قدرت او برگزینـد بندہ را
قدرت او برگزینـد بندہ را
نوع دیگر آفریند بندہ را
ترجمہ
اس کی قدرت بندے کو چن لیتی ہے، اور بندے کو ایک نئی ہی نوعیت میں ڈھال دیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں توحید کے اس اثر کو بیان کرتے ہیں جو بندے کی ہستی کو معمولی حالت سے اٹھا کر ایک نئی کیفیت، نئی ساخت اور نئی معنویت عطا کرتا ہے۔ انسان وہی رہتا ہے، مگر اس کا شعور، اس کی سمت، اس کا کردار اور اس کی زندگی کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
برگزیدہ ہونے کا مفہوم:
“برگزینـد” کے لفظ میں انتخاب، التفات اور قبولیت کا معنی پایا جاتا ہے۔ اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر دوسروں سے مقدر میں بڑے ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہ بندگی اور توحید کا راستہ انسان کو ایسی کیفیت تک لے جاتا ہے جہاں وہ خدا کی مشیت کے لیے زیادہ موزوں اور تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی بےہدف نہیں رہتی بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے منتخب محسوس ہونے لگتی ہے۔
یہ احساس انسان کو غرور نہیں دیتا بلکہ ذمہ داری دیتا ہے، کیونکہ منتخب ہونا خدمت، امانت اور وفاداری کا تقاضا بھی لاتا ہے۔
نوع دیگر آفریند:
یہ مصرع نہایت گہرا ہے۔ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ بندہ جب توحید کے اثر میں آتا ہے تو وہ پرانی کمزور نفسیات، خوف زدہ مزاج، اور بکھری ہوئی ترجیحات والا انسان نہیں رہتا۔ اس کی فکری ساخت بدلتی ہے، اس کی خواہشات پاک ہوتی ہیں، اور اس کے فیصلے ایک نئے معیار کے تابع ہو جاتے ہیں۔ گویا وہ ایک نئی نوع کا انسان بن جاتا ہے۔
یہ تبدیلی جسمانی نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور عملی ہے، مگر اسی کا اثر پوری زندگی پر پڑتا ہے۔
توحید اور شخصیت کی تشکیل:
اقبال کے نزدیک انسان کی اصل تعمیر اس وقت ہوتی ہے جب اس کی خودی ایک اعلیٰ نسبت میں جڑ جائے۔ توحید اس خودی کو بکھرنے نہیں دیتی بلکہ اسے ایک واضح محور عطا کرتی ہے۔ پھر بندہ وقتی لالچ، ڈر اور چاپلوسی کے تحت فیصلے نہیں کرتا، بلکہ اپنے وجود کو ایک امانت سمجھ کر جیتا ہے۔
یہی وہ تبدیلی ہے جو اسے عام ماحول سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ بھی دنیا میں رہتا ہے، مگر دنیا اس کے باطن پر حکومت نہیں کر پاتی۔
عملی زندگی میں نئی پیدائش:
یہ نیا انسان صرف سوچ میں نیا نہیں ہوتا بلکہ عمل میں بھی نیا ہوتا ہے۔ اس کی زبان سچی، اس کا ہاتھ امانت دار، اس کا دل ثابت قدم، اور اس کی ترجیحات اعلیٰ ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی ذات کو صرف اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک وسیع ذمہ داری کے احساس کے ساتھ دیکھتا ہے۔
اس طرح توحید انسان کو نئی زندگی دیتی ہے، یعنی وہی انسان ایک نئے اخلاقی درجے میں داخل ہو جاتا ہے۔
ملت کے احیا کا اصول:
اقبال کے نزدیک ملت کی تجدید بھی افراد کی اسی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے۔ جب بندے بدلتے ہیں تو تاریخ بدلتی ہے۔ کوئی امت صرف نعروں، اداروں یا قانون کے ڈھانچے سے زندہ نہیں ہوتی، بلکہ ایسے افراد سے زندہ ہوتی ہے جنہیں توحید نے اندر سے نیا بنا دیا ہو۔ یہی لوگ قوم کے ضمیر، اس کی جرات اور اس کی تعمیر کا سرمایہ بنتے ہیں۔
پس یہ شعر ایک فرد کی اصلاح کے ساتھ پوری امت کی بیداری کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
مثال
کچا لوہا اپنی پہلی حالت میں محدود قدر رکھتا ہے، مگر جب وہ آگ، ضرب اور ترتیب کے مراحل سے گزرتا ہے تو تلوار یا مفید آلہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح توحید بندے کو اندر سے اس طرح ڈھالتی ہے کہ وہ ایک نئی نوعیت کا انسان محسوس ہونے لگتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال نے بتایا کہ توحید اور بندگی کی تاثیر بندے کو محض بہتر نہیں بناتی بلکہ اس کی پوری باطنی ساخت کو نئی شان دے دیتی ہے۔ ایسا انسان اپنے مقصد، کردار اور ذمہ داری میں ایک نئی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

