رموز بے خودی

منزل دیو و پری اندیشہ اش

منزل دیو و پری اندیشہ اش

از گماں خود رمیدن پیشہ اش

ترجمہ

اس کا خیال دیو اور پری (وہم و خیال) کی آماجگاہ ہے، اور اپنے ہی گمانوں سے بھاگنا اس کا شیوہ ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی ذہنی کیفیت کو بیان کرتے ہیں کہ وہ وہم و خیال میں الجھا ہوا اور اپنے ہی گمانوں سے خوف زدہ ہے۔ شعر کے مطابق:

وہم و خیال کی آماجگاہ:

اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کا ذہن دیو اور پری یعنی بے بنیاد وہم اور خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ اس کی سوچ حقیقت کے بجائے فرضی اور خیالی باتوں میں الجھی ہوئی ہے۔

حقیقت سے دوری کے باعث وہ اپنے ذہن میں طرح طرح کے وہم اور اندیشے پالتا رہتا ہے، جو اس کی سوچ کو کمزور اور بے سمت بنا دیتے ہیں۔

اپنے گمانوں سے بھاگنا:

شاعر کہتے ہیں کہ اپنے ہی گمانوں سے بھاگنا اس کا شیوہ ہے۔ یعنی وہ خود اپنے پیدا کردہ وہموں اور اندیشوں سے خوف زدہ رہتا ہے۔

یہ کیفیت اس کی اندرونی کمزوری اور بے یقینی کی علامت ہے، جس میں وہ حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے۔

بے یقینی کی حالت:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد یقین اور شعور سے محروم ہوتا ہے، اسی لیے وہ وہم و گمان کا شکار اور خوف زدہ رہتا ہے۔

شعور اور یقین کی ضرورت:

اس حالت کا علاج شعور اور یقین ہے، جو تربیت اور رہنمائی سے حاصل ہوتا ہے اور فرد کو وہم سے نکال کر حقیقت کی طرف لاتا ہے۔

مثال

جیسے ایک بچہ اندھیرے میں فرضی خوف اور سائے دیکھ کر گھبرا جاتا ہے حالانکہ وہاں کچھ نہیں ہوتا، ویسے ہی خام فرد اپنے ہی وہموں اور گمانوں سے خوف زدہ رہتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد کا ذہن وہم و خیال میں الجھا رہتا ہے اور وہ اپنے ہی گمانوں سے خوف زدہ ہوتا ہے، اور اسے شعور و یقین کی ضرورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button