رموز بے خودی

آن یکی شمع شبستان حرم

آن یکی شمع شبستان حرم

حافظ جمعیت خیرالامم

ترجمہ

ان میں سے ایک حرم کی شبستان کا چراغ ہے، اور بہترین امت کی جمعیت و وحدت کا محافظ ہے۔

تشریح

یہ شعر حضرت امام حسن علیہ السلام کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ اقبال انہیں “شمعِ شبستانِ حرم” کہتے ہیں، یعنی وہ ایسی روشن ہستی ہیں جو تقدس، سکون، اور پاکیزگی کے ایک باوقار دائرے میں روشنی دیتی ہے۔ شمع صرف جگمگاہٹ نہیں دیتی، وہ ماحول کو مانوس بھی بناتی ہے، حدود کو روشن بھی کرتی ہے، اور تاریکی میں راستہ بھی دکھاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک حضرت امام حسن علیہ السلام کا کردار اسلامی تاریخ میں اسی نورانی اعتدال، وقار، اور سکون کا مظہر ہے۔

“حافظ جمعیت خیرالامم” اس شعر کے معنی کو اور واضح کر دیتا ہے۔ خیر الامم یعنی امتِ مسلمہ کی جمعیت، اس کی باہمی وحدت، اور اس کے اجتماعی وجود کو محفوظ رکھنا ایک عظیم کام تھا۔ حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنے کردار میں اسی جمعیت کو مقدم رکھا۔ اقبال ان کے صلح پسند فیصلے، ان کے حلم، اور امت کے باہمی خون ریز تصادم کو روکنے کے لیے ان کی عظیم قربانی کو امت کی اجتماعی شیرازہ بندی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس طرح وہ حضرت فاطمہ الزہراء کی امومت کو ایک بار پھر اس کے ثمرات کے ذریعے جلال اور جمال دونوں کے ساتھ دکھاتے ہیں۔

شمعِ شبستان کا استعارہ:

شبستان داخلی سکون، تقدس، اور باطنی زندگی کی جگہ ہے۔ وہاں جلنے والی شمع شور نہیں مچاتی بلکہ خاموشی سے روشنی دیتی ہے۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی سیرت میں یہی روشنی ملتی ہے: حلم، وقار، نرمی، اور ایسی بصیرت جو امت کو اندر سے محفوظ رکھے۔ اقبال اسی لیے انہیں شمع کے استعارے سے بیان کرتے ہیں۔

جمعیت کی حفاظت:

جمعیت سے مراد محض لوگوں کا اکٹھا ہونا نہیں بلکہ دلوں کا ربط، خون کے بہاؤ کا رکنا، اور ملت کے اجتماعی وجود کا بچ جانا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ بہت بڑی دینی اور اخلاقی خدمت ہے۔

حضرت امام حسن علیہ السلام نے اسی خیر کو اپنی ذات کے دائرے سے اوپر رکھ کر امت کے لیے محفوظ کیا۔ یہی ان کی عظمت کا خاص پہلو ہے۔

حلم اور قوت:

عام نگاہ کبھی کبھی نرمی اور صلح کو کم زوری سمجھ لیتی ہے، مگر اقبال کے نزدیک حقیقی حلم ایک بڑی قوت ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو انا، انتقام، اور فوری غلبے سے اوپر اٹھ کر بڑے خیر کو دیکھتی ہے۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی روشنی اسی باطنی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ امت کے دل کی حفاظت کا کام انجام دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلم معاشروں اور عمومی انسانی زندگی میں بھی اختلافات کو بڑھانا آسان اور انہیں سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال ہمیں ایک ایسے نمونے کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں وقار کے ساتھ وحدت کی حفاظت کی گئی۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر فتح تلوار سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات امت کی اصل خدمت اس میں ہوتی ہے کہ اس کی جمعیت بکھرنے نہ پائے، اور یہی حضرت امام حسن علیہ السلام کی نورانی میراث ہے۔

مثال

جیسے گھر کے اندر جلنے والا ایک چراغ سب کو اپنی اپنی جگہ دکھا کر ٹکراؤ سے بچا لیتا ہے، ویسے ہی حضرت امام حسن علیہ السلام کا حلم امت کے شیرازے کو بکھرنے سے بچانے والی روشنی بن جاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت امام حسن علیہ السلام کو امت کی جمعیت کے محافظ اور باطنی سکون کی شمع قرار دیتے ہیں۔ ان کا حلم اور وحدت پسندی حضرت فاطمہ الزہراء کی امومت کا ایک عظیم ثمر ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button