رموز بے خودی

عشق را آرام جان حریت است

عشق را آرام جان حریت است

ناقه اش را ساربان حریت است

ترجمہ

عشق کے دل و جان کا سکون آزادی ہے، اور اس کے سفر کی اونٹنی کو ہانکنے والا بھی آزادی ہی ہے۔

تشریح

یہ شعر عشق اور حریت کے باہمی رشتے کو نہایت خوب صورت تمثیل میں بیان کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق کا اندرونی آرام بھی آزادی ہے اور اس کی بیرونی حرکت بھی آزادی کے زیرِ قیادت چلتی ہے۔ یعنی عشق کا باطن بھی غلامی کے ساتھ مطمئن نہیں رہ سکتا اور اس کا سفر بھی آزادی کے بغیر صحیح سمت نہیں پاتا۔ شعر کے مطابق:

آرامِ جان کی حیثیت:

ہر دل کسی نہ کسی چیز میں سکون ڈھونڈتا ہے۔ عقل کا سکون حفاظت، نظم، فائدہ یا اطمینانِ حالات میں ہو سکتا ہے، مگر عشق کا سکون حریت میں ہے۔ اگر عاشق کے سامنے آرام اور غلامی ایک طرف ہوں اور بے آرامی کے ساتھ آزادی دوسری طرف، تو وہ دوسری راہ اختیار کرے گا، کیونکہ اس کے دل کو حقیقی سکون صرف حق کے ساتھ آزاد نسبت میں ملتا ہے۔

گویا عشق کو زنجیر کے اندر سکون مل ہی نہیں سکتا۔

ناقہ اور ساربان کی تمثیل:

ناقہ سفر کی علامت ہے اور ساربان رہنمائی، سمت اور حرکت کی۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے سفر کو جو ہانکتا ہے وہ بھی حریت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عشق صرف آزاد رہنا نہیں چاہتا، وہ اپنی پوری حرکت، جہت اور جدوجہد کو بھی آزادی کی قیادت میں رکھتا ہے۔ اس کے راستے کا رہبر کوئی مصلحت، کوئی خوف، یا کوئی دنیاوی حساب نہیں بلکہ حریتِ حق ہے۔

یہ تمثیل عشق کو ساکن کیفیت کے بجائے متحرک آزادی میں بدل دیتی ہے۔

کربلا کی شاہراہ:

کربلا کی طرف حسین کا سفر اسی معنی میں ایک ناقہ کا سفر ہے جسے حریت کا ساربان ہانک رہا تھا۔ وہاں مقصد اقتدار کا حصول نہ تھا، بلکہ بندگیِ غیر سے انکار تھا۔ عشق کے آرامِ جان اور اس کے سفر کی قیادت دونوں حریت کے ہاتھ میں تھیں، اسی لیے وہ کارواں ظاہری قلت کے باوجود راستہ نہ بھولا۔

اس شعر میں کربلا ایک جغرافیائی سفر سے بڑھ کر حریت کی روحانی شاہراہ بن جاتی ہے۔

اسلامی حریت کا مثبت مفہوم:

آزادی کو اکثر صرف قید کے نہ ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے، مگر اقبال اس سے آگے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں حریت عشق کا آرام بھی ہے اور اس کی حرکت کا رہنما بھی۔ یعنی آزادی محض نفی نہیں، ایک مثبت، زندہ اور رہبرانہ حقیقت ہے۔ وہ انسان کو صرف زنجیر سے نہیں بچاتی بلکہ اسے منزل کی طرف بھی لے جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حریت اقبال کے ہاں ایک تہذیبی قوت بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ آزادی چاہتے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ آزادی کو کس سمت میں لے جانا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر آزادی کے پاس کوئی حق پر مبنی رہنمائی نہ ہو تو وہ خواہش کا میدان بن سکتی ہے۔ عشق کی آزادی وہ ہے جس میں دل کا سکون بھی حق سے وابستہ ہو اور زندگی کا سفر بھی اسی کے تابع ہو۔

اسلامی آزادی بے سمت فرار نہیں، باوقار رہنمائی کے ساتھ چلنے والی حرکت ہے۔

مثال

ایک اصولی انسان محض بندشوں سے نکلنے کو کافی نہیں سمجھتا؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ میری آزادی مجھے کس مقصد، کس خدمت اور کس سچائی کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہی آزادی جب مقصد سے جڑ جائے تو وہ عشق کی آزادی بنتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق عشق کے دل کا سکون بھی حریت ہے اور اس کے سفر کا رہبر بھی حریت ہے۔ اسلامی آزادی اس طرح ایک زندہ، متحرک اور حق شناس قوت بن جاتی ہے، محض رکاوٹوں سے نجات نہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button