رشتہ اش کو بر فلک دارد سری
رشتہ اش کو بر فلک دارد سری
پارہائے زندگی را ہمگری
ترجمہ
اس (رہنما) کا رشتہ، جس کا سرا آسمان تک پہنچتا ہے، زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کے اس آسمانی رشتے کو بیان کرتے ہیں جو بکھری ہوئی انسانیت کو ایک وحدت میں جوڑ دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
آسمان تک پہنچتا رشتہ:
اقبال کہتے ہیں کہ اس رہنما کا رشتہ ایسا ہے جس کا سرا آسمان تک پہنچتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اور اس کی رہنمائی ایک الٰہی اور آسمانی سرچشمے سے جُڑی ہوئی ہے۔
یہ اشارہ نبی کے اس رشتے کی طرف ہے جو وحیِ الٰہی اور آسمانی ہدایت سے وابستہ ہوتا ہے، اور اسی لیے اس میں غیر معمولی قوت اور برکت ہوتی ہے۔
زندگی کے بکھرے ٹکڑوں کو جوڑنا:
شاعر کہتے ہیں کہ یہی رشتہ زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ یعنی وہ منتشر افراد اور بکھری ہوئی قوم کو ایک وحدت میں پرو دیتا ہے۔
جس طرح ایک مضبوط دھاگا بکھرے موتیوں کو جوڑ دیتا ہے، ویسے ہی رہنما کا یہ آسمانی رشتہ منتشر انسانیت کو ایک منظم ملت بنا دیتا ہے۔
الٰہی رہنمائی کی قوت:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ رہنما کی وحدت پیدا کرنے والی قوت کا سرچشمہ آسمانی ہدایت ہے، جو انسانی رشتوں کو دوام اور مضبوطی عطا کرتی ہے۔
وحدت کا سرچشمہ:
یہی آسمانی رشتہ ملت کی وحدت کی اصل بنیاد ہے، جو محض دنیوی مفادات کے بجائے ایک بلند اور مقدس مقصد پر قائم ہوتی ہے۔
مثال
جیسے ایک مضبوط رسی کے سہارے بکھرے ہوئے موتی ایک لڑی میں پرو دیے جاتے ہیں، ویسے ہی رہنما کا آسمانی رشتہ بکھری ہوئی انسانیت کو ایک وحدت میں جوڑ دیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما کا آسمانی رشتہ زندگی کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مضبوط وحدت اور ملت تشکیل دیتا ہے۔

