بتاتے ہیں: ہم نے اپنی روحانی جان کھو دی ہے اور اپنے آپ کو صرف مادی دنیا میں گم کر دیا ہے۔ نبوی نمونہ ہمیں اسی گم شدگی سے نکل کر باطنی بازیافت کی طرف بلاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button