ماسوی الله را مسلمان بنده نیست
ماسوی الله را مسلمان بنده نیست
پیش فرعونی سرش افکنده نیست
ترجمہ
مسلمان خدا کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہوتا، اور وہ کسی فرعونی طاقت کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا۔
تشریح
یہ شعر اسلامی حریت کا ایک مکمل منشور ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی اصل شناخت یہی ہے کہ اس کی بندگی صرف خدا کے لیے ہو۔ جو شخص ماسوی اللہ کا بندہ بن جائے، خواہ وہ سلطنت ہو، خوف ہو، خواہش ہو، ہجوم ہو یا استبداد، وہ اسلامی آزادی سے دور ہو جاتا ہے۔ اسی اصول کے نتیجے میں مسلمان فرعونی قوت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ شعر کے مطابق:
ماسوی اللہ کا مفہوم:
ماسوی اللہ میں صرف بت یا مذہبی شرک شامل نہیں، بلکہ ہر وہ طاقت شامل ہے جو خدا کی بندگی پر قبضہ چاہتی ہے۔ مال، حکومت، قوم، جماعت، نفس، شہرت، اور جبر کی مشینری سب “ماسوی” کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ اقبال اس ایک ترکیب میں اسلامی توحید کو عملی اور سیاسی معنی دیتے ہیں: بندگی ایک ہوگی تو غلامی کم ہوگی۔
اسی توحید سے مسلمان کی گردن آزاد رہتی ہے۔
مسلمان کی بندگی:
مسلمان کا بندہ نہ ہونا تکبر نہیں، بلکہ صحیح بندگی کا نتیجہ ہے۔ جو خدا کے حضور جھکتا ہے وہ اسی جھکاؤ سے غیر کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا سیکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک نماز، کلمہ، ذکر اور اطاعت اگر فرعونی نظام کے سامنے سر کو پھر بھی جھکا دیں تو وہ ابھی اپنی سیاسی و روحانی تکمیل تک نہیں پہنچے۔
اسلامی بندگی کی سچائی غیر اللہ کے سامنے عدمِ خضوع سے ظاہر ہوتی ہے۔
فرعونی سر افکندگی:
“پیش فرعونی” میں ہر دور کی استبدادی قوت شامل ہے۔ فرعون صرف ماضی کا بادشاہ نہیں، ایک دائمی مزاج ہے: خود خدائی، غلام بنانے کی خواہش، اور حق کو اپنے تابع دیکھنے کا جنون۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمان کی پیشانی اس مزاج کے سامنے نہیں جھکتی۔ اگر جھک جائے تو اسلام کی آزادی کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہی نکتہ حسینیت کو موسویت کے سلسلے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
حسینی ترجمان:
کربلا میں یہی اصول پوری شدت سے ظاہر ہوا۔ امام حسین نے دکھایا کہ مسلمان یزیدی فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکاتا، چاہے دنیاوی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ اقبال کے نزدیک یہی حسینی فعل اسلام کے سیاسی و روحانی جوہر کی سب سے روشن تفسیر ہے۔
اس لیے کربلا کلمۂ توحید کی عملی تشریح بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج فرعونیت صرف شاہی تختوں میں نہیں، ادارہ جاتی جبر، ظالمانہ معیشت، فکری غلامی، اور خواہش پرستی میں بھی مل سکتی ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر مسلمان نے اپنے سر کو خدا کے سوا کسی اور کی زمین بوسی کے لیے دے دیا تو حریتِ اسلامی کمزور ہو جائے گی۔
اسلامی خودی کی پہچان یہی ہے کہ وہ خدا کے حضور سجدہ کرتی ہے اور فرعون کے سامنے سر بلند رکھتی ہے۔
مثال
ایک دیندار شخص اگر عبادت گزار بھی ہو مگر ظلم، جھوٹ یا ناجائز طاقت کے سامنے خاموش خوف زدہ غلام بن جائے تو اس نے بندگیِ حق کو ابھی اجتماعی و اخلاقی معنی تک نہیں پہنچایا۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مسلمان خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں، اور اسی لیے وہ کسی فرعونی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ اسلامی حریت کی اصل بنیاد یہی توحیدی آزادی ہے۔