ناز تا ناز است کم خیزد نیاز
ناز تا ناز است کم خیزد نیاز
نازہا سازد بہم خیزد نیاز
ترجمہ
جب تک ناز محض ناز رہے، اس سے نیاز مندی پیدا نہیں ہوتی۔ مگر جب بہت سے ناز آپس میں مل جاتے ہیں تو نیاز مندی جنم لیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں انفرادی ناز اور اجتماعی نیاز کے فرق کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک تنہا خود داری سے وابستگی جنم نہیں لیتی، مگر اجتماع سے عاجزی اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
تنہا ناز سے نیاز کا نہ اٹھنا:
اگر ناز (انفرادی خود داری اور انا) اپنی ہی حد میں محدود رہے تو اس سے نیاز (عاجزی اور وابستگی) پیدا نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اپنے دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔
تنہا خود داری اکثر تکبر اور خود پسندی میں بدل جاتی ہے، جس سے دوسروں کے ساتھ محبت اور جڑاؤ کا رشتہ قائم نہیں ہو پاتا۔
بہت سے ناز کا مل جانا:
مگر جب بہت سے افراد اپنے اپنے ناز کے ساتھ ملت میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے ملاپ سے نیاز مندی اور باہمی وابستگی جنم لیتی ہے۔
یعنی جب انفرادی خود داریاں ایک اجتماع میں مل جاتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کے سامنے جھکنا اور ایک دوسرے کی قدر کرنا سیکھ جاتی ہیں۔
اجتماعیت میں نیاز کا ظہور:
یوں انفرادی خود داری اجتماع میں شامل ہو کر عاجزی، محبت اور وابستگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو ایک زندہ قوم کی بنیاد ہے۔
انفرادیت سے اجتماعیت:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ ناز کو نیاز میں بدلنے کا راستہ اجتماعیت سے ہو کر گزرتا ہے، جہاں فرد اپنی انا کو اجتماع کے سامنے نرم کرتا ہے۔
مثال
جیسے الگ الگ ساز اپنی جگہ محض ایک آواز ہیں مگر مل کر ایک دلکش اور ہم آہنگ نغمہ بنا دیتے ہیں، ویسے ہی بہت سے ناز مل کر نیاز اور محبت کی خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ تنہا ناز سے نیاز پیدا نہیں ہوتی، مگر بہت سے افراد کے ملنے سے نیاز مندی، عاجزی اور باہمی وابستگی جنم لیتی ہے۔


