حاضریم و دل بغایب بستہ ایم
حاضریم و دل بغایب بستہ ایم
پس ز بند این و آن وارستہ ایم
ترجمہ
ہم اس دنیا میں حاضر ہیں، لیکن ہمارے دل غیب سے بندھے ہوئے ہیں، اسی لیے ہم اس اور اس کے بندھنوں سے آزاد ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں مسلمان کی روحانی کیفیت کا ایک بڑا راز کھولتے ہیں۔ وہ دنیا میں رہتا ہے، اس کے مسائل سے جڑا ہوتا ہے، محنت بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کرتا ہے، مگر اس کا دل غیب سے وابستہ ہوتا ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے وہ دنیا کا غلام نہیں بنتا۔ شعر کے مطابق:
حاضر ہونے کا معنی:
“حاضریم” کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان دنیا سے فرار کرنے والا نہیں۔ وہ زمانے کے اندر رہتا ہے، تاریخ میں حصہ لیتا ہے، معاشرت بناتا ہے، علم پیدا کرتا ہے، اور ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک دینداری کا مطلب گوشہ نشینی یا بےعملی نہیں، بلکہ حاضر دنیا میں بامقصد شرکت ہے۔
لہٰذا پہلا مصرعہ زندگی سے فرار کی نفی کرتا ہے۔ مسلمان غائب نہیں، حاضر ہے، مگر اس کی حضوری دنیا پرستی نہیں بنتی۔
غیب سے دل کا رشتہ:
یہی شعر کا اصل مرکز ہے۔ غیب سے دل باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اصل امید، اصل خوف، اصل محبت اور اصل اعتماد اس حقیقت کے ساتھ جڑا ہو جو آنکھ سے اوجھل ہے مگر ایمان سے روشن ہے۔ اللہ تعالیٰ، آخرت، اخلاقی جواب دہی، اور سچائی کا وہ عالم جو ظاہری سطح سے پرے ہے، مومن کے دل کا مرکز بنتا ہے۔
اسی نسبت سے دنیا کا کام کرتے ہوئے بھی وہ دنیا کا اسیر نہیں بنتا، کیونکہ اس کی جڑ کسی بلند تر حقیقت میں پیوست ہوتی ہے۔
آزادی کا راز:
دوسرے مصرع میں اقبال کہتے ہیں کہ اسی لیے ہم “اس اور اس” کے بندھنوں سے آزاد ہیں۔ یعنی جب دل غیب سے بندھا ہو تو انسان دولت، شہرت، طاقت، مخلوق کے خوف، اور وقتی مفاد کے تابع نہیں رہتا۔ یہ آزادی ظاہری بےنیازی نہیں، بلکہ باطنی آزادی ہے۔
ایسا انسان دنیا کے وسائل استعمال کرتا ہے، مگر ان کا غلام نہیں بنتا۔ وہ تعلقات رکھتا ہے، مگر ان میں اپنی روح فروخت نہیں کرتا۔
فرد کی باطنی توازن:
یہ شعر فرد کے لیے ایک عظیم توازن سکھاتا ہے: دنیا میں پوری شرکت، مگر دل کی اصل وابستگی غیب کے ساتھ۔ اگر صرف دنیا ہو تو انسان بکھر جاتا ہے، اور اگر دنیا سے فرار ہو تو ذمہ داری چھوٹ جاتی ہے۔ اقبال دونوں انتہاؤں کے بجائے ایسا مقام دیتے ہیں جس میں عمل بھی ہے اور روحانی آزادی بھی۔
یہی توازن شخصیت کو وقار، استقامت اور پاکیزگی عطا کرتا ہے۔
ملت کی قوت:
ایک ایسی ملت جو دنیا میں حاضر ہو مگر اس کا دل غیب کے ساتھ بندھا ہو، وہ کسی دنیاوی نظام کی غلام نہیں بنتی۔ وہ اپنی تہذیب بناتی ہے، اپنا معیار قائم کرتی ہے، اور بیرونی دباؤ کے سامنے اپنی روحانی خود مختاری برقرار رکھ سکتی ہے۔ اقبال کی نظر میں یہی کیفیت امت کی اصل قوت ہے۔
پس اس شعر میں فرد کی آزادی اور ملت کی خود مختاری دونوں کا راز ایک ہی جملے میں سمو دیا گیا ہے۔
مثال
ایک کشتیاں بندرگاہ میں رہ کر بھی لنگر کے ذریعے ایک مضبوط مرکز سے بندھی ہوتی ہیں، اسی لیے طوفان میں بہہ نہیں جاتیں۔ اسی طرح انسان دنیا میں رہ کر بھی اگر غیب کے سہارے سے بندھا ہو تو حالات اسے بہا نہیں لے جاتے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک مسلمان دنیا میں حاضر اور سرگرم رہتا ہے، مگر اس کا دل غیب سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہی وابستگی اسے دنیاوی بندھنوں سے آزاد، باوقار اور ثابت قدم بناتی ہے۔