چون خلافت رشته از قرآن گسیخت
چون خلافت رشته از قرآن گسیخت
حریت را زهر اندر کام ریخت
ترجمہ
جب خلافت کی ڈور قرآن سے ٹوٹ گئی تو اس نے آزادی کے منہ میں زہر گھول دیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں کربلا کے سیاسی اور دینی پس منظر کو ایک ہی جملے میں واضح کر دیتے ہیں۔ مسئلہ صرف ایک حکمران یا ایک جنگ نہ تھی؛ اصل خرابی یہ تھی کہ خلافت، جو قرآن کی امانت، عدل، شوریٰ اور بندگیِ حق کی نمائندہ ہونی چاہیے تھی، اپنے اصل مرکز سے کٹ گئی۔ جب اقتدار قرآن سے کٹ جائے تو سب سے پہلے حریت زخمی ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
رشته ی خلافت:
“رشته” ایک نہایت معنی خیز لفظ ہے۔ خلافت اور قرآن کے درمیان تعلق محض قانونی یا رسمی نہ تھا، بلکہ ایک زندہ رشتہ تھا: ہدایت، اخلاق، عدل، ذمہ داری اور جواب دہی کا رشتہ۔ جب یہ ڈور سلامت ہو تو اقتدار عبادت اور امانت بنتا ہے۔ اور جب یہ ٹوٹ جائے تو خلافت نام باقی رہتا ہے، روح نکل جاتی ہے۔
اقبال کی نگاہ اسی روحانی ربط پر ہے، محض عنوان پر نہیں۔
قرآن سے گسیختگی:
قرآن سے الگ ہونے کا مطلب صرف تلاوت کا ترک نہیں، بلکہ اس کے عدل، توحید، انسانی مساوات، حریت، اور استبداد شکنی کے مزاج سے الگ ہو جانا ہے۔ جب اقتدار قرآن کو صرف زبانی علامت بنا دے مگر اپنی سیاست، اپنے فیصلے اور اپنے اخلاق میں اس سے دور ہو جائے تو یہ گسیختگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اقبال اسی لمحے کو امت کی بڑی آزمائش قرار دیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دینی شکل باقی رہتی ہے مگر دینی حقیقت کمزور پڑ جاتی ہے۔
حریت کے کام میں زہر:
یہ تعبیر نہایت شدید ہے۔ آزادی کو مارا نہیں گیا صرف؛ اس کے ذوق، اس کے مزاج اور اس کے امکان میں زہر اتارا گیا۔ یعنی ایسا ماحول پیدا ہوا جہاں حق کے لیے کھڑا ہونا مشکل، آزاد روح کا سانس لینا تلخ، اور بندگیِ غیر سے انکار کرنا خطرناک ہو گیا۔ اقبال کے نزدیک یہ زہر صرف سیاسی جبر نہ تھا، بلکہ دینی زبان میں استبداد کا سرایت کر جانا بھی تھا۔
اس لیے کربلا دراصل حریت کے منہ سے زہر نکالنے کی جدوجہد ہے۔
کربلا کی ناگزیریت:
جب خلافت قرآن سے کٹ گئی اور آزادی کے ذوق میں زہر بھر دیا گیا تو پھر حسینی قیام محض ایک انتخاب نہ رہا، ایک ناگزیر ذمہ داری بن گیا۔ اقبال ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ حسینیت محض جذباتی ردعمل نہیں تھی؛ وہ دین کے اصل رشتے کو بچانے اور حریت کے ذائقے کو دوبارہ پاک کرنے کی کوشش تھی۔
یعنی کربلا اقتدار کے خلاف نہیں، قرآن سے کٹے ہوئے اقتدار کے خلاف قیام ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی اگر دینی عنوانات باقی رہیں مگر عدل، حریت، انسانی حرمت اور اخلاقی جواب دہی غائب ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ڈور کمزور ہو رہی ہے۔ اقبال کا یہ شعر خبردار کرتا ہے کہ قرآن سے کٹا ہوا اقتدار حریت کے لیے سب سے بڑا زہر بن سکتا ہے، چاہے وہ اپنے آپ کو کتنا ہی مذہبی ظاہر کرے۔
اسلامی سیاست کی سچائی کا معیار یہی ہے کہ وہ حریت کو زہر دیتی ہے یا جان بخشتی ہے۔
مثال
اگر کوئی نظام مذہبی زبان تو استعمال کرے مگر اختلاف، حق گوئی، عدل اور کمزور کے تحفظ کو دبا دے، تو وہ اسی طرح آزادی کے منہ میں زہر بھر رہا ہوتا ہے جیسے اقبال نے اس شعر میں دکھایا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جب خلافت قرآن کے اصل مزاج سے کٹ گئی تو حریت کا ذوق مسموم ہو گیا۔ کربلا اسی زہریلے انحراف کے مقابلے میں دین کے اصل رشتے کو بچانے کی جدوجہد تھی۔