رموز بے خودی

یعنی آن شمع شبستان وجود

یعنی آن شمع شبستان وجود

بود در دنیا و از دنیا نبود

ترجمہ

یعنی وہ ہستی جو ہستی کے شبستان کی شمع تھی، دنیا میں موجود تھی مگر دنیا کی نہیں تھی۔

تشریح

اقبال اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کامل کیفیت کو بیان کرتے ہیں جس میں حضور دنیا کے اندر رہتے، چلتے، بولتے، محبت کرتے اور امت کی رہنمائی فرماتے ہیں، مگر ان کا دل دنیا کے جال میں گرفتار نہیں ہوتا۔ پچھلے شعر میں لفظ “شما” کے اندر پوشیدہ یہ نکتہ کھولا گیا تھا کہ حضور نے دنیا کو “تمہاری دنیا” کہا، اپنی دنیا نہیں۔ اب اقبال اسی نکتے کو ایک جامع اور حسین استعارے میں سمیٹتے ہیں: حضور “شمع شبستان وجود” ہیں، لیکن ان کی روشنی دنیا کو منور کرتی ہے، دنیا انہیں مقید نہیں کرتی۔ شعر کے مطابق:

شمع شبستان وجود:

شمع روشنی، مرکزیت، بیداری اور رہنمائی کی علامت ہے۔ “شبستان وجود” سے مراد یہ پوری انسانی و کونی زندگی بھی ہو سکتی ہے جو جہالت، غفلت، اضطراب اور محدودیت کے اندھیروں میں گھری رہتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حضور اس شبستان کی شمع ہیں، یعنی وہ ہستی جس کی بدولت وجود کو معنی، راستہ اور روشنی ملتی ہے۔ ان کی آمد محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ کائناتی رہنمائی کا ظہور ہے۔

جہاں شمع ہو وہاں اندھیرا اپنی آخری حیثیت کھو دیتا ہے۔

دنیا میں ہونا:

“بود در دنیا” کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کوئی راہبانہ فرار نہیں۔ رسول اکرم انسانی معاشرے کے اندر تھے: بازار، گھر، مسجد، جنگ، صلح، عدالت، تعلیم، دعا، محبت، معاشرت سب میں۔ اسلام زندگی سے بھاگنے کا نہیں بلکہ زندگی کو خدا کے تابع کرنے کا دین ہے۔ حضور کی سنت یہ دکھاتی ہے کہ روحانیت انسان کو دنیا سے غائب نہیں کرتی، بلکہ اسے دنیا میں باوقار، عادل اور بامقصد بناتی ہے۔

کامل بندگی آسمان پر نہیں، زمین پر کردار کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

دنیا سے نہ ہونا:

“از دنیا نبود” میں اصل بلندی چھپی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب دنیا سے نفرت نہیں بلکہ دنیا کی اسیری سے آزادی ہے۔ حضور کے پاس دنیا آتی ہے مگر ان کے دل کی بادشاہی نہیں چھین سکتی۔ مال ہو تو امانت، اقتدار ہو تو ذمہ داری، محبت ہو تو رحمت، نعمت ہو تو شکر، اور آزمائش ہو تو صبر بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت وہی ہے جس میں انسان دنیا کے اندر رہتا ہے مگر اس کی قدر و قیمت اس سے نہیں لیتا۔

جو دل خدا سے بھر جائے، دنیا اس میں بطور بت جگہ نہیں بنا سکتی۔

نبوی نمونہ اور امت:

اقبال صرف مدح نہیں کر رہے، وہ امت کے لیے میزان قائم کر رہے ہیں۔ مسلمان کو بھی دنیا سے تعلق رکھنا ہے، مگر وہ تعلق غلامانہ نہیں ہونا چاہیے۔ کام، گھر، ملک، علم، تجارت، سیاست، سب زندگی کا حصہ ہیں؛ مگر اگر یہ دل کے مرکز بن جائیں تو انسان دنیا کا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ سب خدا کی اطاعت کے تابع رہیں تو انسان دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔

نبوی اسوہ یہی سکھاتا ہے کہ شرکت اور آزادی ایک ساتھ ممکن ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج کا انسان یا تو مادیت میں اس حد تک ڈوب جاتا ہے کہ اس کی شناخت ہی دنیاوی کامیابی سے بننے لگتی ہے، یا کبھی ایسا خشک زہد اختیار کرتا ہے جو زندگی کی ذمہ داریوں سے بھاگتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر دونوں انتہاؤں کی اصلاح کرتا ہے۔ دنیا میں رہنا عیب نہیں، دنیا کا ہو جانا عیب ہے۔ رسول اکرم کا نمونہ ہمیں یہی توازن دیتا ہے کہ زندگی جیو، ذمہ داریاں نبھاؤ، مگر اپنے دل کی اصل نسبت خدا سے قائم رکھو۔

اسلامی خودی کی پختگی اس میں ہے کہ وہ دنیا کو میدان سمجھے، مسکنِ دل نہ سمجھے۔

مثال

ایک شخص تجارت کرے، گھر بسائے، لوگوں سے تعلق رکھے اور معاشرے میں فعال ہو، مگر فیصلہ کرتے وقت سچ، عدل اور خدا خوفی کو مال، شہرت یا لذت پر ترجیح دے، تو وہ دنیا میں ہے مگر دنیا کا نہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک رسول اکرم وہ روشن ہستی ہیں جو دنیا کے اندر رہ کر بھی اس کی اسیری سے آزاد تھیں۔ یہی نبوی نمونہ امت کو دنیا میں ذمہ دارانہ شرکت اور باطنی آزادی دونوں سکھاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button