در ثنایش گوهر شب تاب سفت
در ثنایش گوهر شب تاب سفت
سیف مسلول از سیوف الهند گفت
ترجمہ
اس کی مدح میں اس نے شب تاب موتی پروئے، اور کھنچی ہوئی تلوار کو ہندوستانی تلواروں میں سے ایک تلوار کہہ کر بیان کیا۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کی توسیع ہے اور کعب بن زہیر کے قصیدے کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اقبال یہاں دکھاتے ہیں کہ جب شاعر مرکزِ نبوت کے حضور مدح کرتا ہے تو اس کی زبان میں نور بھی آتا ہے اور قوت بھی۔ “گوهر شب تاب” روشنی، لطافت اور قیمتی معنی کی علامت ہے، جبکہ “سیف مسلول” جرأت، عزت، دفاع اور عملی قوت کا استعارہ ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک زندہ اسلامی تہذیب میں حسن اور قوت دونوں مرکزِ رسالت سے وابستہ ہو کر معنی پاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
ثنا میں گوہر پروانا:
“در ثنایش گوهر شب تاب سفت” سے مراد یہ ہے کہ مدحِ رسول میں شاعر نے ایسے الفاظ پیش کیے جو موتیوں کی طرح قیمتی اور چراغوں کی طرح روشن تھے۔ اقبال زبان کو محض اظہار کا آلہ نہیں سمجھتے؛ ان کے نزدیک درست نسبت میں استعمال ہونے والی زبان نور پیدا کرتی ہے۔ جب مدح حضور کے لیے ہو تو لفظ صرف سجے ہوئے نہیں رہتے بلکہ دل کو منور کرنے لگتے ہیں۔
لفظ کا اصل حسن اس کی چمک میں نہیں، اس نسبت میں ہے جس کے لیے وہ بولے جائیں۔
شب تاب گوہر کی رمز:
شب تاب موتی وہ ہے جو اندھیرے میں بھی چمکے۔ اس استعارے سے اقبال ایک بڑا اصول دیتے ہیں: جس کلام کو نبوی نسبت مل جائے، وہ زمانے کے اندھیروں میں بھی روشنی دے سکتا ہے۔ یہ محض ادبی تعریف نہیں بلکہ روحانی بصیرت کا اشارہ ہے۔ ایسا کلام نسلوں تک زندہ رہتا ہے کیونکہ اس کی چمک کسی وقتی ذوق کی مرہون نہیں بلکہ ایک دائمی مرکز سے ملی ہوتی ہے۔
نبوی نسبت لفظ کو فانی شہرت سے نکال کر باقی تاثیر دے دیتی ہے۔
سیف مسلول:
تلوار اقبال کے ہاں محض جنگ کا نشان نہیں بلکہ فیصلہ، حزم، حفاظت اور باطل کے مقابلے کی قوت کی علامت ہے۔ “سیف مسلول” یعنی نیام سے نکلی ہوئی تلوار، ایک ایسے ارادے کی خبر دیتی ہے جو تذبذب سے نکل کر اقدام تک پہنچ گیا ہو۔ مدح کے ساتھ تلوار کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ اسلام صرف نغمہ نہیں، عمل بھی ہے؛ صرف لطافت نہیں، عزت و دفاع بھی ہے۔
حسن اگر حق سے جڑا ہو تو بزدل نہیں رہتا؛ اس کے اندر وقار اور قوت بھی پیدا ہوتی ہے۔
سیوف الهند کا ذکر:
ہندوستانی تلواروں کا ذکر اسلامی دنیا کے وسیع جغرافیے کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اقبال یوں دکھاتے ہیں کہ اسلامی روایت کا دائرہ عرب تک محدود نہیں؛ اس میں دوسرے خطوں کی صنعت، قوت اور تہذیبی علامتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ گویا مدحِ رسول میں جب تلوار کا ذکر آتا ہے تو وہ ایک وسیع تر امت کی دنیا کو ساتھ لاتا ہے۔ زبان، قوت اور تہذیبی تنوع سب مرکزِ رسالت میں جمع ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ آفاقی ربط ہے جس سے امت کے بکھرے ہوئے کنارے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج ہمارے ہاں اکثر حسن اور قوت ایک دوسرے سے جدا دکھائی دیتے ہیں: ادب میں قوت کم ہو جاتی ہے، اور قوت میں جمالیات و روحانیت کھو جاتی ہے۔ اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ مدحِ حق کی تہذیب میں لفظ بھی روشن ہوتا ہے اور ارادہ بھی قوی۔ ہمیں ایسی زبان، ایسا علم، اور ایسا فن چاہیے جو اندھیرے میں چراغ بھی ہو اور حق کے دفاع میں تلوار جیسا فیصلہ بھی رکھتا ہو۔
اسلامی خودی کی مکمل صورت نور اور قوت کے اسی باہمی اتصال سے بنتی ہے۔
مثال
ایک سچا خطیب یا لکھنے والا اگر خوب صورت انداز میں بات کرے مگر حق کے دفاع میں خاموش رہے تو اس کا کلام ادھورا ہے؛ اور اگر وہ جذبے سے بولے مگر حکمت، روشنی اور لطافت نہ ہو تو تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ کامل کلام وہ ہے جس میں روشنی بھی ہو اور جرأت بھی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ نبوی نسبت سے جڑا ہوا کلام روشنی بھی پیدا کرتا ہے اور قوت بھی۔ مدحِ رسول میں پروئے گئے الفاظ شب تاب موتیوں کی طرح چمکتے ہیں، اور اسی تہذیب میں حق کے دفاع کی تلوار بھی معنی پاتی ہے۔