چوں اسیر حلقۂ آئیں شود
چوں اسیر حلقۂ آئیں شود
آہوئے رم خوئے او مشکیں شود
ترجمہ
جب فرد آئین (قانون) کے حلقے کا اسیر (پابند) ہو جاتا ہے، تو اس کا بدکنے والا وحشی ہرن مشک سے معطر ہو جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں آئین کی پابندی کو فرد کے کمال اور نکھار کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ضابطے کی اسیری دراصل فرد کی وحشت کو خوشبو میں بدل دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
آئین کی پابندی:
فرد جب قانون اور ضابطے کے دائرے میں آ جاتا ہے تو بظاہر وہ اسیر اور پابند معلوم ہوتا ہے۔ اس کی آزادانہ حرکت محدود ہو جاتی ہے۔
مگر یہی حلقۂ آئین اسے بے راہ روی سے بچاتا ہے اور اس کی توانائیوں کو ایک بامقصد سمت دیتا ہے۔
وحشی ہرن کا مشکیں ہونا:
یہی پابندی اس کے اندر چھپی صلاحیتوں کو نکھار دیتی ہے، جیسے بدکتا ہوا وحشی ہرن اسی نظم اور تربیت سے مشک جیسا قیمتی اور معطر جوہر پیدا کر لیتا ہے۔
جو وحشت اور بے قراری پہلے بے کار تھی، وہ ضبط کے بعد ایک قیمتی خوشبو میں بدل جاتی ہے جو اس کے اوصاف کی نمائندہ بنتی ہے۔
پابندی سے کمال:
ضبط اور آئین فرد کو وحشت اور انتشار سے نکال کر خوشبو، وقار اور کمال عطا کرتا ہے۔ یوں پابندی اس کے لیے زوال نہیں بلکہ عروج کا ذریعہ بنتی ہے۔
نظم کا ثمر:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ فرد کی اصل قدر و قیمت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ آئین کی پابندی قبول کر کے اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔
مثال
جیسے ایک بے لگام گھوڑا تربیت اور لگام کی پابندی پا کر قیمتی اور کارآمد بن جاتا ہے، ویسے ہی فرد آئین کی پابندی سے سنور کر باکمال اور باوقار بنتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ آئین کی پابندی فرد کی وحشت کو کمال اور خوشبو میں بدل دیتی ہے، اور یوں ضابطہ اس کے نکھار اور عروج کا ذریعہ بنتا ہے۔

