رموز بے خودی

آن دخ رستاق زادی جاهلی

آن دخ رستاق زادی جاهلی

پست بالای سطبری بد گلی

ترجمہ

وہ دیہات میں جنمی ہوئی سادہ عورت، جسے جاہل سمجھا جاتا ہے، قد میں چھوٹی، بدن میں بھاری، اور ظاہری صورت میں غیر دل فریب ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں بظاہر ایک ایسے نسوانی پیکر کا ذکر کرتے ہیں جسے عام سماجی نگاہ بہت معمولی، بے سلیقہ، یا کم تر سمجھے گی۔ “رستاق زادی” یعنی دیہاتی یا سادہ ماحول میں پلی ہوئی، اور “جاهلی” سے مراد وہ عورت جس کے پاس رسمی تہذیبی آرائش یا کتابی تربیت نہیں۔ دوسرے مصرعے میں بھی ظاہری خد و خال کو اسی زاویے سے دکھایا گیا ہے: قد چھوٹا، بدن بھاری، اور صورت میں وہ نزاکت نہیں جسے متمدن یا اشرافی ذوق خوب صورتی کا معیار سمجھتا ہے۔ مگر اقبال کا مقصد اس ظاہری نقشے پر رک جانا نہیں ہے۔ وہ قاری کو اس سطحی فیصلے کے پار لے جانا چاہتے ہیں۔

یہ شعر دراصل اس سلسلے کی تمہید ہے جس میں اگلے اشعار اسی عورت کی امومتی عظمت کو کھولتے ہیں۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ جسے دنیا محض دیہاتی، سادہ، اور غیر آراستہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے، وہی اپنی گود میں ایسی نسل پال سکتی ہے جو ملت کی آبرو بن جائے۔ گویا شاعر ظاہری تہذیبی چمک اور حقیقی انسانی قدر میں فرق قائم کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کی اصل قیمت فیشن، نزاکت، یا شہری تکلف میں نہیں، بلکہ اس قوتِ پرورش میں ہے جو ایک سادہ وجود کے اندر بھی موجود ہو سکتی ہے۔

ظاہری معیار پر تنقید:

یہاں اقبال دراصل اس ذہنیت کو بے نقاب کرتے ہیں جو انسانی قدر کو صرف ظاہری شکل، طبقاتی آداب، یا تہذیبی آرائش سے ناپتی ہے۔ سادہ یا دیہاتی عورت اس پیمانے میں فوراً کم تر قرار پا جاتی ہے۔

شاعر اسی فیصلے کو الٹتے ہیں۔ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ جن اوصاف کو دنیا حقیر سمجھتی ہے، ان کے پیچھے بسا اوقات ایسی حقیقی قوت چھپی ہوتی ہے جو پوری قوم کو سنوار سکتی ہے۔

رستاق زادی کی معنویت:

دیہاتی یا سادہ ماحول میں پلنے کا مطلب لازماً کم مائیگی نہیں۔ اس میں فطری پن، محنت، برداشت، اور غیر مصنوعی زندگی کا عنصر بھی ہو سکتا ہے۔ اقبال اسی امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

گویا وہ یہ بتاتے ہیں کہ تہذیب کی اصل قدر آرائش کے اوپر نہیں، بلکہ اس انسان سازی پر ہے جو اکثر سادہ اور غیر نمایاں ماحول میں جنم لیتی ہے۔

جسمانی وصف اور اصل قدر:

شعر میں جسمانی اوصاف کا ذکر کسی شخصی اہانت کے لیے نہیں بلکہ اس سماجی تعصب کو سامنے لانے کے لیے ہے جو صورت اور قامت کو قدر کا پیمانہ بنا دیتا ہے۔ اقبال اسی پیمانے کی نارسائی کو دکھاتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ یہ عورت اپنی گود میں کیسی شخصیت تیار کرتی ہے، اس کے اندر کتنی شفقت، برداشت، اور تربیتی قوت ہے۔ شاعر کی دلچسپی یہی اصل مقام ظاہر کرنے میں ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی معاشرے میں عورت کی قدروقیمت کو اکثر ظاہری وضع، سماجی صیقل، یا نمائشی معیار سے ناپا جاتا ہے۔ اقبال اس سطحی نگاہ کو رد کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں کہ انسان سازی کی قوت کہیں زیادہ اہم پیمانہ ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ان خاموش اور غیر نمایاں عورتوں کی قدر پہچانیں جن کے اندر نسلی، اخلاقی، اور ملی تعمیر کی اصل طاقت موجود ہوتی ہے۔ ظاہری کم نمائی ہمیشہ باطنی کم مائیگی نہیں ہوتی۔

مثال

جیسے کھردرا نظر آنے والا بیج اپنے اندر ایک تناور درخت کی صلاحیت رکھ سکتا ہے، ویسے ہی بظاہر سادہ اور غیر آراستہ وجود کے اندر بھی بڑی تربیتی اور تخلیقی قوت پوشیدہ ہو سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ایک بظاہر غیر نمایاں اور سادہ عورت کا نقشہ کھینچ کر ظاہری معیارِ قدر پر تنقید کرتے ہیں۔ اصل عظمت صورت یا طبقاتی آداب میں نہیں، بلکہ اس قوتِ امومت میں ہے جو آنے والی نسل کی تعمیر کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button