رموز بے خودی

مرشد رومی چه خوش فرموده است

مرشد رومی چه خوش فرموده است

آنکه یم در قطره اش آسوده است

ترجمہ

مرشدِ رومی نے کیا خوب فرمایا ہے، وہ جس کے قطرے میں دریا بھی آرام پاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اپنے فکری اور روحانی سلسلے کو مولانا رومی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرشدِ رومی نے کیا خوب فرمایا، وہ مرشد جس کے ایک قطرے میں بھی دریا کی وسعت سمائی ہوئی ہے۔ اس تعارف میں خود رومی کی عظمت کا اشارہ بھی ہے اور اقبال کی ادب آموز ذہنیت بھی۔ وہ اپنی بات کو محض ذاتی تاثر کے طور پر نہیں رکھتے، بلکہ ایک بڑی روحانی روایت میں داخل کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں حسنِ سیرت اور آدابِ محمدیہ کی بحث کوئی الگ سے اختراع نہیں، بلکہ ایک مسلسل اسلامی روحانی و فکری وراثت کا حصہ ہے جسے رومی جیسے اکابر نے بھی بیان کیا۔

دوسرے مصرعے میں رومی کی تعریف بذاتِ خود ایک درس ہے۔ “آنکه یم در قطره اش آسوده است” یعنی وہ ایسی شخصیت ہے جس کے ایک قطرے میں بھی دریا کی پوری وسعت کا سکون پایا جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی حقیقی مرشد کی علامت ہے: وہ مختصر میں بھی وسعت رکھتا ہے، جز میں بھی کل کو سمو لیتا ہے، اور اپنے ایک فقرے میں ایسی گہرائی رکھتا ہے کہ اس سے پوری سیرت کا باب کھل جائے۔ یہی بات وہ اب اگلے شعر میں رومی کے قول کے ذریعے ظاہر کریں گے۔

رومی کی طرف رجوع:

اقبال کا رومی کی طرف رجوع محض ادبی حوالہ نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ حقائقِ حیات کو سمجھنے میں بزرگوں کی بصیرت سے فیض لینا ضروری ہے۔ نوجوانی، قوت، فکر اور حرکت کے باوجود اگر انسان خود کو روایت سے کاٹ لے تو وہ اپنے لیے بہت کچھ دشوار بنا لیتا ہے۔ اقبال بار بار رومی کو “مرشد” کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا رہنما جس کی روشنی میں وہ اپنے زمانے اور اپنے باطن دونوں کو سمجھتے ہیں۔

یہی ہمیں بھی بتاتا ہے کہ حسنِ سیرت کی تعمیر انفرادی خود رائی سے نہیں، زندہ روایت سے جڑ کر ہوتی ہے۔ جو اپنے اکابر سے کاٹ جاتا ہے وہ اکثر اپنی ہی رائے کے جال میں پھنس جاتا ہے۔

قطرہ اور یم کا استعارہ:

قطرہ اور یم اقبال اور رومی دونوں کے ہاں بہت معنی خیز استعارے ہیں۔ قطرہ جز ہے، یم کل ہے۔ عام طور پر قطرہ دریا میں گم ہوتا ہے، مگر یہاں صورت الٹ گئی ہے: دریا خود اس قطرے میں آسودہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی حکمت اپنے اختصار میں بھی کلیت رکھتی ہے۔ رومی کا ایک قول ایسا ہو سکتا ہے جس میں ایک پوری تہذیب، ایک پوری تربیت اور ایک پوری نسبت سمٹ آئے۔

اقبال اس تمثیل سے یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اصل حکمت وہ نہیں جو بے انتہا تفصیل سے آدمی کو تھکا دے، بلکہ وہ ہے جو تھوڑے لفظوں میں زندگی کے بڑے اصول کو بیدار کر دے۔ یہی رومی کا کمال ہے، اور یہی اقبال کے اس مقام پر رومی کو لانے کا سبب ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں انسان معلومات کے سیلاب میں ہے، مگر حکمت کے قطرے کی کمی ہے۔ ہم بہت کچھ پڑھتے ہیں، بہت کچھ سنتے ہیں، مگر وہ ایک جملہ، وہ ایک نسبت، وہ ایک زندہ قول کم ملتا ہے جو دل کو سیدھا کر دے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بڑے اکابر کے مختصر الفاظ میں بھی سمندر کی وسعت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ کو ایسے منابع سے جوڑنا چاہیے جہاں لفظ کم ہوں مگر وزن زیادہ ہو۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ فکری عاجزی ضروری ہے۔ جو شخص خود کو ہر حکمت کا منبع سمجھنے لگے وہ محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن جو رومی جیسے مرشدوں سے فیض لینے پر آمادہ ہو، اس کے لیے تربیت کے نئے در کھلتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک مختصر مگر درست نقشہ پورے شہر کی سمت سمجھا دیتا ہے، ویسے ہی بڑے مرشد کا ایک مختصر قول زندگی کے وسیع راستوں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں رومی کی حکمت کو اس منبع کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کے مختصر اقوال میں بھی سمندر کی وسعت ہے۔ حسنِ سیرت کی تعمیر زندہ روحانی روایت سے جڑنے پر اور زیادہ واضح ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button