برگ سبزے کز نہال خویش ریخت
برگ سبزے کز نہال خویش ریخت
از بہاراں تار امیدش گسیخت
ترجمہ
سبز پتّا جب اپنے درخت سے گر جاتا ہے تو بہاروں سے وابستہ اس کی امیدوں کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں پتّے اور درخت کی تمثیل سے فرد اور ملت کے تعلق کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد کی زندگی اور اس کی امیدیں ملت سے وابستگی ہی میں قائم رہتی ہیں۔ شعر کے مطابق:
شاخ پر پتّے کی تازگی:
پتّا جب تک اپنے درخت کی شاخ سے جُڑا رہتا ہے، بہار کے اثرات سے تازہ اور شاداب رہتا ہے، اور اس میں زندگی کی امیدیں بڑھتی رہتی ہیں۔
درخت اسے خوراک، پانی اور قوت مہیا کرتا ہے، اور اسی سہارے پر وہ سرسبز اور بارونق رہتا ہے۔
گرنے کے بعد امید کا ٹوٹنا:
مگر جیسے ہی وہ شاخ سے ٹوٹ کر گرتا ہے، بہار سے اس کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے اور زندگی کی امید مرجھا جاتی ہے۔
اب بہار خواہ کتنی ہی آئے، گرے ہوئے پتّے کے لیے اس میں کوئی تازگی یا امید باقی نہیں رہتی، کیونکہ اس کا سرچشمہ ہی کٹ چکا ہوتا ہے۔
فرد اور ملت کی وابستگی:
اسی طرح فرد کی زندگی اور اس کی امیدیں ملت سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ملت سے کٹتے ہی وہ خزاں رسیدہ پتّے کی طرح بے آسرا اور بے امید ہو جاتا ہے۔
کٹنے کا انجام:
اقبال متنبہ کرتے ہیں کہ جو فرد اپنی ملت سے الگ ہو جائے، وہ ظاہری طور پر تو کچھ دیر باقی رہے، مگر اندر سے اس کی زندگی کی رمق ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔
مثال
جیسے بجلی کا قمقمہ تار سے جُڑا ہو تو روشن رہتا ہے اور تار سے الگ ہوتے ہی بجھ جاتا ہے، ویسے ہی فرد ملت سے جُڑا رہ کر ہی زندہ، بارونق اور پرامید رہتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ فرد کی امید اور زندگی کا دار و مدار ملت سے وابستگی پر ہے، اور اس سے کٹ جانا خزاں رسیدہ پتّے کی طرح بے امیدی کا باعث ہے۔



