وحدت او مستقیم از کثرت است
وحدت او مستقیم از کثرت است
کثرت اندر وحدت او وحدت است
ترجمہ
اس (ملت) کی وحدت کثرت ہی سے قائم ہوتی ہے، اور اس کی وحدت کے اندر کثرت خود وحدت بن جاتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں وحدت اور کثرت کے گہرے فلسفیانہ رشتے سے ملت کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ملت کی وحدت افراد کی کثرت سے جنم لیتی ہے، اور اسی وحدت میں کثرت اپنی جدائی کھو دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
کثرت سے وحدت:
ملت کی وحدت بہت سے افراد کے مل جانے سے بنتی ہے۔ افراد کی یہی کثرت دراصل وحدت کی بنیاد اور اس کا سرچشمہ ہے۔
اگر افراد نہ ہوں تو ملت کا کوئی وجود نہیں، اس لیے ملت کی اکائی بہت سی اکائیوں کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے۔
وحدت میں کثرت کا وحدت بننا:
جب افراد ملت کی وحدت میں شامل ہوتے ہیں تو ان کی الگ الگ حیثیت مٹتی نہیں بلکہ ایک بڑی وحدت میں ڈھل جاتی ہے۔ ان کی کثرت خود وحدت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔
یعنی افراد کی گوناگونی ملت کی وحدت میں کوئی انتشار پیدا نہیں کرتی، بلکہ اسی سے ملت کی رنگا رنگی اور مضبوطی قائم ہوتی ہے۔
اجتماعیت کا راز:
یہی وحدت و کثرت کا امتزاج ملت کی قوت کا راز ہے، جہاں افراد جدا ہو کر بھی ایک ہیں اور ایک ہو کر بھی اپنی حیثیت رکھتے ہیں۔
وحدت و کثرت کا توازن:
اقبال کے نزدیک ایک زندہ قوم وہی ہے جو کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت کا توازن قائم رکھے، تاکہ نہ انفرادیت مٹے اور نہ اجتماعیت کمزور ہو۔
مثال
جیسے بہت سے قطرے مل کر ایک سمندر بناتے ہیں، اور سمندر میں ہر قطرہ اپنی جدا حیثیت کھو کر سمندر ہی بن جاتا ہے، ویسے ہی افراد ملت میں شامل ہو کر ایک وحدت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ ملت کی وحدت افراد کی کثرت سے بنتی ہے، اور اسی وحدت میں کثرت خود وحدت بن جاتی ہے، اور یہی اجتماعیت کی اصل قوت ہے۔
