عقل می گوید که خود را پیش کن
عقل می گوید که خود را پیش کن
عشق گوید امتحان خویش کن
ترجمہ
عقل کہتی ہے کہ اپنے آپ کو آگے رکھو اور اپنا مفاد دیکھو، جبکہ عشق کہتا ہے کہ اپنے آپ کو آزماؤ۔
تشریح
اقبال یہاں خودی کے دو راستوں میں فرق کرتے ہیں: ایک وہ جو خود کو مرکز بنا کر ہر چیز کو اپنے فائدے، تحفظ اور نمود کے گرد گھماتا ہے؛ دوسرا وہ جو خودی کو امتحان میں ڈال کر اس کی سچائی پرکھتا ہے۔ عقل کی خود پیشی اور عشق کی خود آزمائی میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اسلامی حریت اور کربلا اسی دوسرے راستے کی بلند ترین مثال ہیں۔ شعر کے مطابق:
خود را پیش کن:
عقل کئی بار انسان کو یہی سبق دیتی ہے کہ اپنی جگہ محفوظ کرو، اپنی بقا کا حساب رکھو، اپنی اہمیت منواؤ، اپنے آپ کو پیش منظر میں رکھو۔ اس میں خود پرستی، خود حفاظت اور خود اثبات کے مختلف درجے شامل ہیں۔ اقبال اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دنیاوی نظام اکثر ایسے ہی چلتے ہیں، مگر وہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اسی مزاج سے انسان حق پر کم اور اپنے اوپر زیادہ مرکوز ہو جاتا ہے۔
یوں خودی بلندی کے بجائے خود پسندی میں بدل سکتی ہے۔
امتحانِ خویش:
عشق خودی کو بچانے کے بجائے پرکھنا چاہتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: تمہارا دعویٰ کتنا سچا ہے؟ تمہاری وفاداری کتنی پختہ ہے؟ تمہارا ایمان قربانی کے سامنے کیسا ہے؟ تم اپنی ذات کو حق کے لیے کس حد تک داؤ پر لگا سکتے ہو؟ یہی امتحان خودی کو جھوٹ سے پاک کرتا اور اسے سچی بلندی دیتا ہے۔
اقبال کے نزدیک خودی کی تکمیل راحت میں نہیں، امتحان میں ہوتی ہے۔
کربلا بطور امتحان:
کربلا میں حسینیت نے خود کو پیش نہیں کیا، خود کو آزمایا۔ مقصد یہ نہ تھا کہ دنیا ان کی بڑائی دیکھے، بلکہ یہ کہ حق کے ساتھ وفاداری کی انتہا عملاً ظاہر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا شہرت کا نہیں، امتحان کا میدان ہے۔ عشق وہاں یہ ثابت کرتا ہے کہ سچی خودی اپنی تصدیق قربانی میں چاہتی ہے، نہ کہ دنیاوی تصدر میں۔
اس لیے حسینیت کی عظمت نمائش نہیں، آزمائش سے نکلتی ہے۔
اسلامی حریت کا باطن:
سچا آزاد وہ نہیں جو ہر جگہ اپنی ذات کو آگے رکھے، بلکہ وہ ہے جو اپنی ذات کو حق کی کسوٹی پر رکھ سکے۔ اگر آزادی صرف خود اظہار بن جائے تو وہ انا کی خدمت بھی کر سکتی ہے۔ مگر اگر آزادی خود امتحانی بن جائے، تو وہ بندگیِ حق کی طرف لے جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق اسی لیے خودی کو مسلسل آزماتا ہے۔
یہ امتحان انسان کو کم نہیں کرتا، اسے زیادہ سچا بناتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے زمانے میں خود کو “پیش” کرنا ایک بڑا شعار ہے: اپنی برانڈنگ، اپنی نمائش، اپنا مقام، اپنی آواز، اپنی کامیابی۔ اقبال اس سے کہیں گہرے مقام پر لے جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: کیا تم نے کبھی خود کو آزمایا بھی ہے؟ کیا تمہاری سچائی صرف دعویٰ ہے یا قربانی میں بھی ثابت ہوتی ہے؟
اسلامی خودی کو تشہیر سے زیادہ محاسبہ، اور پیش کش سے زیادہ امتحان درکار ہے۔
مثال
ایک شخص جو سچائی، دیانت یا وفاداری کی باتیں تو بہت کرتا ہو مگر مشکل وقت آنے پر اپنے آرام، فائدے یا مقام کو بچانے لگے، اس نے خود کو پیش کیا تھا، آزمایا نہیں تھا۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق عقل خود کو محفوظ اور نمایاں کرنا سکھاتی ہے، جبکہ عشق خودی کو امتحان میں ڈال کر اس کی سچائی ظاہر کرتا ہے۔ اسلامی حریت اسی امتحان سے پیدا ہونے والی خودی کی آزادی ہے۔