پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسول ما رسالت ختم کرد
ترجمہ
پس اللہ نے ہم پر شریعت کو کامل اور ختم کر دیا، اور ہمارے رسول پر رسالت کو ختم کر دیا۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں ختمِ شریعت اور ختمِ رسالت کے مضمون کو امت کی زندگی کے ساتھ باندھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ختم ہونا محرومی کی علامت نہیں، بلکہ تکمیل، اتمامِ حجت، اور ایک ایسی جامع ہدایت کا عطا ہونا ہے جس کے بعد امت کو خود بالغ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ شعر کے مطابق:
ختم کا درست مفہوم:
“ختم” کو صرف اختتام کے محدود معنی میں لینے سے شعر کی روح پوری طرح نہیں کھلتی۔ اقبال کے نزدیک ختم میں تکمیل، پختگی اور اتمام بھی شامل ہیں۔ یعنی شریعت اپنی کامل صورت میں امت کو عطا ہوئی، اور رسالت اپنی آخری و جامع ترین صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوئی۔
اس لیے ختم یہاں کمی کا نام نہیں، بلکہ کمالِ عطا کا نام ہے۔
ہم پر شریعت ختم ہوئی:
اس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو ایسا دینی نظام ملا جو اصول، عبادت، اخلاق، اجتماع، عدل اور تہذیب کے اعتبار سے اپنی جامع صورت رکھتا ہے۔ اب امت کے پاس بہانہ نہیں کہ اسے مکمل رہنمائی دستیاب نہ تھی۔ یہ شریعت خود ایک امانت بن گئی جسے سمجھنا، برتنا اور دنیا کے سامنے سچائی کے ساتھ پیش کرنا امت کی ذمہ داری ہے۔
یوں امت کو ایک بالغ اخلاقی مقام عطا ہوا ہے، جہاں اس سے سنجیدگی اور ذمہ داری دونوں مطلوب ہیں۔
رسول پر رسالت ختم ہوئی:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر رسالت کا ختم ہونا ان کی منفرد مرکزی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اب ہدایت کا معیار، سنت کا مرکز، اور نبوی نمونہ انہی پر مکمل ہوا۔ امت کو نئی نبوتوں کی تلاش میں نہیں بھٹکنا، بلکہ اسی کامل نبوی سرچشمے سے مسلسل فیض لینا ہے۔
اقبال کے نزدیک یہی ختم، امت کے لیے فکری استحکام اور دینی تحفظ کا سبب ہے۔
تکمیل اور ذمہ داری کا ربط:
جب رہنمائی مکمل ہو جائے تو ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اقبال اس شعر کے پس منظر میں یہ احساس دلاتے ہیں کہ چونکہ امت کو آخری شریعت اور آخری رسول مل گئے، اس لیے اسے اپنی تہذیبی اور اخلاقی پختگی بھی دکھانی ہوگی۔ اب عذر کم اور امانت زیادہ ہے۔
ختمِ رسالت امت کو سستی نہیں دیتا، بلکہ اس کے شانے پر آخری امانت کا وزن رکھتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بعض لوگ ختم کے عقیدے کو صرف ایک دفاعی عبارت سمجھتے ہیں، جبکہ اقبال اسے امت کی حیات، وقار اور ذمہ داری کے تناظر میں پڑھتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس کامل شریعت اور خاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ موجود ہے تو پھر ہمیں اپنی علمی، اخلاقی اور اجتماعی کاہلی کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا۔
یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ تکمیلِ ہدایت کے بعد تکمیلِ ذمہ داری بھی لازم آتی ہے۔
مثال
جب کسی طالب علم کو مکمل نصاب، بہترین استاد اور واضح امتحانی رہنمائی مل جائے تو پھر اس کی ذمہ داری بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ وسائل کے مکمل ہونے کے بعد سستی کا عذر کم رہ جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ختمِ شریعت اور ختمِ رسالت محرومی نہیں بلکہ تکمیلِ ہدایت کی نعمت ہیں۔ اسی نعمت کے ساتھ امت پر بالغ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس امانت کو سمجھ کر زندہ رکھے۔