رموز بے خودی

سیرت فرزند ها از امهات

سیرت فرزند ها از امهات

جوهر صدق و صفا از امهات

ترجمہ

فرزندوں کی سیرت ماؤں سے بنتی ہے، اور صدق و صفا کا جوہر بھی ماؤں ہی سے ملتا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں امومت کے پورے باب کا ایک نہایت جامع اصول بیان کرتے ہیں۔ اب وہ کسی ایک عظیم ہستی کے ذکر تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک عمومی سچائی سامنے رکھتے ہیں: اولاد کے ظاہر سے زیادہ اس کا باطن، اس کے افعال سے زیادہ اس کی سیرت، اور اس کے الفاظ سے زیادہ اس کا جوہر ماؤں کی تربیت سے بنتا ہے۔ “سیرت فرزند ها از امهات” میں یہی حقیقت ہے کہ نسل کا اخلاقی سانچہ گھر کی ابتدائی فضا میں ڈھلتا ہے، اور اس فضا کی سب سے اہم معمار ماں ہوتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں “جوهر صدق و صفا” کا ذکر اس نکتے کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ صدق یعنی سچائی، اخلاص، اور باطنی سیدھا پن؛ صفا یعنی پاکیزگی، صاف دلی، اور میل سے خالی دل۔ اقبال کے نزدیک یہ صفات محض وعظ سے پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ایسی آغوش اور ایسی تربیت سے پیدا ہوتی ہیں جہاں محبت سچی ہو، نیت پاک ہو، اور کردار میں دو رنگی نہ ہو۔ ماں کا اثر اسی وجہ سے نسل کے باطن میں اترتا ہے۔ جو بچہ پہلی بار سچ، رحم، اور صفا کو گھر میں جیتا ہوا دیکھتا ہے، وہی آگے چل کر انہی صفات کا حامل بنتا ہے۔

سیرت کی تعمیر:

سیرت صرف چند اچھے کاموں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسان کے اندرونی مزاج، اس کی عادتوں، اس کی ترجیحات، اور اس کے ردعمل کی مجموعی صورت ہے۔ یہ چیز آہستہ آہستہ بنتی ہے۔

اقبال کے نزدیک اس تدریجی تعمیر میں ماں کی حیثیت بنیادی ہے، کیونکہ وہ بچہ کے ابتدائی احساسات، زبان، ڈر، اعتماد، اور محبت کے رشتوں کو سب سے پہلے ترتیب دیتی ہے۔

صدق و صفا کا جوہر:

جوہر وہ باطنی اصل ہے جس سے شخصیت کی قدر قائم ہوتی ہے۔ اگر کسی انسان کے اندر صدق اور صفا نہ ہوں تو اس کی ظاہری مہارتیں زیادہ دیر تک اسے باوقار نہیں رکھ سکتیں۔

اقبال اس لیے جوہر کی نسبت ماؤں کی طرف کرتے ہیں، کیونکہ وہ صرف عادتیں نہیں دیتیں بلکہ دل کی ساخت بھی سنوارتی ہیں۔

تربیت اور وراثت:

اقبال کا اشارہ صرف نسبی وراثت کی طرف نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی وراثت کی طرف ہے۔ ماں نسل کو صرف جسمانی وجود نہیں دیتی، ایک ذوق، ایک معیار، اور ایک روحانی مزاج بھی منتقل کرتی ہے۔

اس لیے اگر قوم اپنی آنے والی نسل میں صدق، صفا، اور وقار چاہتی ہے تو اسے امومت کے مقام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ وہیں سے یہ جوہر آگے منتقل ہوتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج تربیت کا بہت سا بوجھ اداروں، اسکرینوں، اور باہر کی دنیا پر ڈال دیا جاتا ہے، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سیرت کی اصل بنیاد ابھی بھی ابتدائی گھریلو فضا ہی میں پڑتی ہے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم سچی، صاف، اور باوقار نسل چاہتے ہیں تو امومت، گھریلو ماحول، اور ماؤں کی اخلاقی تربیت کو ثانوی نہیں سمجھ سکتے۔ صدق و صفا کا پہلا مدرسہ ماں کی آغوش ہے۔

مثال

جیسے کسی خوش ذائقہ پھل کی مٹھاس اس درخت کی جڑ اور مٹی سے وابستہ ہوتی ہے، ویسے ہی اولاد کی سیرت اور اس کے صدق و صفا کی اصل اس ابتدائی تربیت سے وابستہ ہوتی ہے جو ماں سے ملتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک اولاد کی سیرت اور اس کے اندر سچائی و پاکیزگی کا جوہر ماؤں کی تربیت سے پیدا ہوتا ہے۔ امومت ہی نسل کے باطن کی پہلی اور سب سے اثر انگیز معمار ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button