وصل استقبال و ماضی ذات او
وصل استقبال و ماضی ذات او
چوں ابد لا انتہاء اوقات او
ترجمہ
اس (فرد) کی ذات ماضی اور مستقبل کا وصال ہوتی ہے۔ اسی سبب اس کے اوقات ابد کی مانند لامحدود ہو جاتے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد کی ذات کو ماضی اور مستقبل کے سنگم کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور اسی تعلق سے اس کی زندگی کو دوام عطا کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
ماضی اور مستقبل کا وصال:
فرد کی ذات وہ مقام ہے جہاں ملت کا گزرا ہوا کل اور آنے والا کل آپس میں مل جاتے ہیں۔ وہ اپنی روایت اور ورثے کو تھامے ہوئے مستقبل کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
یوں فرد نہ صرف اپنے حال میں جیتا ہے بلکہ اپنے اندر ایک پوری تاریخ اور ایک پورا امکان سموئے ہوتا ہے۔
دونوں کے ملاپ سے نمو:
اسی ملاپ کی بدولت فرد کی شخصیت میں گہرائی اور پختگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ ماضی سے سبق لیتا ہے اور مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
اوقات کی لامحدودیت:
جب فرد اپنے آپ کو ملت کے تسلسل سے جوڑ لیتا ہے تو اس کی زندگی کے لمحات وقت کی قید سے نکل کر ابد کی طرح بے کنار ہو جاتے ہیں۔
اس کا وجود چند سالوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں کے سلسلے میں زندہ رہتا ہے، کیونکہ وہ ملت کی بقا کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔
دوام کا راز:
اقبال کے نزدیک فرد کی اصل بقا اسی میں ہے کہ وہ خود کو ملت کے ابدی سلسلے سے جوڑ لے، اور یوں فانی ہو کر بھی باقی رہے۔
مثال
جیسے دریا کا ایک قطرہ سرچشمے (ماضی) اور سمندر (مستقبل) دونوں سے جُڑا ہوتا ہے اور اسی تسلسل میں باقی رہتا ہے، ویسے ہی فرد ماضی و مستقبل کے وصال سے دوام اور وسعت پاتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ فرد کی ذات ماضی اور مستقبل کا سنگم ہے، اور اسی رشتے سے اس کی زندگی کو دوام، وسعت اور لامحدودیت ملتی ہے۔


