بنده ی حق پیش مولا لاستی
بنده ی حق پیش مولا لاستی
پیش باطل از نعم بر جاستی
ترجمہ
بندۂ حق اپنے مولا کے سامنے “لا” کہتا ہے، اور باطل کے سامنے “نعم” سے انکار کر کے جم جاتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال مومن کے رویے کا ایک نہایت گہرا قرآنی و توحیدی خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ “لا” اور “نعم” یہاں صرف الفاظ نہیں، بلکہ پوری شخصیت کی سمت کے استعارے ہیں۔ بندۂ حق کا دل خدا کے سامنے جھکتا ہے، مگر باطل کے سامنے ہاں نہیں کرتا۔ شعر کے مطابق:
پیشِ مولا لاستی:
یہاں “لا” سے پہلی نظر میں نفی مراد ہے، مگر توحید کے تناظر میں یہ نفی ہر جھوٹے معبود، ہر نفسانی دعوے اور ہر غیر حقیقی سہارے کی نفی بھی ہے۔ بندۂ حق اپنے مولا کے سامنے سب باطل نسبتوں کا انکار کر دیتا ہے۔ گویا وہ اللہ کے حضور اپنے نفس، اپنے غرور اور دنیا کے جھوٹے سہاروں سے دست بردار ہو جاتا ہے۔
اسی نفی کے بعد ہی اثبات کا راستہ کھلتا ہے۔ اقبال کی توحیدی تربیت میں “لا” ایک روحانی آزادی کا دروازہ ہے۔
پیشِ باطل نعم نہ کہنا:
باطل کے سامنے جم جانا اس بات کی علامت ہے کہ مومن آسانی سے سرنڈر نہیں کرتا۔ وہ باطل قوتوں، غلط مطالبات، نفسانی دعوتوں اور ظالمانہ دباؤ کے سامنے “ہاں” کہہ کر اپنی روح نہیں بیچتا۔ اقبال کے نزدیک بندگیِ حق کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ انسان باطل کی بندگی سے آزاد ہو جائے۔
یہاں استقامت صرف سیاسی مفہوم میں نہیں، فکری، اخلاقی اور شخصی سطح پر بھی مطلوب ہے۔
لا اور نعم کا باہمی رشتہ:
یہ شعر بتاتا ہے کہ جو اللہ کے لیے “لا” سیکھتا ہے، وہی باطل کے لیے “ہاں” سے بچ سکتا ہے۔ اگر انسان اندر سے غیر اللہ کی نفی نہ کرے تو باہر کے دباؤ کے سامنے بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اقبال کی پوری خودی کی تعمیر اسی دو مرحلوں سے جڑی ہے: پہلے باطل سہاروں کی نفی، پھر حق کے سامنے استقامت۔
یہی وجہ ہے کہ بندگی اور آزادی اقبال کے ہاں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
مومن کی آزادی:
عام سمجھ یہ ہے کہ بندگی انسان کو کمزور بناتی ہے، مگر اقبال اس کے برعکس دکھاتے ہیں کہ بندگیِ حق انسان کو غیر اللہ سے آزاد کرتی ہے۔ جو شخص ایک رب کے سامنے جھکنا سیکھ لے، وہ باقی سب کے سامنے نسبتاً سیدھا کھڑا رہ سکتا ہے۔ اس کی ہمت کا منبع بھی یہی توحیدی آزادی ہوتی ہے۔
پس شعر میں اطاعت اور وقار ایک ہی وقت میں جمع ہیں۔
ہمارے لیے سبق:
آج باطل ہمیشہ کسی بڑے سیاسی عنوان سے نہیں آتا۔ کبھی وہ غلط کمائی کی دعوت ہوتا ہے، کبھی جھوٹ، کبھی چاپلوسی، کبھی ضمیر بیچنے کی سہولت، کبھی ایک ایسا “ہاں” جو وقتی فائدہ دے مگر روح کو کمزور کر دے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مومن اپنے اندر وہ “لا” پیدا کرے جو باطل کے سامنے اس کی زبان اور کمر دونوں سیدھی رکھے۔
یہی ایمان کی عزت ہے: خدا کے لیے جھکنا اور باطل کے لیے نہ جھکنا۔
مثال
ایک ملازم کو اگر ناجائز رپورٹ پر دستخط کرنے کا کہا جائے اور وہ نوکری کے خوف کے باوجود انکار کر دے، تو یہ باطل کے سامنے “نعم” نہ کہنے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس انکار کی جڑ اندرونی خدا خوفی میں ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق بندۂ حق اللہ کے سامنے اپنے نفس اور باطل نسبتوں کی نفی کرتا ہے، اور اسی کے نتیجے میں باطل قوتوں کے سامنے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ یہی توحیدی آزادی مومن کا اصل وقار ہے۔

