رموز بے خودی

بوی انسان دادش از انسان خبر

بوی انسان دادش از انسان خبر

پنجه عالمگیر را زد بر کمر

ترجمہ

انسان کی بو نے اسے انسان کی موجودگی کا پتا دے دیا، اور اس نے عالمگیر کی کمر پر پنجہ مارا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خطرے کو اور زیادہ قریب لے آتے ہیں۔ شیر اب صرف دور سے دھاڑنے والا منظر نہیں رہا، بلکہ اس نے انسان کو پہچان لیا اور حملہ کر دیا۔ یہ قربِ خطر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایمان اور حضورِ قلب کا امتحان تبھی مکمل ہوتا ہے جب خطرہ محض تصور نہ رہے بلکہ جسم اور جان تک پہنچ جائے۔ شعر کے مطابق:

بو سے خبر پانا:

شیر نے آنکھ سے پہلے بو سے انسان کو پہچانا۔ اس تصویر میں ایک لطیف نکتہ ہے: بعض خطرات ہمیں ہماری موجودگی، ہماری کمزوری اور ہماری بشریت کی وجہ سے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ انسان چاہے جتنا مضبوط ہو، وہ بہرحال ایک جسم رکھتا ہے، ایک مقام رکھتا ہے، اور دنیا کے دائرے میں موجود ہے۔

اقبال اس اشارے سے شاید یہ بھی بتاتے ہیں کہ امتحان کوئی خیالی شے نہیں، وہ ہماری حقیقی حالت تک پہنچتا ہے۔

حملے کی بےواسطگی:

“پنجه … زد بر کمر” میں خطرے کی بےواسطہ شدت ہے۔ حملہ براہِ راست جسم کے اس حصے پر ہوا جہاں عدمِ توازن، گرنا یا کمزور پڑنا ممکن تھا۔ اقبال اس تفصیل کے ذریعے واقعے کو مجسم بناتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ یہاں خوف کو فلسفہ نہیں بنایا جا رہا، بلکہ ایک حقیقی جسمانی امتحان بیان ہو رہا ہے۔

ایسے موقع پر عام آدمی کا پہلا ردعمل سن ہو جانا، گھبرا جانا یا فیصلہ کھو دینا ہو سکتا ہے۔ یہی آگے عالمگیر کے کردار کو اور نمایاں کرے گا۔

انسانی کمزوری اور ایمانی قوت:

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مومن بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ اس کے جسم کو بھی درد پہنچ سکتا ہے، اس پر بھی حملہ ہو سکتا ہے، اور وہ بھی خطرے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اقبال کی عظمت یہی ہے کہ وہ روحانی آدمی کو مافوق البشر نہیں بناتے۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی بشریت کے باوجود دل کی پختگی قائم رکھے۔

یعنی ایمانی قوت جسمانی واقعے کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کے اندر انسان کے باطن کو سیدھا رکھتی ہے۔

قربِ خطر اور قربِ حق:

جتنا خطرہ قریب آتا ہے، اتنا ہی دل کے اصل مرکز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ جب تک شیر دور تھا، آدمی باتیں کر سکتا تھا؛ مگر جب پنجہ کمر تک پہنچ گیا تو اب محض نظریہ کافی نہیں۔ اب وہی شخص قائم رہے گا جس کا دل پہلے ہی حقیقت سے بندھا ہوا ہو۔

اس معنی میں شعر ظاہری حملے کے ساتھ باطنی سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا تمہارا دل اتنا بیدار ہے کہ حملہ قریب آ جانے پر بھی ٹوٹ نہ جائے؟

ہماری آزمائشوں کا سبق:

زندگی میں بہت سے امتحان ابتدا میں دور محسوس ہوتے ہیں، مگر ایک وقت آتا ہے جب وہ ہماری “کمر” تک پہنچ جاتے ہیں: بیماری گھریلو ہو جاتی ہے، مالی مسئلہ ذاتی بوجھ بن جاتا ہے، یا کوئی فکری بحران ایمان کی سطح تک اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ اس وقت اصل سہارا دل کی وہ تربیت ہے جو پہلے سے کی گئی ہو۔

اقبال کا پیغام یہی ہے کہ خطرہ جب جسم تک پہنچے، تب بھی دل کو اپنے مرکز سے جدا نہ ہونے دو۔

مثال

ایک مشکل خبر سننا ایک بات ہے، مگر جب وہی خبر اپنے گھر، اپنی صحت یا اپنی ملازمت سے جڑ جائے تو انسان پر اس کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تبھی معلوم ہوتا ہے کہ دل کی بنیاد کتنی مضبوط تھی۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امتحان اس وقت کامل صورت میں سامنے آتا ہے جب خطرہ واقعی انسان تک پہنچ جائے۔ اصل کمال یہ نہیں کہ حملہ نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ حملے کے باوجود دل حقیقت سے جڑا رہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button