الله الله بای بسم الله پدر
الله الله بای بسم الله پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر
ترجمہ
سبحان اللہ، اس باپ کے نامِ خدا سے وابستہ عمل کا کمال دیکھو کہ بیٹا “ذبحِ عظیم” کے معنی کی مجسم تفسیر بن گیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امام حسین کی قربانی کو صرف ایک تاریخی شہادت نہیں بلکہ قرآنی و ابراہیمی سنت کی تکمیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ “ذبحِ عظیم” کی طرف اشارہ یہ بتاتا ہے کہ حسین کی شہادت محض خاندانی غم یا سیاسی سانحہ نہیں، بلکہ اس عظیم قربانی کی معنوی تجدید ہے جسے قرآن نے حضرت ابراہیم و اسماعیل کے قصے میں محفوظ کیا۔ شعر کے مطابق:
بسم اللہ پدر کا مفہوم:
اقبال کے یہاں “پدر” صرف جسمانی باپ کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اس پوری ابراہیمی و نبوی نسبت کی طرف اشارہ ہے جس میں قربانی خدا کے نام سے شروع ہوتی ہے۔ “بسم اللہ” کا مطلب ہے کہ فعل کی بنیاد انا، جاہ یا غصہ نہیں بلکہ رضاے الٰہی ہو۔ جب کسی گھرانے کی نسبت خدا کے نام سے جڑی ہو تو اس کے فیصلے بھی صرف دنیاوی منطق سے نہیں سمجھے جا سکتے۔
اسی نسبت کی وجہ سے حسین کی قربانی میں تقدس، شعور اور الوہی سمت جمع ہو جاتی ہے۔
معنی ذبح عظیم:
“ذبح عظیم” کا لفظ قرآن کے معروف واقعے کو جگاتا ہے، مگر اقبال اسے تاریخِ اسلام کے اندر ایک زندہ معنی میں منتقل کرتے ہیں۔ گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس قربانی کو ابراہیمی روایت میں علامتی عظمت ملی تھی، حسین نے اسے امت کی زندگی میں دوبارہ ایک عظیم معنی دے دیا۔ یہاں “پسر” صرف شہید نہیں، قربانی کے راز کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔
اس لیے کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، قربانی کی قرآنی روح کی دوبارہ ظہور گاہ ہے۔
حسینیت اور ابراہیمیت:
اقبال کے ہاں حسین اور اسماعیل، کربلا اور منیٰ، رضا اور ذبح، سب ایک بڑے روحانی نقشے میں مل جاتے ہیں۔ ابراہیمی سنت یہ تھی کہ خدا کے حکم کے سامنے سب کچھ حاضر ہے؛ حسینی سنت یہ بنی کہ دین کے تحفظ کے لیے جان، خاندان، خون اور آرام سب پیش کیے جا سکتے ہیں۔ یوں حسینیت ابراہیمیت کی وارث بنتی ہے، مگر ایک نئے تاریخی مرحلے میں۔
یہی نسبت شہادت کو محض موت کے بجائے امانتِ دین کی ادا میں بدل دیتی ہے۔
کربلا کا مقام:
اگر کربلا کو صرف سیاسی عینک سے دیکھا جائے تو اس شعر کی گہرائی کھلتی نہیں۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ یہاں بات اقتدار یا شکست کی نہیں، قربانی کے اس راز کی ہے جو خدا کے نام پر انسان کو اپنی سب سے قیمتی چیز بھی پیش کر دینے کے قابل بنا دیتا ہے۔ حسین کی قربانی اسی لیے “ذبح عظیم” کے معنی کو تازہ کرتی ہے کہ اس میں جان کے ساتھ دین کی بقا اور امت کی بیداری بھی شامل ہے۔
یہ قربانی ذاتی نہیں، آفاقی بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سی قربانیاں دنیاوی مقاصد، گروہی مفاد یا جذباتی ردعمل کے تحت بھی ہو جاتی ہیں، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچی قربانی وہی ہے جو “بسم اللہ” سے شروع ہو اور “ذبح عظیم” کے معنی پیدا کرے۔ یعنی وہ حق، طہارت، رضا اور بیداری کا سرچشمہ بنے۔ حسینیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بڑی قربانی کا معیار صرف درد نہیں، اس کی الوہی نسبت اور دینی معنی بھی ہے۔
اسلامی حریت کی قیمت اسی وقت مبارک بنتی ہے جب وہ خدا کے نام سے جڑی ہو۔
مثال
اگر کوئی شخص سچائی، عدل یا دین کی خاطر اپنا بڑا ذاتی فائدہ چھوڑ دے، مگر یہ سب اپنی انا کے لیے نہیں بلکہ خدا کی رضا کے لیے کرے، تو اسی نسبت سے اس کے عمل میں قربانی کا اعلیٰ معنی پیدا ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امام حسین کی شہادت کو “ذبح عظیم” کے زندہ معنی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ خدا کے نام سے وابستہ قربانی ہی وہ قربانی ہے جو تاریخ کے ایک واقعے کو ابدی دینی علامت میں بدل دیتی ہے۔
