تازہ انداز نظر پیدا کند
تازہ انداز نظر پیدا کند
گلستاں در دشت و در پیدا کند
ترجمہ
وہ (رہنما) دیکھنے کا ایک نیا انداز اور نظریہ پیدا کرتا ہے، اور صحرا و بیابان میں گلستان اگا دیتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو نہ صرف نئی سوچ عطا کرتی ہے بلکہ ویرانوں کو بھی آباد کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
دیکھنے کا نیا انداز:
اقبال کہتے ہیں کہ وہ رہنما لوگوں کو دیکھنے اور سوچنے کا ایک نیا انداز عطا کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کے نظریے اور ان کی فکر کو بدل دیتا ہے۔
اس کی رہنمائی سے لوگ دنیا اور زندگی کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے لگتے ہیں، اور ان کی سوچ میں وسعت اور بلندی پیدا ہو جاتی ہے۔
صحرا میں گلستان:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ صحرا اور بیابان میں گلستان اگا دیتا ہے۔ یعنی وہ ویران اور بے آباد دلوں اور معاشروں کو زندگی، رونق اور خوبصورتی عطا کر دیتا ہے۔
جہاں پہلے مایوسی اور ویرانی تھی، وہاں اس کی رہنمائی سے امید، عمل اور خوشحالی کا گلستان کھل اٹھتا ہے۔
فکری اور عملی انقلاب:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما بیک وقت فکری اور عملی انقلاب برپا کرتا ہے، یعنی وہ سوچ بھی بدلتا ہے اور حالات بھی۔
تعمیر کی قوت:
یہی نئی نظر اور یہی تعمیری قوت ہے جو ایک بے آباد اور مایوس قوم کو ایک زندہ اور خوشحال ملت میں بدل دیتی ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر باغبان بنجر اور ویران زمین کو محنت اور فن سے ایک سرسبز باغ میں بدل دیتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما ویران دلوں اور معاشروں کو ایک زندہ گلستان بنا دیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما لوگوں کو نئی سوچ عطا کرتا ہے اور ویران دلوں اور معاشروں کو ایک زندہ اور خوشحال گلستان میں بدل دیتا ہے۔


