از پی احیای دین مأمور کرد
از پی احیای دین مأمور کرد
بهر تجدید یقین مأمور کرد
ترجمہ
اسے دین کے احیا کے لیے مامور کیا گیا، اور یقین کی تجدید کے لیے مقرر کیا گیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں عالمگیر کے کردار کو ایک تاریخی یا سیاسی خدمت سے بڑھا کر ایک روحانی و دینی مشن کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ “مأمور” کا لفظ نہایت وزنی ہے، کیونکہ اس میں ذاتی ارادہ کم اور دی گئی ذمہ داری زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ گویا شاعر کے نزدیک یہ شخصیت صرف حکومت کرنے کے لیے نہیں آئی تھی بلکہ دین کو تازہ کرنے اور ملت کے یقین کو نئی جان دینے کے لیے کھڑی ہوئی تھی۔ شعر کے مطابق:
احیای دین کا مطلب:
احیا سے مراد صرف مردہ چیز کو زندہ کرنا نہیں بلکہ کسی کمزور پڑتی ہوئی حقیقت کو اس کی اصل قوت کے ساتھ دوبارہ بیدار کرنا ہے۔ دین کا احیا اس معنی میں عبادت کی چند صورتوں کا بڑھ جانا نہیں، بلکہ دلوں، اعمال، قوانین، ترجیحات اور اجتماعی مزاج میں دینی مرکزیت کا لوٹ آنا ہے۔
اقبال کے نزدیک جب دین محض رسم بننے لگے تو اسے ایک ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو اس کے باطنی اور اجتماعی دونوں پہلوؤں کو پھر سے زندہ کرے۔
تجدیدِ یقین:
“یقین” اقبال کی شاعری کا بنیادی لفظ ہے۔ ان کے نزدیک کمزور ملت کی سب سے بڑی بیماری وسائل کی کمی سے پہلے یقین کی کمزوری ہوتی ہے۔ تجدیدِ یقین کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان پھر سے اپنے رب، اپنے مقصد، اپنی تاریخ اور اپنے امکان پر بھروسا کرنا سیکھیں۔ جب یقین تازہ ہو تو عمل میں جان آتی ہے، خوف کم ہوتا ہے اور انتشار کے مقابلے میں یکسوئی پیدا ہوتی ہے۔
اس لیے شاعر عالمگیر کے کام کو صرف سیاسی استحکام نہیں کہتے، بلکہ یقین کی سطح پر اثر انداز ہونے والی خدمت کہتے ہیں۔
ماموریت اور خودسری میں فرق:
اگر کوئی حاکم اپنے آپ کو خودمختار مالک سمجھے تو اس کی حکومت نفس کی توسیع بن جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو “مأمور” سمجھے، یعنی کسی بڑے مقصد کا خدمت گزار، تو اس کا انداز بدل جاتا ہے۔ اس میں جواب دہی، ضبط اور مقصد شناسی آتی ہے۔ اقبال اسی فرق کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔
عالمگیر کی مدح دراصل اسی ذہنیت کی مدح ہے کہ اقتدار ذاتی ملکیت نہیں بلکہ سپرد کی گئی امانت ہے۔
دین اور یقین کا باہمی رشتہ:
اقبال نے احیای دین اور تجدیدِ یقین کو ساتھ رکھا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دو الگ چیزیں نہیں۔ دین کی صورتیں اس وقت تک زندہ نہیں ہوتیں جب تک دل میں یقین زندہ نہ ہو، اور یقین اس وقت تک پائیدار نہیں رہتا جب تک دین زندگی کے نظام اور عملی ترجیحات میں نمودار نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر ایک ایسے کردار کو سراہتا ہے جو باطن اور ظاہر دونوں سطحوں پر دینی زندگی کو تازہ کر سکے۔
ہماری ضرورت:
یہ شعر ہر دور کے مسلمانوں کے لیے آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قیادتیں صرف نظم چلا رہی ہیں یا یقین بھی تازہ کر رہی ہیں؟ کیا ہماری تعلیم، سیاست اور اجتماعی گفتگو دلوں میں اعتماد، توحید اور مقصد پیدا کرتی ہے، یا صرف ظاہری مصروفیت بڑھا رہی ہے؟
اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ملت کو ہمیشہ ایسے افراد اور ادارے درکار رہتے ہیں جو احیای دین اور تجدیدِ یقین دونوں کا کام کریں، ورنہ صورت رہ جاتی ہے اور روح نکل جاتی ہے۔
مثال
ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ طالب علم کے اندر اعتماد اور سیکھنے کا شوق بھی زندہ کرتا ہے۔ اگر وہ یہ دوسرا کام نہ کرے تو تعلیم بے روح رہ جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک دینی قیادت کا کام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق عالمگیر کی حیثیت ایک ایسے مأمور کی تھی جسے دین کو پھر سے زندہ کرنے اور مسلمانوں کے یقین کو تازہ کرنے کے لیے کھڑا کیا گیا۔ اصل قیادت وہی ہے جو نظام کے ساتھ روح کو بھی بیدار کرے۔
