رموز بے خودی

قوت او هر کهن پیکر شکست

قوت او هر کهن پیکر شکست

نوع انسان را حصار تازه بست

ترجمہ

اس کی قوت نے ہر پرانے ڈھانچے کو توڑ دیا، اور نوعِ انسان کے گرد ایک نیا حصار قائم کر دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں محمدی رسالت کے دوہری اثر کو ظاہر کرتے ہیں: ایک طرف اس نے پرانے جابرانہ ڈھانچوں کو توڑا، دوسری طرف انسانیت کے لیے ایک نئی حفاظتی و اخلاقی ساخت قائم کی۔ اقبال کے نزدیک حقیقی انقلاب صرف انہدام نہیں کرتا، بلکہ اس کے بعد بہتر تعمیر بھی کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

ہر کہن پیکر کیا ہے:

“کهن پیکر” سے مراد وہ تمام بوسیدہ تہذیبی، سیاسی، روحانی اور طبقاتی سانچے ہیں جو انسان کو غیر انسانی تعلقات میں قید کیے ہوئے تھے۔ یہ قدیم ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام نہیں تھے، کیونکہ ان کے اندر ظلم اور ناانصافی جڑ پکڑ چکی تھی۔ رسالت کی قوت نے انہی ڈھانچوں کو توڑا جو انسانی کرامت کے خلاف کھڑے تھے۔

اقبال کے نزدیک پرانا ہونا بذاتِ خود فضیلت نہیں، اگر اس میں انسان کی آزادی دب رہی ہو۔

تعمیر کے بغیر انقلاب ادھورا:

شاعر فوراً دوسرے مصرعے میں واضح کرتے ہیں کہ مقصد صرف توڑنا نہ تھا۔ “حصار تازه” اس نئی تہذیبی و اخلاقی حفاظت کا نام ہے جس میں انسان دوبارہ بے پناہ نہیں رہتا۔ جب پرانے باطل حصار ٹوٹتے ہیں تو اگر نئی حقانی ترتیب قائم نہ ہو تو افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ رسالتِ محمدیہ نے یہی خلا نہیں چھوڑا بلکہ انسانیت کے لیے نئی بنیاد رکھ دی۔

گویا نبوی انقلاب میں نفی کے ساتھ اثبات بھی موجود ہے۔

حصار کی نئی معنویت:

یہ حصار جبر کی دیوار نہیں بلکہ وقار، عدل، اخوت اور حریت کا حفاظتی دائرہ ہے۔ اس میں انسان کو آقاؤں سے آزادی ملتی ہے، مگر بے مہاری نہیں؛ مساوات ملتی ہے، مگر انتشار نہیں؛ اخوت ملتی ہے، مگر بے اصولی نہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی تازہ حصار شریعت، نبوی اخلاق اور توحیدی مرکز سے قائم ہوتا ہے۔

انسان پھر پہلی بار اپنے لیے نہیں، انسانیت کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔

نوعِ انسان کی بات:

یہاں صرف مسلمانوں یا عربوں کی بات نہیں۔ اقبال رسالتِ محمدیہ کو نوعِ انسان کے لیے نئی حفاظت قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمدی پیغام کسی محدود گروہ کا فائدہ نہیں، بلکہ انسانی رتبے کی عمومی بحالی ہے۔

اسی لیے یہ انقلاب مقامی نہ رہ کر آفاقی بن جاتا ہے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج بھی بہت سے لوگ ظلم کے پرانے ڈھانچے توڑنا چاہتے ہیں، مگر بعد میں کیا بنانا ہے، اس کا واضح جواب نہیں دیتے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محض شکست کافی نہیں، تازہ حصار بھی چاہیے۔ محمدی نمونہ یہی سکھاتا ہے کہ عدل، توحید، مساوات اور اخلاق پر مبنی نئی انسانی ترتیب کے بغیر انقلاب ادھورا رہتا ہے۔

اگر پرانا پیکر ٹوٹے اور انسان پھر غیر محفوظ رہ جائے تو مقصد پورا نہیں ہوتا۔

مثال

کسی خراب ادارے کو بند کر دینا ایک قدم ہے، مگر اس کے بعد بہتر نظام نہ بنایا جائے تو خرابی کسی اور شکل میں لوٹ آتی ہے۔ حقیقی اصلاح انہدام اور تعمیر دونوں مانگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسالتِ محمدیہ نے بوسیدہ ظالمانہ ڈھانچوں کو توڑا اور انسانیت کے لیے ایک نیا حفاظتی نظام قائم کیا۔ محمدی انقلاب کی اصل قوت اسی میں ہے کہ وہ نفی کے بعد بہتر اثبات بھی دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button