رموز بے خودی

دست شه نادیده خنجر بر کشید

دست شه نادیده خنجر بر کشید

شرزه شیری را شکم از هم درید

ترجمہ

بادشاہ نے دیکھے بغیر خنجر نکالا، اور اس درندہ شیر کا پیٹ چاک کر دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں عالمگیر کے ردعمل کو بجلی کی طرح مختصر مگر فیصلہ کن انداز میں دکھاتے ہیں۔ شیر کے حملے کے بعد اب عمل کا لمحہ آتا ہے، اور یہاں بادشاہ کا ردعمل سوچ کی سستی، خوف کی تاخیر یا گھبراہٹ کے بغیر سامنے آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باطنی جمعیت خارجی حرکت بن جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

نادیدہ خنجر برکشیدن:

“نادیده” نہایت معنی خیز لفظ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمگیر بےخبری میں حرکت کر رہا تھا، بلکہ یہ کہ اس کی حرکت اس درجے کی حاضر اور مجتمع تھی کہ اسے اضافی ٹھہراؤ، گھبراہٹ یا ظاہری حساب کتاب کی ضرورت نہ پڑی۔ خطرہ سامنے ہے، مگر دل سن نہیں ہوا۔ ہاتھ نے درست جواب دیا۔

یہ اسی شخص کا کام ہے جس کا باطن پہلے سے منتشر نہ ہو۔ بکھرا ہوا دل حملے کے وقت حرکت کھو دیتا ہے، مجتمع دل حرکت پا لیتا ہے۔

عمل کی سرعت اور مرکزیت:

اقبال کے نزدیک سچا عمل محض جلدی کا نام نہیں، بلکہ اس سرعت کا نام ہے جو یقین سے پیدا ہو۔ اگر اندر شک، خوف اور بے سمتی ہو تو تیزی بھی غلط جا سکتی ہے۔ مگر جب دل حقیقت سے جڑا ہو تو عمل کی رفتار اور اس کی درستی ساتھ آ جاتی ہے۔ یہاں خنجر کا بر وقت نکلنا اسی مرکزیت کا نتیجہ ہے۔

گویا باطن نے پہلے فیصلہ کر رکھا تھا، جسم نے صرف اس کا اظہار کیا۔

درندہ شیر کا چاک ہونا:

شیر کی درندگی اس کی بیرونی قوت تھی، مگر اقبال دکھاتے ہیں کہ محض ظاہری ہیبت حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر انسان کا دل بیدار ہو تو وہ خطرے کی ہیبت کو توڑ سکتا ہے۔ شیر کا شکم چاک ہونا دراصل اس تصور کی شکست ہے کہ خوف ہمیشہ فیصلہ کن رہے گا۔

یہاں جسمانی کامیابی کے پیچھے اصل بات روحانی استقامت ہے، ورنہ محض جنگی مہارت سے اقبال کا مقصود پورا نہ ہوتا۔

باطن سے ظاہر تک:

یہ شعر اقبال کے ایک اہم اصول کی عملی تصویر ہے: صحیح باطن صحیح عمل پیدا کرتا ہے۔ نماز میں محویت، حقیقت سے نسبت، اور دل کی عدمِ پراکندگی اب ایک خارجی حرکت میں ڈھل گئی ہے۔ اگر اندر خوف غالب ہوتا تو ہاتھ سست پڑ جاتا۔ اگر نفس غالب ہوتا تو ردعمل بکھر سکتا تھا۔ مگر یہاں دل کی جمعیت نے حرکت کو فیصلہ کن بنایا۔

اس لیے شعر میں اصل تعریف خنجر کی نہیں، دل کی ہے۔

زندگی کے لیے رہنمائی:

ہماری زندگی میں بھی کئی بار ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جہاں بہت زیادہ تاخیر نقصان بڑھا دیتی ہے۔ مگر درست اور فوری فیصلہ صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان کا اندر پہلے سے واضح ہو۔ جو شخص ہر وقت تذبذب میں جیتا ہو، وہ نازک گھڑی میں زیادہ بکھر جاتا ہے۔

اقبال اس شعر کے ذریعے سکھاتے ہیں کہ قلبی جمعیت، ذکر اور حق سے تعلق آخرکار عملی قوت میں بدلتے ہیں۔ یہی باطن کی سچی آزمائش ہے۔

مثال

ایک تجربہ کار پائلٹ ہنگامی صورت میں لمبی گھبراہٹ میں نہیں جاتا، کیونکہ اس کی تربیت اور اندرونی جمعیت اسے فوراً درست قدم اٹھانے دیتی ہے۔ یہی فرق صرف علم اور پختہ آمادگی میں ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک فیصلہ کن عمل اس دل سے پیدا ہوتا ہے جو پہلے سے حقیقت سے جڑا اور اندر سے مجتمع ہو۔ عالمگیر کا فوری ردعمل اسی باطنی پختگی کا ظاہری اظہار ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button