رموز بے خودی

طفلکی از خویشتن نا آگهی

طفلکی از خویشتن نا آگهی

گوهر آلوده ئی خاک رهی

ترجمہ

وہ بچہ اپنی ذات سے ناواقف ہوتا ہے؛ ایک ایسا جوہر ہے جو راہ کی خاک میں آلودہ پڑا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال نوخیز ملت یا نوخیز شعور کی اصل کم زوری اور اس کی اصل عظمت دونوں کو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ “از خویشتن نا آگهی” ہے، یعنی اپنے آپ سے بے خبر ہے۔ اسے اپنی حقیقت، اپنی قیمت، اپنے جوہر، اور اپنے باطنی امکان کا مکمل شعور نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بے خبر وجود محض بے قیمت مٹی نہیں، بلکہ “گوہر” ہے۔ یعنی حقیقتاً وہ قیمتی ہے، مگر فی الحال “خاک رهی” میں آلودہ پڑا ہوا ہے۔ یہی اقبال کی نظر کا کمال ہے کہ وہ کم زوری کے اندر چھپی ہوئی قیمت کو بھی دیکھتے ہیں۔

“گوہر آلوده” کی ترکیب بہت گہرا معنی رکھتی ہے۔ گوہر اپنی اصل میں قیمتی ہوتا ہے، مگر اگر وہ خاک میں پڑا ہو تو اس کی چمک ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی طرح ملت یا فرد اپنی حقیقت میں بلند استعداد رکھتا ہے، مگر بے خبری، غفلت، پستیِ ذوق، یا بیرونی غلامی کے سبب اس کی اصل قدر چھپ جاتی ہے۔ اقبال اس شعر میں ناامیدی پیدا نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ گوہر موجود نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی اصلی چمک سے محروم حالت میں پڑا ہے۔ علاج خودی کی بیداری ہے۔

نا آشنائی با خویشتن:

اپنے آپ سے ناواقف ہونا صرف کم علمی نہیں، ایک وجودی کم زوری ہے۔ انسان یا ملت جب اپنے اصل جوہر کو نہیں پہچانتی تو وہ دوسروں کے پیمانوں سے اپنے آپ کو ناپنے لگتی ہے۔ اس سے اس کی داخلی عزت اور قوت دونوں کم زور پڑتی ہیں۔

اقبال کے نزدیک سب سے بڑی بیداری یہی ہے کہ وجود پہلے اپنے آپ کو پہچانے۔ خود شناسی کے بغیر کوئی حقیقی تعمیر ممکن نہیں، کیونکہ بنیاد ہی غیر واضح رہتی ہے۔

گوہر کی علامت:

گوہر قیمتی شے ہے، پوشیدہ خزانہ ہے، اور ایسی حقیقت ہے جس کی قدر ہر کسی کو فوراً نہیں سمجھ آتی۔ اقبال ملت کو گوہر کہتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ اس کی اصل سرشت کم مایہ نہیں۔ چاہے اس کی حالت فی الحال کم زور ہو، اس کا باطنی سرمایہ بہت بڑا ہے۔

یہ تعبیر ملت کے لیے امید کا سرچشمہ بھی ہے۔ جب اصل جوہر موجود ہے تو تربیت، یاد، خود آگہی اور ضبطِ روایت کے ذریعے اس کی چمک واپس لائی جا سکتی ہے۔

خاکِ راہ کی آلودگی:

خاکِ راہ میں پڑ جانا ذلت، غفلت، پامالی، اور بے قدری کی علامت ہے۔ گوہر اگر بازار کے تاج میں نہ ہو بلکہ راستے کی دھول میں گم ہو تو اس کی قیمت کم نہیں ہوتی، صرف اس کی پہچان چھپ جاتی ہے۔ یہی حال فرد اور ملت کا بھی ہو سکتا ہے۔

اقبال اس طرح گویا یہ بتاتے ہیں کہ اصل مصیبت فقرِ جوہر نہیں، فقرِ شعور ہے۔ گوہر اپنی جگہ ہے، مگر اس کی معرفت مفقود ہے۔ یہی مقام ہے جہاں خودی کی تعلیم ایک تطہیر کا کام کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے افراد اور قومیں اپنی اصل قوت کو کم تر سمجھتی ہیں، کیونکہ وہ خود کو موجودہ کم زوریوں، شکستوں، یا بیرونی تعریفوں کے آئینے میں دیکھتی ہیں۔ اقبال کا یہ شعر انہیں یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ تم فی الحال خاک آلود ہو، مگر اپنی حقیقت میں گوہر ہو۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ خود ترحمی یا خود فراموشی میں نہ پڑیں۔ پہلے یہ جانیں کہ ہمارے اندر قیمتی جوہر موجود ہے، پھر اس پر جمی ہوئی خاک کو ہٹائیں۔ اقبال کی نگاہ میں خودی کا سفر یہی ہے: آلودہ گوہر کو اس کی اصل درخشانی واپس دلانا۔

مثال

جیسے ایک قیمتی پتھر مٹی میں پڑا ہو تو عام نگاہ اسے معمولی کنکر سمجھ سکتی ہے، ویسے ہی بے خبر فرد یا ملت اپنی اصل قیمت چھپا بیٹھتی ہے، حالانکہ اس کے اندر گوہر موجود ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں نوخیز ملت کو ایک ایسے گوہر سے تشبیہ دیتے ہیں جو خاک میں آلودہ پڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل قیمت موجود ہے، مگر خود آگہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ابھی نمایاں نہیں ہو سکی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button