رموز بے خودی

از دمش میرد قوای زندگی

از دمش میرد قوای زندگی

خشک گردد چشمه های زندگی

ترجمہ

اس کی سانس سے زندگی کی قوتیں مرنے لگتی ہیں، اور زندگی کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ناامیدی کو محض ایک منفی خیال نہیں بلکہ ایسی تباہ کن فضا کے طور پر پیش کرتے ہیں جو زندگی کی اندرونی قوتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ یأس کی “دم” سے مراد اس کا اثر، اس کی فضا اور اس کا سانس ہے، جو انسان کے دل، ارادے، ہمت اور تخلیقی طاقت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ شعر کے مطابق:

قوائے زندگی کیا ہیں:

زندگی کی قوتیں صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ ارادہ، امید، تخیل، ہمت، محبت، جستجو، اور اصلاح کی صلاحیت بھی ہیں۔ یہی وہ اندرونی قویٰ ہیں جن سے انسان مشکلات جھیلتا، راہیں نکالتا، گرتا اور پھر اٹھتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ناامیدی ان قوتوں کو کمزور نہیں بلکہ مردہ کر دیتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یأس انسان کے سب سے قیمتی سرمائے پر حملہ کرتی ہے: اس کے اندر کی حرکت اور اس کی تعمیر کی طاقت پر۔

“دم” کی فضا:

کسی کیفیت کا “دم” اس کی سانس، اس کا ماحول اور اس کی مسلسل موجودگی بھی ہو سکتا ہے۔ ناامیدی جب دل پر چھا جائے تو وہ ایک آلودہ فضا بنا دیتی ہے۔ اس فضا میں انسان کو خیر مشکل دکھائی دیتی ہے، اپنے اندر کی خوبی کم نظر آتی ہے، اور آئندہ کا راستہ بند محسوس ہوتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہ مسلسل منفی فضا زندگی کی تازگی کو گھونٹ دیتی ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ اس کے دم سے قوائے زندگی مر جاتی ہیں۔

خشک ہونے والے چشمے:

“چشمه های زندگی” ایک نہایت حسین اور معنی خیز تعبیر ہے۔ چشمہ وہاں پھوٹتا ہے جہاں زندگی کی روانی ہو۔ انسان کی شخصیت میں بھی کچھ چشمے ہوتے ہیں: علم کا، محبت کا، عمل کا، تخلیق کا، صبر کا، دعا کا، اور رجوع کا۔ ناامیدی ان سب کے بہاؤ کو روک سکتی ہے۔

جب یہ چشمے خشک ہوں تو زندگی بظاہر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی تازگی، اس کا نغمہ اور اس کی معنویت کم ہو جاتی ہے۔ یہی اقبالی تشخیص ہے۔

روحانی حیات کی آبیاری:

اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنے باطن کے ان چشموں کو زندہ رکھے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت، قبولیت، معافی اور مدد پر اعتماد رکھے۔ توحید دل کو یہ یقین دیتی ہے کہ سرچشمہ ابھی بند نہیں ہوا۔ اگر بندہ رجوع کرے، محنت کرے اور امید نہ چھوڑے تو زندگی کے خشک ہوتے ہوئے چشمے پھر سے جاری ہو سکتے ہیں۔

اس لیے یأس کے مقابلے میں ذکر، دعا، عمل، اور خیر کی طرف حرکت ایک طرح کی آبپاشی بن جاتی ہے۔

ملت کی اجتماعی زندگی:

امت کے اندر بھی کچھ چشمے ہوتے ہیں: علم، اجتہاد، عدل، اخوت، غیرت، اور تہذیبی تخلیق۔ جب ناامیدی اس کے مزاج پر غالب آتی ہے تو یہی چشمے خشک ہونے لگتے ہیں۔ اقبال اپنی ملت کو اسی خشک سالی سے بچانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت اپنے اندر زندگی کی روانی دوبارہ پیدا کرے، تاکہ اس کی اجتماعی روح مردہ نہ ہو۔

پس یہ شعر صرف فرد کے غم کی بات نہیں، پوری تہذیبی حیات کے خشک ہونے کی تنبیہ بھی ہے۔

مثال

ایک باغ کو اگر کافی دن پانی نہ ملے تو پہلے پھول مرجھاتے ہیں، پھر پتے سوکھتے ہیں، اور آخرکار درخت بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ ناامیدی بھی انسان کی اندرونی زندگی پر ایسا ہی اثر ڈالتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک یأس کی فضا زندگی کی قوتوں کو مار دیتی ہے اور اس کے چشموں کو خشک کر دیتی ہے۔ نجات اسی میں ہے کہ انسان امید، توحید اور عمل کے ذریعے اپنے باطن کی روانی کو محفوظ رکھے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button