رموز بے خودی

مرگ را سامان ز قطع آرزوست

مرگ را سامان ز قطع آرزوست

زندگانی محکم از لاتقنطوا ست

ترجمہ

موت کی تیاری آرزو کے ٹوٹ جانے سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ زندگی کی مضبوطی “لا تقنطوا” یعنی ناامید نہ ہو سے قائم ہوتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال `بخش ۶` کے آغاز ہی میں ایک نہایت بنیادی روحانی اور نفسیاتی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان کی اصل موت صرف جسمانی موت نہیں، بلکہ وہ کیفیت بھی موت ہے جس میں انسان کی امید، آرزو اور آگے بڑھنے کی قوت ٹوٹ جائے۔ اس کے برعکس زندگی کی اصل مضبوطی امید، رجوع الی اللہ اور قرآنی پیغام “لا تقنطوا” سے پیدا ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

آرزو کا ٹوٹنا کیوں موت ہے:

اقبال کے نزدیک آرزو محض دنیاوی خواہش کا نام نہیں، بلکہ زندگی کی وہ باطنی حرارت ہے جو انسان کو حرکت، تعمیر، توبہ، اصلاح اور جدو جہد کی طرف لے جاتی ہے۔ جب یہ آرزو ٹوٹ جاتی ہے تو انسان باہر سے زندہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس کے اندر سے زندگی کی روانی کم ہونے لگتی ہے۔ وہ مقصد کھو دیتا ہے، کوشش چھوڑ دیتا ہے، اور اپنے وجود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔

اسی لیے شاعر کہتے ہیں کہ موت کا سامان اسی کٹ جانے والی کیفیت سے بنتا ہے۔ یعنی جہاں امید کا رشتہ کٹ گیا، وہاں زندگی کی جڑیں بھی کمزور ہونے لگیں۔

“لا تقنطوا” کی قوت:

دوسرے مصرع میں اقبال قرآن کے اس عظیم پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک تسلی نہیں بلکہ پوری زندگی کا اصول ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ رب کی رحمت وسیع ہے، واپسی کا در بند نہیں ہوا، اور اصلاح کا امکان باقی ہے، تب اس کی زندگی دوبارہ مضبوط ہونے لگتی ہے۔

یہی “لا تقنطوا” دل کو شکست سے نکال کر اعتماد، عمل اور استقامت کی طرف لے جاتا ہے۔ اقبال اسی قرآنی کلمے کو حیات کی مضبوط دیوار قرار دیتے ہیں۔

روحانی بیماری اور اس کا علاج:

اقبال نے اس پورے `بخش` میں یأس، حزن اور خوف کو ام الخبائث کہا ہے۔ یہ اس لیے کہ ناامیدی انسان کے باقی اخلاقی اور عملی جوہر بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جو شخص ناامید ہو جائے وہ نہ اپنے ماضی کی اصلاح پر یقین رکھتا ہے، نہ اپنے حال کی قدر کرتا ہے، نہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آمادہ رہتا ہے۔ توحید اس بیماری کا علاج اس طرح کرتی ہے کہ وہ انسان کو ایک زندہ، سننے والے، معاف کرنے والے اور مدد کرنے والے رب سے جوڑ دیتی ہے۔

جب بندہ اپنے آپ کو بےسہارا نہیں سمجھتا تو اس کے اندر دوبارہ زندگی کی قوت بیدار ہوتی ہے۔

فرد کی عملی زندگی میں معنی:

یہ شعر ہر اس انسان کے لیے پیغام ہے جو ناکامی، گناہ، محرومی یا مسلسل مسائل کی وجہ سے تھک گیا ہو۔ اقبال اسے یاد دلاتے ہیں کہ اصل شکست مسئلہ نہیں، بلکہ اس شکست کے بعد ناامید ہو جانا مسئلہ ہے۔ اگر انسان کا دل “لا تقنطوا” کے ساتھ بندھا رہے تو وہ گر کر بھی اٹھ سکتا ہے، بگڑ کر بھی سنور سکتا ہے، اور کھو کر بھی پا سکتا ہے۔

گویا امید صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ زندگی کو سنبھالنے والی روحانی طاقت ہے۔

ملت کے لیے تنبیہ:

ایک امت بھی اسی وقت زندہ رہتی ہے جب اس کی اجتماعی روح ناامیدی سے مرعوب نہ ہو۔ اگر قوم اپنی کمزوری، سیاسی شکست یا تہذیبی بحران کے بعد یہ سمجھ لے کہ اب اس کے لیے واپسی ممکن نہیں، تو وہ اندر ہی اندر مرنے لگتی ہے۔ لیکن اگر وہ قرآنی امید اور توحیدی یقین کے ساتھ جڑی رہے تو زوال بھی اس کی آخری تقدیر نہیں بنتا۔

اقبال ملت کو اسی لیے “لا تقنطوا” کی طرف لوٹاتے ہیں، تاکہ وہ مایوسی کے بجائے احیا کے امکان پر ایمان رکھے۔

مثال

ایک درخت سردیوں میں بظاہر سوکھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کی جڑ زندہ ہو تو بہار میں دوبارہ پتے اور پھل آ جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی جڑ اگر امید سے جڑی ہو تو وقتی خزاں اس کی آخری موت نہیں بنتی۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک اصل موت امید کے کٹ جانے سے شروع ہوتی ہے، جبکہ اصل زندگی اللہ کی رحمت سے وابستہ امید سے مضبوط ہوتی ہے۔ “لا تقنطوا” حیات کا وہ قرآنی سہارا ہے جو فرد اور ملت دونوں کو ناامیدی سے بچا کر دوبارہ کھڑا کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button