کاروان را رهگذار است این جهان
کاروان را رهگذار است این جهان
نقد مؤمن را عیار است این جهان
ترجمہ
یہ جہان کارواں کے لیے گزرگاہ ہے، اور مومن کے سکے کی جانچ کے لیے کسوٹی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال دنیا کی دو بڑی حیثیتیں سامنے لاتے ہیں: ایک یہ کہ یہ منزل نہیں، گزرگاہ ہے؛ دوسری یہ کہ یہ امتحان گاہ بھی ہے جہاں مومن کی اصل قدر پرکھی جاتی ہے۔ “کاروان” سے مراد صرف کوئی سفری جماعت نہیں بلکہ پوری انسانی اور ملی زندگی بھی ہے جو ایک بڑے سفر میں ہے۔ اس کے لیے دنیا رہ گزر ہے، یعنی یہ دائمی قیام کا مقام نہیں۔ اس نکتے سے اقبال دنیا پرستی کا علاج کرتے ہیں۔ مگر وہ یہیں نہیں رکتے۔ وہ اگلے مصرعے میں فرماتے ہیں کہ یہی دنیا “نقدِ مؤمن” کا “عیار” بھی ہے۔ یعنی مومن کی اصل قدر، اس کی خالصی، اس کی سچائی، اور اس کے دعوے کی حقیقت بھی اسی دنیا میں جانچی جاتی ہے۔
“نقد” سکّے یا اصل مال کے معنی میں آتا ہے، اور “عیار” اس معیار یا کسوٹی کو کہتے ہیں جس پر سونے چاندی کی خالصی پرکھی جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک مومن کی ذات، اس کا ایمان، اس کا کردار، اور اس کی ہمت محض دعویٰ نہیں رہ سکتے؛ انہیں دنیا کے اندر عمل، صبر، عدل، علم، خدمت اور مجاہدت کے ذریعے ثابت ہونا ہوتا ہے۔ یوں دنیا صرف عارضی قیام گاہ نہیں، اصل تشخیص کی جگہ بھی ہے۔ اگر انسان اسے صرف گزرگاہ سمجھے اور امتحان گاہ نہ سمجھے تو وہ اس کی اصل حکمت کھو دے گا۔
جہان بطور رہ گزر:
اقبال دنیا کو رہ گزر کہہ کر انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ یہاں کا ہر انتظام، ہر قوت، اور ہر نعمت عارضی ہے۔ اس لیے مومن کو دنیا کے اندر رہتے ہوئے بھی اس کا اسیر نہیں بننا چاہیے۔ کارواں راستے میں رک سکتا ہے، سانس لے سکتا ہے، فائدہ اٹھا سکتا ہے، مگر راستے کو منزل نہیں بنا سکتا۔
یہ تصور زہد کا نہیں بلکہ توازن کا ہے۔ دنیا سے گزرنا ہے، فرار نہیں کرنا؛ مگر گزرگاہ کو اپنی آخری حقیقت بھی نہیں بنانا۔ اقبال اسی متوازن شعور کو قائم رکھتے ہیں۔
نقدِ مؤمن:
مومن کی اصل قیمت اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کے کام، اس کی وفاداری، اس کے صبر، اور اس کی خدمت سے ظاہر ہوتی ہے۔ نقد اگر خالص ہو تو کسوٹی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ کسوٹی ہی اس کی قدر ظاہر کرتی ہے۔ اقبال دنیا کو اسی کسوٹی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
یہ نکتہ فرد اور جماعت دونوں پر صادق آتا ہے۔ اگر کوئی ملت خود کو حق کی امین سمجھتی ہے تو اسے دنیا کی کسوٹی پر اپنی علمی، اخلاقی، اور عملی خالصی بھی ثابت کرنا ہوگی۔ ورنہ نقد کا دعویٰ بے وزن رہ جائے گا۔
عیار کی معنویت:
عیار صرف امتحان نہیں، معیار بھی ہے۔ دنیا کے اندر وہ حالات آتے ہیں جو انسان کے سچے اور جھوٹے جوہر کو الگ کر دیتے ہیں۔ آرام میں سب اچھے لگ سکتے ہیں، مگر سخت وقت، مفاد کے ٹکراؤ، ذمہ داری کے بوجھ، اور طاقت کے استعمال میں اصل عیار سامنے آتا ہے۔
اسی لیے اقبال دنیا سے فرار نہیں چاہتے۔ اگر دنیا کسوٹی ہے تو اس سے بھاگ کر خالصی ثابت نہیں ہوتی۔ میدان میں رہنا پڑتا ہے تاکہ سکہ پرکھا جائے۔ یہی امتحان خودی کو بھی پختہ کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم کبھی دنیا کو صرف موقع سمجھتے ہیں اور کبھی صرف فتنہ۔ اقبال اس سے زیادہ باریک بات کہتے ہیں: یہ گزرگاہ بھی ہے اور کسوٹی بھی۔ اگر ہم اس میں کھو جائیں تو مقصد بھول جائیں گے، اور اگر اس سے بھاگ جائیں تو اپنی قدر کبھی ثابت نہ کر سکیں گے۔
یہ شعر امت کو نہایت متوازن نظریہ دیتا ہے۔ دنیا میں رہو، اس کے میدان میں کام کرو، مگر اسے منزل نہ سمجھو۔ اور جو دعویٰ رکھتے ہو، اسے اسی دنیا میں اپنی خالصی کے ساتھ ثابت بھی کرو۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ مومن کی راہ ہے۔
مثال
جیسے مسافر کے لیے سرائے آرام کا مقام تو ہوتی ہے مگر گھر نہیں، اور اسی سفر میں اس کی طاقت بھی پرکھی جاتی ہے، ویسے ہی دنیا رہ گزر بھی ہے اور انسان کی اصل قیمت کی جانچ بھی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دنیا کو ایک طرف عارضی گزرگاہ اور دوسری طرف مومن کی خالصی کی کسوٹی قرار دیتے ہیں۔ اسی میں اس کے دعوے، کردار اور خودی کی اصل قدر ظاہر ہوتی ہے۔