رموز بے خودی

پایه ی اسلامیان برتر ازو

پایه ی اسلامیان برتر ازو

احترام شرع پیغمبر ازو

ترجمہ

مسلمانوں کی بنیاد اور ان کا مرتبہ اس سے بلند ہوا، اور شریعتِ پیغمبر کا احترام بھی اسی کی وجہ سے قائم رہا۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں عالمگیر کی تعریف صرف فردی پارسائی کے حوالے سے نہیں کرتے، بلکہ اس کے اجتماعی اثر کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی حاکم کی بڑی قدر یہ نہیں کہ وہ خود نیک ہو، بلکہ یہ ہے کہ اس کی موجودگی سے ملت کی دینی بنیاد مضبوط ہو اور شریعت کی حرمت محفوظ رہے۔ شعر کے مطابق:

پایہ ی اسلامیان کا معنی:

“پایہ” سے مراد بنیاد، استحکام اور درجہ سب آ سکتے ہیں۔ اقبال کا مقصود یہ ہے کہ عالمگیر کی سیاست نے مسلمانوں کی اجتماعی حالت کو سہارا دیا۔ اس نے اسلام کو محض ذاتی عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اجتماعی نظم، ریاستی وقار اور تہذیبی مزاج کے ساتھ جوڑا۔ یوں مسلمان اپنے آپ کو ایک زندہ دینی روایت کے وارث سمجھ سکتے تھے۔

یہ بنیاد صرف عمارتوں یا قوانین سے نہیں بنتی، بلکہ اس یقین سے بنتی ہے کہ حاکم خود بھی ایک بڑے دینی اصول کے تابع ہے۔

شرعِ پیغمبر کا احترام:

اقبال کے لیے “احترام” کا لفظ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شریعت کا نفاذ محض سختی یا سزا کا نام نہیں، بلکہ اس سے پہلے دلوں میں اس کی حرمت کا قائم ہونا ضروری ہے۔ اگر اقتدار خود شریعت کو اہمیت دے، اس کے مقابلے میں اپنی خواہش کو نہ رکھے، تو معاشرے میں بھی اس کے لیے وقار پیدا ہوتا ہے۔

یہاں اقبال عالمگیر کو ایسے حاکم کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس نے اپنی بادشاہی کو پیغمبر کی شریعت کے تابع رکھنے کی کوشش کی، اور یہی کوشش اس کے مرتبے کو ان کی نظر میں بلند کرتی ہے۔

اقتدار کا درست مرکز:

یہ شعر اقبال کے سیاسی فکر کا ایک بنیادی اصول بھی واضح کرتا ہے: اگر اقتدار اپنے نفس، اپنے خاندان یا اپنی وقتی مصلحت کے لیے ہو تو وہ جلد کھوکھلا ہو جاتا ہے؛ لیکن اگر وہ کسی اعلیٰ اصول کے تابع ہو، تو وہ ملت کے لیے سہارا بنتا ہے۔ شریعت یہاں اسی اعلیٰ معیار کی نمائندہ ہے۔

اقبال اس بات سے متاثر ہیں کہ عالمگیر نے کم از کم اپنے تصورِ حکومت میں شریعت کو اقتدار سے اوپر رکھا۔ یہی ترتیب ایک مسلمان معاشرے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔

فردی دینداری سے آگے:

ایک شخص تنہائی میں عبادت گزار ہو سکتا ہے، مگر اقبال ایسے حاکم کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں جو اپنے عہد کے اجتماعی رخ کو بھی دین کے احترام کی طرف موڑ دے۔ اس میں خطا کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، مگر اصل بات ترجیح کی ہے: حاکم کس چیز کو مرکزی قدر مانتا ہے؟ اس شعر میں اقبال کا جواب واضح ہے۔

چنانچہ عالمگیر کی مدح دراصل اس ترجیح کی مدح ہے جس میں شریعت ذاتی خواہش اور سیاسی خودسری سے بلند رکھی گئی۔

آج کے لیے سبق:

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی ملت کی بنیاد صرف آبادی، فوج یا معیشت سے مستحکم نہیں ہوتی۔ اصل پائیداری تب آتی ہے جب اس کے اجتماعی نظم میں کوئی اخلاقی و دینی مرکز موجود ہو۔ اگر وہ مرکز کمزور پڑ جائے تو ظاہری قوت بھی آہستہ آہستہ کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے اجتماعی وجود کی مضبوطی کو پھر اسی اصل سے جوڑیں جسے وہ یہاں “شرعِ پیغمبر” کے احترام کے نام سے بیان کرتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک یونیورسٹی کی اصل طاقت اس کے بجٹ سے پہلے اس اصول میں ہوتی ہے کہ وہاں علم اور دیانت کو واقعی مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، اسی طرح ایک مسلم معاشرے کی اصل بنیاد اس کے اس دینی مرکز سے مضبوط ہوتی ہے جسے قیادت خود احترام دے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر کی قدر اس لیے ہے کہ اس نے مسلمانوں کی اجتماعی بنیاد کو سہارا دیا اور شریعتِ پیغمبر کے احترام کو سیاسی زندگی میں وزن بخشا۔ ملت کی اصل پائیداری کسی اعلیٰ دینی مرکز کے تابع رہنے میں ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button