خون او ای معشر خیرالانام
خون او ای معشر خیرالانام
بر دم تیغ مسلمانان حرام
ترجمہ
اے بہترین انسانوں کی جماعت، اب اس کا خون مسلمانوں کی تلوار کی دھار پر حرام ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر کے ساتھ حکایت کا فیصلہ کن اختتام کرتے ہیں۔ ابوعبید کے الفاظ میں ملت کی روح بولتی ہے: جب امان دی جا چکی تو جابان کا خون مسلمانوں کی تلوار پر حرام ہے۔ یہ صرف ایک آدمی کی جان بچانے کی بات نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کے اخلاقی وقار کا اعلان ہے۔ شعر کے مطابق:
معشرِ خیرالانام:
یہ خطاب نہایت بلند ہے۔ ابوعبید اپنی جماعت کو “خیر الانام” کہتے ہیں، مگر تعریف کے طور پر نہیں بلکہ یاد دہانی کے طور پر۔ گویا اگر تم واقعی بہترین امت یا بہترین لوگوں کی جماعت ہو، تو تمہارے ہاتھ سے امان کے بعد خون نہیں بہنا چاہیے۔ فضیلت ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے، استثنا کے ساتھ نہیں۔
اقبال اس خطاب سے شرف اور تکلیف، دونوں کو ایک ساتھ باندھتے ہیں۔
حرمتِ خون:
“حرام” کا لفظ یہاں پوری شدت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ دشمن کی جان بھی اگر امان کے دائرے میں آ گئی تو اس کا خون بہانا محض غلطی یا خلافِ مروت نہیں، دینی طور پر ممنوع ہو گیا۔ اقبال یوں بتاتے ہیں کہ اسلامی شجاعت کبھی بے قید نہیں ہوتی؛ وہ حدودِ حق کے اندر چلتی ہے۔
یہی حرام و حلال کی زبان اسلامی تہذیب کو محض جذباتی اخلاقیات سے اٹھا کر ذمہ دار شریعت میں تبدیل کرتی ہے۔
تیغ کی دھار پر قانون:
سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ حرمتِ خون اس وقت بیان کی جا رہی ہے جب تلوار موجود ہے، طاقت موجود ہے، فتح موجود ہے۔ یعنی قانون کمزور کے دن کا نہیں، طاقت کے دن کا بھی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی اخلاق طاقت پر غالب آتا ہے۔
اگر قانون صرف کمزوری کے وقت یاد رہے تو وہ کامل تہذیب نہیں بنتا۔
اخوت کا وسیع تر اثر:
اگرچہ جابان مسلمان نہیں، پھر بھی اسلامی اخوت کے اصول بالواسطہ یہاں کام کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ملت کی روح ایسی ہے جو اپنے عہد، اپنی امانت اور اپنے اخلاق کے ذریعے غیر مسلم دشمن کو بھی حرمت کے دائرے میں لے آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اخوت خود اپنے اندر عدل اور امان کے ایسے اصول رکھتی ہے جو اپنے دائرے سے باہر والوں تک بھی خیر پہنچاتے ہیں۔
یہی نبوی تہذیب کا حسن ہے کہ اس کی خیر صرف اپنے حلقے تک محدود نہیں رہتی۔
آج کے لیے سبق:
آج کے زمانے میں طاقت کے ساتھ قانون، اور فتح کے ساتھ اخلاق قائم رکھنا سب سے مشکل کاموں میں سے ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم واقعی محمدی تہذیب کے وارث ہیں تو ہماری تلوار، زبان، طاقت، قانون اور میڈیا سب کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ امان اور حرمت کی حدود فتح کے بعد بھی نہیں ٹوٹتیں۔
امت کا اصل وقار اسی میں ہے کہ وہ جہاں چاہے چوٹ کر سکے، وہاں بھی اپنے ہاتھ کو شریعت سے باندھے۔
مثال
کسی قانونی یا سیاسی فتح کے بعد اگر غالب فریق انتقام لینے کے بجائے پہلے سے طے شدہ ضمانت اور اصول کی پابندی کرے، تو وہ اپنی تہذیب اور اداروں کی اصل قوت دکھاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امان مل جانے کے بعد دشمن کا خون مسلمانوں کی تلوار پر حرام ہو جاتا ہے۔ اسلامی فضیلت کی اصل یہی ہے کہ طاقت کے دن بھی شریعت اور وعدے کی حرمت قائم رہے۔