رموز بے خودی

مردماں خوگر بیکدیگر شوند

مردماں خوگر بیکدیگر شوند

سفتہ در یک رشتہ چوں گوہر شوند

ترجمہ

لوگ ایک دوسرے کے خوگر (مانوس) ہو جاتے ہیں، اور موتیوں کی طرح ایک ہی لڑی میں پرو دیے جاتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ افراد کیسے باہمی انس اور میل جول سے ایک ملت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ موتیوں اور لڑی کی خوبصورت تمثیل استعمال کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

باہمی انس اور مانوسیت:

اقبال کہتے ہیں کہ انسان آپس میں میل جول اور رفاقت سے ایک دوسرے کے خوگر اور مانوس ہو جاتے ہیں۔ یہی انس ان کے درمیان محبت اور یگانگت پیدا کرتا ہے۔

یہ مانوسیت اتفاقی نہیں بلکہ زندگی کے مشترکہ تجربات اور ضروریات کے تحت بتدریج پیدا ہوتی ہے۔

ایک لڑی میں پرو جانا:

شاعر افراد کو موتیوں سے تشبیہ دیتے ہیں جو ایک ہی لڑی میں پرو دیے جاتے ہیں۔ جس طرح بکھرے موتی لڑی میں پرو کر ایک قیمتی ہار بن جاتے ہیں، اسی طرح افراد مل کر ایک منظم ملت بن جاتے ہیں۔

یہ لڑی وہ مشترکہ رشتہ، عقیدہ یا مقصد ہے جو منتشر افراد کو ایک وحدت میں جوڑ دیتا ہے۔

انتشار سے وحدت تک:

اس تمثیل سے اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ افراد کی بکھری ہوئی حیثیت باہمی انس اور ایک مشترکہ رشتے سے ایک منظم اور خوبصورت وحدت میں بدل جاتی ہے۔

ملت کی تشکیل:

یوں اقبال ملت کی تشکیل کا اصول بیان کرتے ہیں کہ وہ افراد کے باہمی میل جول اور ایک مشترکہ بندھن سے وجود میں آتی ہے۔

مثال

جیسے بکھرے ہوئے موتی اپنی جگہ محض چند دانے ہیں، مگر ایک دھاگے میں پرو کر ایک قیمتی اور خوبصورت ہار بن جاتے ہیں، ویسے ہی منتشر افراد ایک مشترکہ رشتے میں بندھ کر ایک باوقار ملت بن جاتے ہیں۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ افراد باہمی انس اور ایک مشترکہ بندھن سے موتیوں کی لڑی کی طرح ایک منظم ملت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button